اسلام آباد:یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کے سامنے جنگ بندی کے لیے 51 ارب ڈالر ہرجانے اور یمن کی حکمران قوت کے طور پر باضابطہ تسلیم کیے جانے کی شرط رکھ دی۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سعودی عرب نے حوثیوں سے رابطہ کرکے حملے روکنے کے ممکنہ معاہدے پر بات چیت کی تھی۔ یہ رابطہ بحیرہ احمر میں سعودی تیل بردار جہازوں پر حملوں اور باب المندب کے قریب اہم علاقوں پر قبضے کے بعد کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے 51 ارب ڈالر کا مطالبہ سعودی فضائی حملوں اور طویل ناکہ بندی سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے کیا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ تنازع ختم کرنے کے لیے سعودی عرب کو بھاری مالی ادائیگی کرنا ہوگی۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں لڑائی دوبارہ شدت اختیار کرگئی ہے اور حوثیوں نے سعودی تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا۔ حوثی یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے مرکز عدن سے تقریباً 50 میل کے فاصلے تک پہنچ چکے ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سعودی عرب کے لیے حوثیوں کے خلاف مزید زمینی فوجی کارروائی مشکل فیصلہ ہے کیونکہ اس میں جانی نقصان اور اندرون ملک ردعمل کا خدشہ موجود ہے۔











