امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے لیے پولنگ ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور مختلف ریاستوں سے ابتدائی نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے 45 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ ریپبلکنز 36 نشستیں جیت سکے ہیں۔ ایوان نمائندگان کے 435 ارکان میں سے ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس 113 اور ریپبلکنز 62 نشستیں حاصل کرچکے ہیں۔ یہ نتائج غیر حتمی ہیں۔
ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹک امیدواروں نے کئی اہم نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ ریاست ورجینیا سے ڈیموکریٹک سینیٹر مارک وارنر نے ریپبلکن امیدوار برٹ میزوساوا کو شکست دے کر سینیٹ کی چوتھی مدت حاصل کرلی ہے۔
فلوریڈا سے ڈیموکریٹک رہنما ڈیبی واسرمین شلٹز نے اپنی نشست کا کامیابی سے دفاع کیا جبکہ کینٹکی کے تیسرے کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے مورگن میک گاروی بھی دوبارہ منتخب ہوگئے۔
جارجیا کے 13ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے جیسمین کلارک نے کامیابی حاصل کی جبکہ اسی ریاست کے پانچویں ضلع سے نیکیما ولیمز دوبارہ ایوان نمائندگان کے رکن منتخب ہوگئے۔
فلوریڈا کے دسویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ڈیموکریٹک امیدوار میکسویل فراسٹ بلا مقابلہ دوبارہ منتخب ہوگئے جبکہ لوئس فرینکل اور لوسی میک باتھ نے بھی اپنی نشستیں برقرار رکھیں۔
دوسری جانب ریپبلکن رہنما ہال راجرز نے کینٹکی کے پانچویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے کامیابی حاصل کرلی جبکہ فلوریڈا کے 19ویں ضلع سے جم شوارٹزل بھی ایوان نمائندگان کے رکن منتخب ہوگئے۔
امریکی میڈیا کے مطابق الاباما، ڈیلاویئر، فلوریڈا، الینوائے، میساچوسٹس، مین، مسی سپی، نیو ہیمپشائر، نیو میکسیکو، ٹیکساس، ساؤتھ ڈکوٹا اور وائیومنگ سمیت مختلف ریاستوں میں بھی ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔











