تحریر: اعجاز چیمہ
مسلم لیگ ن کا یہ خاصہ رہا ہے کی جب بھی انہیں اقتدار ملا۔ انہوں نے سڑکیں، موٹر ویز، ہائی ویز بنانے کو اپنی ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے عوام کو میعاری آرام دہ اور سستی سفری سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات کیے ۔ماضی میں لاہور، ملتان اور راولپنڈی ایسے مختلف شہروں میں میٹرو بس سمیت کئی منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائے۔ اب اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے وزیراعلی’ پنجاب مریم نواز شریف نے مختلف شہروں میں الیکٹرک بسوں کے آغاز کے بعد مزید بڑے شہروں میں میٹرو بس منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ اور گوجرانوالہ میں میٹرو بس منصوبہ پر کام کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ جو ایک سال کی مدت میں مکمل کیا جائے گا۔ اس منصوبے پر باسٹھ ارب روپے سے زیادہ کی خطیر رقم خرچ ہوگی جبکہ اس منصوبہ سے روزانہ 51000 مسافروں کے سفر کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اکتیس کلومیٹر پر محیط یہ روٹ موڑ ایمن آباد سے شروع ہوگا اور گوجرانوالہ کے اندر سے ہوتا ہوا راہوالی اور گکھڑ پر جاکر ختم ہوگا۔ اس روٹ پر پچیس اسٹیشن بنانے کا منصوبہ ہے۔ اس منصوبہ کی خاص بات یہ ہے کہ اسے ماحول دوست بنانے کیلئے اس پر تمام چھتیس بسیں الیکٹرک ہوں گی جس سے آلودگی کے مسئلہ کا حل بھی نکل آئے گا ۔ موجودہ حالات میں یہ منصوبہ گوجرانوالہ اور اس کے مضافاتی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لئے ایک بڑا تحفہ ہے اور اس صنعتی شہر میں عام شہریوں سمیت تجارتی مقاصد کے لئے آنے والے افراد اور مزدوروں کے لئے بڑی سہولت فراہم کرے گا۔ اور اس منصوبے کو علاقے کی ترقی کیلئے سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔
اس منصوبے پر مختلف حلقوں کیجانب سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض حلقے تو اس منصوبے کو بالکل ہی غیر ضروری قرار دیتے ہیں اور اس کی کھل کر مخالفت کرتےنظر آتے ہیں ان کے نزدیک اس منصوبے پر اربوں روپے خرچ کرنے کی بجائے الیکٹرک بسوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا جاتا تو علاقے کی عوام کو نسبتاً کم بجٹ میں سفری سہولت کی فراہمی کا مقصد پورا ہو سکتا تھا۔ اور بعض کو اسکے روٹ پر اعتراض ہے ان کمطابق ایمن آباد سے گکھڑ ایک ادھورا روٹ ہے اگر اسے بنانا ہی تھا تو پھر کامونکی سے وزیرآباد تک بنانا چاہئے۔
کیونکہ کامونکی اور وزیرآباد دونوں گوجرانوالہ کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہیں گو کے وزیر آباد کو ضلع کا درجہ مل گیا ہے۔ مگر اس سے وزیر آباد کا جغرافیائی نقشہ تو نہیں بدل گیا۔ ان میں شامل تمام علاقوں کو اگر دیکھا جائے تو کامونکی ایک بڑے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ اجناس کی ایک بڑی منڈی کا درجہ بھی رکھتا ہے اور روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس شہر سے گوجرانوالہ کی طرف سفر کرتے ہیں اور ویسے بھی جی ٹی روڈ پر لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے یہ سب سے اہم شہر ہے۔ اگر اس شہر کو شامل کر لیا جاتا تو ایک بڑی آبادی کو فائدہ پہنچ سکتا تھا۔ دوسرا یہ کہ لاہور میٹرو بس کا توسیعی منصوبہ جس کا پہلے ہی اعلان ہو چکا ہے جس کے بعد لاہور میٹرو بس کو کالا شاہ کاکو تک بڑھانے کی بات ہورہی ہے اس کو بھی اگرمریدکے تک لے جایا جائے تو پورے علاقے کی تقدیر بدل جائے۔ اس طرح لاہور اور گوجرانوالہ کا درمیانی فاصلہ کم ہو سکتا تھا۔
دوسری طرف جو میٹرو گکھڑ تک جا سکتی ہے تو اسے مزید آٹھ دس کلومیٹر بڑھا کر وزیر آباد تک لے جانے میں کیا حرج ہے ۔اگرچہ اس سے منصوبے کی لاگت میں کچھ فرق پڑے گا مگر عوام کی ایک بڑی تعداد اس سے مستفید ہو گی۔ اگر اس منصوبے کی تکمیل کے بعد اس کی توسیع کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو اسکی لاگت کئی گنا زیادہ ہو گی۔ دیکھا جائے تو وزيرآباد ناصرف ایک اہم ضلع ہے بلکہ سیالکوٹ، ڈسکہ، گجرات اور منڈی بہاؤ الدین کو ملانے والا بڑا جنکشن بھی ہے۔ اس لئے میٹرو بس منصوبے میں وزیر آباد کو نظرانداز کرنا منصوبہ کی افادیت پر سوالیہ نشان ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ گوجرانوالہ میٹرو بس پراجیکٹ خالصتا” ڈی ایچ اے( DHA) گوجرانوالہ کی اہمیت کو بڑھانے کیلئے بنایا گیا ہے۔ اس لئے شاید ان کا مقصد گکھڑ تک پورا ہو جاتا ہے۔ اگر عوام کی سہولت کو ترجیح دی جاتی تو وزیر آباد کو ضرور شامل کیا جاتا۔ اس وقت جب حکومت کفایت شعاری کی بات کرتی ہے تو ایسے میں اس طرح کے پراجیکٹس بنانے پر يقينا تنقید بھی کی جارہی ہے اور کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ابھی گوجرانوالہ جیسے شہر میں اتنے بڑے سگنل فری کوریڈور بنانے کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن دیکھا یہی گیا ہے کہ ٹرانسپورٹ کے بہتر ذرائع ملنے سے بہت سارے دیہی اور غیر اہم علاقے بھی ترقی کرنے لگتے ہیں۔
اس سے پہلے بھی ہم دیکھ چکے ہیں کہ موٹر وے کی تعمیر کے موقع پر اور لاہور و پنڈی میٹرو بس کے آغاز پر بھی کچھ لوگوں کی طرف سے ایسی تنقید سننے کو ملتی رہی ہے اور اگر آج ہم دیکھتے ہیں تو ان منصوبوں کے بغیر زندگی ناممکن سی دکھائی دیتی ہے۔ یقینا انے والے دنوں میں گوجرانوالہ میٹرو ٹرانسپورٹ منصوبہ بھی گوجرانوالہ کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوگا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس میٹرو منصوبے سے علاقےکے عوام کو ایک بڑی سفری سہولت میسر ہوگی۔ اور وہ اس پر خوش اور مطمئن ہیں۔ مگر ایک طبقہ ایسا ہے جو تشویش میں مبتلا ہے اور پریشان نظر آرہاہے وہ گوجرانوالہ اور گکھڑ کا تاجر طبقہ ہے ۔ جن کے کاروبار متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کی دکانیں، مارکیٹس، اور ذاتی املاک اس منصوبے کی ذد میں آرہے ہیں۔ جہاں پر ناجائز تجاوزات ہیں ان کو ہٹانے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں تاہم
گورنمنٹ کو چاہیئے کہ میٹرو بس کے ٹریک کو اس طرح سے ڈیزائن کرے کہ لوگوں کی دکانوں اور املاک کو کم سے کم نقصان پہنچے۔ اور جہاں کاروباری جنکشن یا املاک وغیرہ کے نقصان کا زیادہ خدشہ ہو وہاں پر فلائی اوور یا زیر زمین ٹریک کا متبادل آپشن اختیار کیا جائے ۔ جبکہ اس تاثر کو بھی زائل کرنے کی ضرورت ہے کہ ڈی ایچ اے کی محض گرین بیلٹ کو بچانے کیلئے بس کے ٹریک کو سنٹر لائن کی بجائے ایک طرف کیا گیا ہے۔ جس سے گکھڑ میں اس طرف لوگوں کی دکانیں اور املاک زیادہ زد میں آنے کا خدشہ ہے۔
بہرحال گورنمنٹ کو چاہیئے کہ ان افراد کی دادرسی کرے جس کسی کی دکان ،املاک کاروبار اس منصوبے کی زد میں آئے اور ان کو ناصرف مناسب معاوضہ دے بلکہ انھیں دوبارہ اپنا کاروچلانے میں مدد بھی فراہم کرے کیونکہ جب کاروبار چلتے ہیں تو لوگوں کو روزگار ملتا ہے اور ملک میں خوشحالی آتی ہے۔ ایسے حالات میں جب پہلے ہی ملک معاشی مشکلات کا شکار ہے جس کی وجہ سے بیروزگاری بھی انتہا کو پہنچ چکی ہے تو حکومت کو ایسے کام کرتے ہوئے کئی بار سوچنا چاہیئے کہ لوگوں کے بزنس تباہ نہ ہوں۔











