پیارے پڑہنے والے ! تمہارے لئیے نوید مسرت ہے اور مجھے نہیں معلوم کہ اس خبر کو پڑھ کے تمہاری کیا کیفیت ہوگی مجھ پے تو شادی مرگ طاری ہے اور سمجھ نہی ا رہا کہ کیا کروں اور کیا نہ کروں ۔
جیسا کہ تمہیں معلوم ہی ہے کہ پچھلے دنوں حافظ آباد کے معزز ڈی پی او کے ٹاہلٹ کو بلا اجازت استعمال کرنے پے ایک نیشنل لیول کا مسلہ کھڑا ہو گیا تھا ۔ جس سے کہ حافظ آباد میں تیسری جنگ عظیم شروع ہو سکتی تھی ۔ وجہ فساد بھی بہت غیر معمولی تھی کہ ایم پی اے حافظ آباد کے فرزند جس کے ارجمند ہونے کے بارے میں مجھے کچھ پتا نہی۔۔۔ نے اپنے ڈیڈی کے ہمراہ ڈی پی او کے آفس کا دورہ کیا اور call of nature سے مجبور ہو کر ڈی پی او صاحب کا بیت الخلاء یا لیٹرین یا ٹوائلٹ ، واش روم یا ریسٹ روم ان کی اجازت کے بغیر استعمال کر لیا ۔
اس وقت عالی مقام ، عظیم المرتبت جناب ڈی پی او موقع واردات یعنی بیت الخلاء کے قریب موجود نہی تھے۔ لیکن شومئی قسمت دیکھیے کہ جب ملزم کامیابی کے ساتھ ارتکاب رفع حاجت کے لیٹرین سے نکل ہی رہا تھا تو آنجناب عالی وقار ڈی پی او صاحب موقع واردات یعنی جائے بیت الخلاء پے پہنچ گئے اور ملزم کو رنگے ہاتھوں ۔۔۔مطلب کے گیلے ہاتھوں پکڑ لیا۔ ذاتی
ریسٹ روم ایک پرائیویٹ جگہ ہوتی ہے ۔ آدمی کی سو پرائیویٹ چیزیں ہوتی ہیں جن کا پبلک کے ہاتھ لگنا بے حد خطر ناک ہو سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے ڈی پی او صاحب کو بواسیر یا کوئی
ایسی بیماری ہو جس کی وجہ سے دوسرے آدمی کی جان کو خطرہ لا حق ہو سکتا ہو۔ ۔۔۔ whatever, whatever….
سو وجوہات ہو سکتی ہیں ۔
دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ۔ جس کے نتیجے میں ڈی پی او صاحب ٹرانسفر ہو کے لاہور پہنچ گئے ۔
پیارے پڑھنے والے ! کیا خیال ہے لاہور ، حافظ آباد سے زیادہ رنگین اور دلکش شہر نہی؟ اور کیا اگر میں یہاں پنجابی کا محاور ۔۔۔۔ وہی کبے کی لت ۔۔۔ والا استعمال کروں تو زیادہ بہتر نہی ہو گا۔
بہرحال بات بڑہتی جا رہی تھی اور یار لوگ باتوں کے بتنگڑ بنانے میں لگے ہوئے تھے۔ عین ممکن تھا کہ بھٹیوں اور تارڑوں کے درمیان بات گالیوں سے گولیوں تک چلی جاتی ۔ عدالتی زبان میں کہتے ہیں
” Good sense prevailed ”
مطلب یہ کہ یکایک حافظ آباد کے داناوں ، بزرگوں اور وڈکیریوں نے عقل کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا کہ اس بکواس سی بات کا مکو یہیں ٹھپ دیا جائے تو بہتر ہے۔ چنانچہ سب نے سر جوڑا اور یہ کے لڑنے بھڑنے کے لئیے ٹوائلٹ کا استعمال ایک لغو اور واہیات وجہ پائی ۔ فاضل عدالت کو کیا بتایا جائے گا کہ یہ تنازعہ محض لیٹرین کے استعمال کی وجہ سے ظہور پزیر ہوا۔ لوگ ٹھٹھہ اڑائیں گے۔ وکیل صفائی کیا بتائے گا کہ ملزم نے حوائج ضروری سے مجبور ہو کر ارتکاب استعمال بیت الخلاء کیا تھا ۔ حوائج ضروری کی عدالتی تشریح پیش کی جائے گی ۔
Exhibit 1 کے طور پر کموڈ پیش کیا جائے گا اور عدالت میں کموڈ پیش کرنے کا کیا ہی عجب نظارہ ہو تا ۔
بہرحال اہلیان و مفکرین حافظ آباد نے کمال دانائی اور پیش بندی سے کام لے کر ۔۔ اس نامعقول تنازعے پر بقول چوہدری شجاعت کے مٹی ڈال دی ہے ۔ سنا ہے کہ عنقریب اہالیان حافظ آباد ڈی پی او آفس کے سامنے پبلک ٹوائلٹ بنانے جا رہے ہیں۔
ڈی پی او صاحب فورٹریس اسٹیڈیم یا ریس کورس گراونڈ میں سیر کرتے ہوئے سوچیں گے کہ یار میں زرا خود پے قابو رکھتا تو آج بھی حافط آباد میں موجیں کر رہا ہوتا۔ حافظ آباد کے نئے ڈی پی او صاحب نے بھی اس واقعے سے بہت کچھ سیکھا ہو گا کہ ایم پی اے دا منڈا اگر ٹوائلٹ استعمال کر لے تو اسے گیٹ لاسٹ نہی کہنا ۔
ویسے میری اس برخوردار سے درخواست ہے کہ ڈی پی او آفس یا کہیں بھی جانا ہو تو گھر سے ہی حوائج ضروریہ سے فارغ ہو کر جانا چاہئے ۔
تسی اپنی پھپھی ول نہی جا رے ۔











