تحریر ۔ شاہد شکیل
پاکستان میں ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ بیماری اکثر دیر سے پکڑی جاتی ہے۔ مسئلہ صرف بیماری کا نہیں بلکہ اس تاخیر کا ہے جو اس کے گرد موجود ہوتی ہے، اور یہی تاخیر ایک قابلِ علاج مسئلے کو ایک سنجیدہ خطرے میں تبدیل کر دیتی ہے۔ بریسٹ کینسر اور پروسٹیٹ جیسے امراض طبی دنیا میں نئے نہیں ہیں۔ ان کی تشخیص کے طریقے موجود ہیں، علاج بھی ممکن ہے، اور اگر بروقت پتہ چل جائے تو بہت سی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے، مگر اس کے باوجود ایسے کیسز سامنے آتے ہیں جہاں بیماری اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ کافی بڑھ چکی ہوتی ہے۔ اس تاخیر کی ایک بنیادی وجہ ایک ہی ہے کہ ان موضوعات پر بات نہیں کی جاتی، یا بات کی جاتی ہے تو اسے سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ اگر جسم میں کوئی تبدیلی محسوس ہو تو اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اگر علامات ظاہر ہوں تو انہیں وقتی مسئلہ سمجھ کر ٹال دیا جاتا ہے، اور اگر مسئلہ حساس نوعیت کا ہو تو اسے بیان کرنے میں جھجھک پیدا ہو جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بیماری اپنی رفتار سے بڑھتی رہتی ہے اور علاج کا موقع کم ہوتا جاتا ہے، اور یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں ایک سادہ مسئلہ پیچیدہ شکل اختیار کر لیتا ہے۔
بریسٹ کینسر کے حوالے سے یہی صورتحال بار بار سامنے آتی ہے کہ معائنہ دیر سے ہوتا ہے اور مریض اس وقت ڈاکٹر کے پاس پہنچتا ہے جب بیماری آگے بڑھ چکی ہوتی ہے۔ پروسٹیٹ کے مسائل میں بھی یہی رجحان دیکھا جاتا ہے کہ ابتدائی علامات کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا اور علاج میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ اسی طرح جیسے امراض میں بھی بروقت ٹیسٹ نہ کروانے کی وجہ سے مسئلہ چھپا رہتا ہے، اور جب بیماری پوشیدہ رہتی ہے تو اس کے پھیلنے یا بڑھنے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔ یہ کوئی پیچیدہ سائنسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سیدھا انسانی رویہ ہے کہ جس چیز پر بات نہ کی جائے وہ مسئلہ حل بھی نہیں ہوتا، بلکہ وقت کے ساتھ مزید بڑھتا ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر بیماری کا بروقت پتہ چل جائے تو کیا علاج واقعی ممکن ہے، یا یہ صرف ایک نظری بات ہے۔ اس کا جواب واضح ہے کہ بہت سی صورتوں میں علاج نہ صرف ممکن ہے بلکہ مؤثر بھی ہے، اور یہی وہ پہلو ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کے حوالے سے دنیا بھر میں اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی جیسی جدید ادویات موجود ہیں جو وائرس کو مکمل طور پر ختم تو نہیں کرتیں لیکن اسے اس حد تک کنٹرول کر دیتی ہیں کہ انسان ایک طویل اور نسبتاً معمول کی زندگی گزار سکتا ہے۔ اگر علاج باقاعدگی سے جاری رکھا جائے تو وائرس کی مقدار بہت کم ہو سکتی ہے اور اس کے پھیلنے کا خطرہ بھی نمایاں حد تک کم ہو جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ بروقت تشخیص اور مسلسل علاج ایک بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔
اسی طرح بریسٹ کینسر میں بھی علاج کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ بیماری کس مرحلے پر پکڑی گئی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں سرجری، ریڈی ایشن اور ادویات کے ذریعے کامیاب علاج کے امکانات کافی زیادہ ہوتے ہیں، اور مریض معمول کی زندگی کی طرف واپس آ سکتا ہے۔ لیکن اگر بیماری دیر سے سامنے آئے تو علاج زیادہ مشکل، طویل اور بعض اوقات محدود ہو جاتا ہے۔ پروسٹیٹ کے مسائل میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے جہاں ابتدائی مرحلے میں ادویات یا سادہ طریقۂ علاج کافی ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ بعد کے مراحل میں سرجری یا دیگر پیچیدہ طریقے اختیار کرنے پڑتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیماری کا مرحلہ جتنا ابتدائی ہوگا، علاج اتنا آسان اور مؤثر ہوگا، اور جتنا تاخیر ہوگی، مسئلہ اتنا ہی پیچیدہ ہوتا جائے گا۔
دنیا بھر میں ادارے مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بیماریوں پر قابو پانے کے لیے صرف علاج کافی نہیں بلکہ بروقت تشخیص اور آگاہی بنیادی شرط ہے۔ جہاں معلومات ہوتی ہے وہاں بیماری جلد سامنے آتی ہے اور جہاں خاموشی ہوتی ہے وہاں تاخیر ہوتی ہے، اور یہی تاخیر مسائل کو بڑھا دیتی ہے۔ پاکستان میں بھی طبی سہولیات، ڈاکٹرز اور ٹیسٹ کے ذرائع موجود ہیں، سرکاری اور نجی سطح پر ایسے مراکز کام کر رہے ہیں جہاں ان بیماریوں کی تشخیص اور علاج کیا جا سکتا ہے، اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ علاج دستیاب نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ علاج تک پہنچنے میں تاخیر ہو جاتی ہے، اور یہی تاخیر سب سے بڑا خطرہ بن جاتی ہے۔
جب تک بیماری سامنے نہیں آتی وہ بڑھتی رہتی ہے، جب تک علامات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا وہ شدید ہوتی جاتی ہیں، اور جب تک معائنہ نہیں کروایا جاتا مسئلہ واضح نہیں ہو پاتا۔ اسی لیے اس معاملے کو صرف طبی زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ یہ ایک سماجی پہلو بھی رکھتا ہے جہاں خاموشی، جھجھک اور لاعلمی بیماری کو مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ بیماری کو کب سنجیدگی سے لیا جاتا ہے، کیونکہ بروقت تشخیص اور علاج کے درمیان جتنا کم فاصلہ ہوگا اتنے ہی بہتر نتائج سامنے آئیں گے، اور جتنا زیادہ یہ فاصلہ بڑھے گا اتنا ہی مسئلہ پیچیدہ ہوتا چلا جائے گا، اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔











