بجٹ 2026- 2027کا شور شرابا ء ختم ہوا، ایم کیوایم نے بجٹ سے قبل شرائط رکھیں کہ ہمارا سندھ کا گورنر واپس نہیں لایا گیا تو ہم بجٹ کی منظوری کیلئے ووٹ نہیں دینگے، پی پی پی NFC ایوارڈ پر مذاکرات کرتی رہی ، گلگت بلتستان میں بقول بلاول انکا مینڈیٹ چوری کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اسلئے انہوں نے اپنی جماعت کوبجٹ اجلاس میں شرکت کی معذرت کردی ، ایم کیو ایم کو تو ہرحال میں سابقہ تنخواہ پر کام کرنا ہوتا ہے ، ہاں مگر پی پی پی کے نخرے برداشت کرنا ضروری ہوتے ہیں کہ وہ ایک بڑی اتحادی ہے، نائب وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے دیگر رہنماء آخر وقت تک روٹھوں کو مناننے کی کوشش کی، مگر کامیابی نہ ہونے کی وجہ سے سرگرم اور ہر مرض کی دوا وزیر داخلہ محسن نقوی نے کمان سنبھالی، جب وہ ایران کو معاہدے کی طرف راضی کرسکتے ہیں تو پی پی پی تو گھر کا مسئلہ ہے بلاول سے ملاقات کے چند منٹوں بعد بلاول اسمبلی میں اپنے تمام اراکین کے ہمراہ اسمبلی میں موجود تھے جو ایک مستحسن اقدام تھا، حزب اختلاف جو بھی ہو اسے تو شور مچانا ضروری ہے بہ حیثیت ممبر اسمبلی انہیں بھی فی ممبر 7لاکھ 30ہزار ماہانہ ملتا ہے بشمول مراعات ، یہ رقم سرکاری اور واضح ہے باقی ترقیاتی فنڈز۔اسطرح 323 ممبران پرمشتمل اس اسمبلی کے ممبران عوام کا تقریبا 23 کروڑ ماہانہ خرچ ہوتا ہے تو جناب اس اسمبلی نے وفاقی بجٹ منظور کرلیا ، بجٹ اعداد و شمار کھیل ہوتاہے جو عوام کی سمجھ سے بالا تر ہوتا ہے انہیں تو بجٹ کا جب معلوم ہوتا ہے جب وہ روز مرہ زندگی کیلئے بازار جاتے ہیں اور قیمتیں دیکھ کر انکی چیخیں نکل جاتی ہیں اور حزب اختلاف جو بھی ہو وہ بغلیں بجاتی ہے۔ جتنی مشکلا ت عوام کو ہوتی ہیں اس میں مزید مرچ مصالحہ ملا کر عوام کو بتاتی ہے، مجھے یاد ہے کہ جب سابق وزیراعظم میاں نواز شریف 2013ء میں وزیر اعظم بنکر جدہ آئے تھے انکی رہائش گاہ پر ملاقات ہوئی تھی ان سے میٰں نے دریافت کیا تھا کہ میاں صاحب معیشت کے حوالے سے کیا پالیسی ہو گی، میاں صاحب نے بتایا کہ ہماری بھر پور کوشش ہے کہ معیشت کو بہتری کی طرف لے جائیں، انکے ہمراہ اسوقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی موجود تھے، انہوں نے تفصیلات بتانے کیلئے وزیر خزانہ کو کہا، انہوں نے اعداد و شمارکے طویل حوالے دئے ، کچھ دیر
سن کر میں نے معذرت کے ساتھ میاں صاحب کو کہا کہ بہت مختصر سوال تھا جسکا آپ نے جواب دے دیا کہ معاملات بہتری کی طرف جائینگے جسکے لئے آپ کے پاس پالیسی ہے مگر یہ اعداد و شمار میری سمجھ سے باہر ہیں تو عوام کو کیا سمجھ آئینگے آپ نے تو ہمیں ”ٹرک کی لال بتی کے پیچھے لگا دیا “ ڈار صاحب کا بہت بہت شکریہ۔ حالیہ بجٹ 2026- 2027میں بھی اعداد و شمار کی جادو گری کے ذریعے وفاقی وزیر خزانہ اور دیگر وزرا عوام کو جو طفل تسلیاں دے رہے ہیں ان کا کوئی خاص اثر اس لیے نہیں ہوگا کہ عوام اس بات سے بخوبی واقف ہو چکے ہیں کہ موجود نظام سے خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی، لہٰذا وہ حکومتی عہدیداروں کی باتوں کو سنتے تو ہیں لیکن ان پر زیادہ توجہ نہیں دیتے۔ عوام کے سیاسی قیادت سے بیزار ہونے کی ایک بڑی اور اہم وجہ یہ بھی ہے کہ سیاست دان اپنے ذاتی اور گروہی مفادات پر زد نہیں پڑنے دیتے اور ہر موقع پر عوام کو قربانی کا بکرا بنانے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک مثال بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے لیے جانے والے قرضے کی ہے۔ نیز اندرونی قرض ہے جسے واپس کرنے کیلئے ہمیں مزید قرض لینا پٹرتا ہے اور ملک قرض
کی دلدل میں پھنستا جارہے اگر یہ معیشت کو مثبت اور سخت انداز میں ترقی دینے کی پالیسیاں نہیں اپنائی گئیں تو ہم صرف قرض لینے والا
ملک بن جائینگے وزیر خزانہ نے اپنی پریس کانفرنس میں جو کچھ کہا اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ موجودہ حکومت معاملات میں سدھار پیدا کرنے کے لیے کس حد تک سنجیدہ ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران وزیر موصوف کا کہنا تھا کہ ہمارے پڑوسی ملک کا گروتھ ریٹ 8 فیصد سے زائد رہا ہے مگر بے روزگاری وہاں بھی موجود ہے، ہم بھی آٹھ فیصد پر اگر لے کر جائیں گے اور اگر آبادی ہر سال ڈھائی فیصد کے حساب سے بڑھتی رہی تو یہ 40 کروڑ تک پہنچ جائے گی ہم نہ جانے کیوں عوام کو مطمین کرنے کیلئے ’پڑوس“کا حوالہ دیتے ہیں، حوالہ دیتے ہوئے انکی آبادی جو ہم سے کئی گناء زیادہ ہے اسے مدنظر نہیں رکھتے، یہ بات وزیر خزانہ کی ٹھیک ہے کہ ہماری بڑھتی ہوئی آبادی معیشت کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ دوسرا یہ کہ ہمارے ہاں بڑھتی ہوئی آبادی سے زیادہ بڑا مسئلہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور اشرافیہ کا حد درجہ بے حس ہونا ہے، یعنی ایک طرف ماہانہ لاکھوں روپے تنخواہ پانے والے سرکاری افسروں کو مکان، گاڑی، پٹرول، بجلی اور ہر قسم کی سہولت مفت مہیا کی جا رہی ہے اور دوسری جانب دو دو نوکریاں کرکے چالیس پچاس ہزار ماہانہ کمانے والوں کا خون نچوڑا جا رہا ہے۔لگتا ہے کہ وزیر خزانہ کی تقریر کا مقصد یہ تھا کہ حکومت کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ عوام کی کیا درگت بن رہی ہے اس لیے وہ جو کچھ کر رہی ہے وہ سب جوں کا توں چلتا رہے گا۔ حکومت معیشت کی جس بہتری کے دعوے کرتی ہے اس کا کوئی اثر عام آدمی کی زندگی میں تو نظر نہیں آ رہا البتہ اشرافیہ کے حالات میں یقینا بہتری آئی ہے اور اگر اس کو پیمانہ بنایا جائے تو ملک واقعی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ عام آدمی کے حالات میں بہتری لانے کے لیے حکمران طبقے میں اس بات کا احساس پیدا ہونا چاہیے کہ عوام کے مسائل کیا ہیں اور قابلِ قیاس مستقبل میں اس بات کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا کہ حکمران طبقے میں ایسا کوئی احساس پیدا ہو گا۔معاشی ترقی کا پہلا ستون ٹیکس نظام کی بہتری ہے۔ پاکستان میں ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد ملکی آبادی کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے اور تمام شعبوں کو مساوی بنیادوں پر قومی خزانے میں حصہ ڈالنے کا پابند بنایا جائے۔ جب ٹیکس کا بوجھ منصفانہ انداز میں تقسیم ہوگا تو حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے زیادہ وسائل دستیاب ہوں گے۔دوسرا اہم شعبہ برآمدات کا فروغ ہے۔ دنیا کے وہ ممالک تیزی سے ترقی کرتے ہیں جو عالمی منڈیوں میں اپنی مصنوعات اور خدمات فروخت کرتے ہیں۔ پاکستان کو ٹیکسٹائل کے ساتھ ساتھ آئی ٹی، فارماسیوٹیکل، انجینئرنگ مصنوعات اور زرعی شعبے میں برآمدات بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔ نوجوان آئی ٹی ماہرین اور فری لانسرز ملک کے لیے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ کما سکتے ہیں۔سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پالیسیوں میں تسلسل اور شفافیت ضروری ہے۔ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار صرف اسی وقت سرمایہ لگاتے ہیں جب انہیں قانون کی حکمرانی، پالیسیوں کے استحکام اور کاروباری سہولتوں کا یقین ہو۔ پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز اور صنعتی پارکس کو فعال بنا کر بڑی سرمایہ کاری حاصل کی جا سکتی ہے۔زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ جدید بیج، آبپاشی کے بہتر نظام، زرعی تحقیق اور کسانوں کو آسان قرضوں کی فراہمی سے پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر زرعی شعبہ ترقی کرے تو نہ صرف غذائی تحفظ مضبوط ہوگا بلکہ برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔اس کے ساتھ ساتھاہم پہلو جو معیشت کیلئے زہر ہے کرپشن، اسمگلنگ اور سرکاری وسائل کے ضیاع کے خلاف سخت اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ قومی وسائل کی شفاف اور مؤثر نگرانی سے ترقیاتی منصوبوں کے نتائج بہتر ہوں گے اور عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی ملکی ترقی میں اہم کردار اداکر سکتے ہیں۔
حکومت اگر ان کے لیے محفوظ اور منافع بخش سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرے تو ترسیلات زر کے ساتھ ساتھ براہِ راست سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ممکن ہے۔بجٹ وہ ہوتا ہے جو عوام کو سہولیت دے،











