پیارے پڑہنے والے! سان فرانسسکو میرا دلدار، دلبہار شہر ہے۔ میں نے اس دلکش اور پر جمال شہر میں زندگی کے دس برس گزارے ہیں، اور اس کے حسن کی انتہا یہ ہے کہ ہر روز مجھے لگتا تھا جیسے میں اج اسے پہلی مرتبہ دیکھ رہا ہوں ۔ اس کا مبہوت و مسحور کر دینے والا حسن آج بھی میرے دل پے نقش ہے اور میں اس شہر کے چپے چپے ، کونے کونے سے واقف ہوں ۔ رقبے , حجم اور ابادی کے اعتبار سے ایک چھوٹا سا شہر ہے ۔ سات میل لمبا ، سات میل چوڑا جس کی کل ابادی 750000 ہزار ہے ۔ یہ ان کی مینجمنٹ کا کمال ہے کہ ان دس سالوں میں یہ ابادی اتنی ہی رہی جتنی کہ دس سال پہلے تھی۔ یہ رنگا رنگ شہر دنیا بھر کے سیاحوں کی مرغوب و محبوب ترین سیاحتی منزل ہے ۔ گرمیوں میں دنیا جہان کے لوگ اس شہر کا رخ کرتے ہیں ۔ جغرافیائی اعتبار سے یہ ایک پہاڑی شہر ہے اور ایسے شہروں کی گلیاں اور سڑکیں عام طور پر تنگ ہوتی ہیں لیکن جس کسی نے بھی اس کو ڈیزائن کیا وہ یقیناً بہت فراخ دل ہو گا کہ پہاڑی شہر ہونے کے باوجود اس کی گلیاں کشادہ اور سڑکیں فراخ ہیں ۔یہ شہر پانچ ڈسٹرکٹس میں منقسم ہے ۔ رچمنڈ ڈسٹرکٹ، مشن ڈسٹرکٹ، فنانشل ڈسٹرکٹ، سن سیٹ ڈسٹرکٹ اور میرینہ ڈسٹرکٹ ۔ اس شہر کی ایک خوبصورتی اس کی ابادی کا تنوع ہے ۔ یہاں آپ کو دنیا کے ہر کونے سے آیا ہوا ہر رنگ و نسل کا بندہ نظر آئے گآ ۔ طرح طرح کے ریسٹورنٹس ہیں جہاں آپ کو دنیا کے ھر ذائقے کا کھانا مل جائے گا۔ اس شہر کے تین اونچے مقام ہیں ، پیسفک ہائٹس، ڈائمنڈ ہائٹس اور برنل ہائٹس، جہاں سے یہ سارا شہر نظر آتا ہے ۔ شہر سے نکلنے کے تین راستے ہیں ، بے برج، روٹ 280 اور گولڈن گیٹ برج ۔ گولڈن گیٹ برج پار کرتے ہی ایک بہت ہی چھوٹا مگر بے پناہ خوبصورت شہر ہے جس کا نام ہے سالسولیٹو۔ کبھی کبھی ویک اینڈ پے میں وقت گزارنے سالسو لیٹو چلا جاتا تھا ۔ ساحل کے ساتھ ساتھ تھوڑے تھوڑے فاصلے پے لوگوں کے بیٹھنے کے لئیے بنچ رکھے تھے۔ میں بھی کافی سینڈوچ لے کے کسی بنچ پے بیٹھ جاتا اور وہاں سے سان فرانسسکو کا نظارہ کرتا یا پھر پیسفک اوشن سے آئے ہوئے مال بردار بحری جہازوں کو دیکھتا رہتا جو اوک لینڈ پورٹ جارہے ہوتے ۔ سان فرانسسکو اور سالسولیٹو کے درمیان وہی رسوائے زمانہ الکا ٹراز آئی لینڈ ہے جہاں امریکہ کہ خطرناک قیدیوں کو رکھا جاتا تھا ۔اس کا ریکارڈ ہے کہ اس جزیرے سے کبھی کوئی قیدی فرار نہی ہو پایا سوائے دو کے ۔ جن کے بارے میں آج تک یہ پتا نہی چل سکا کہ وہ ژندہ بچ پائے یا ڈوب گئے۔ یہیں بہت ساری فلمیں بنی ہیں جن میں سے ایک میری بے حد فیورٹ ہے Murder in the First.
سالسو لیٹو کے ساحل سے اگر آپ سان فرانسسکو کو دیکھیں تو ساری عمارتیں سفید رنگ کی دکھائی دیتی ہیں ۔
یہیں پے سیاحوں کے لئیے رنگ برنگا فشر مین وہارف ہے۔ یہاں سال میں بارہ مہینے میلہ لگا رہتا ہے، روشن سجی سجائی دکانیں ، ریسٹورنٹس اور ایک بیکری جہاں تازہ ڈبل روٹی بنتی ہے اور آپ شیشے کی دیوار کے باھر کھڑے ہو کر اس سارے پراسس کو دیکھ سکتے ہیں ۔ وقت گزاری کے لئیے یہ میری مرغوب ترین جگہ تھی ۔۔۔۔ ہرطرف رونق ، ہر طرف آتے جاتے سیاح ، کشتیوں میں سے اٹھتا ہوا موسیقی کا شور ۔ میں نے اپنی بہت ساری شامیں یہاں گزاری ہیں فشر مین وہارف کے اختتام پے ایک نسبتاً خاموش کونے میں، میں گاڑی پارک کرتا ، دو چار سگریٹ پیتا، کافی کے گھونٹ لیتا اور وہاں سے گزرتے ہوئے جہازوں کو دیکھتا رہتا اور رات گئے گھر لوٹ جاتا۔ حسب معمول ایک شام میں وہاں گیا۔ ایک جگہ سے کافی لی اور اپنے گوشہء تنہائی میں گاڑی پارک کر کے ایک بنچ پے بیٹھ کر کافی پینے لگا ۔ میرے بنچ کے عقب میں ایک جاگنگ ٹریک بنا ہوا تھا ۔ یہ مغرب سے تھوڑی دیر پہلے کی بات ہے۔ سورج غروب ہونے میں ابھی چند منٹ باقی تھے ۔ کافی پیتے پیتے میرا سگریٹ پینے کو دل چاہا ۔ کافی اور سگریٹ کا اپنا ہی مزہ ہے ۔ میں نے سگریٹ سلگایا اور کافی کے ساتھ سگریٹ کے کش لگاتا رہا ۔ سگریٹ ختم ہوا تو میں نے بے خیالی میں سگریٹ سمندر میں اچھال دیا۔ جیسے ہی میں نے سگریٹ سمندر میں پھینکا تو مجھے ایک انتہائی غصیلی نسوانی آواز میں ڈانٹ سنائی دی ،
This is not ashtray.
میں نے چونک کے آواز کی جانب دیکھا تو ایک بڑی خوبصورت امریکن لڑکی جس نے ٹریک سوٹ پہن رکھا تھا ۔ کمر پے دونوں ہاتھ رکھے مجھے دیکھ رہی تھی۔ اسی نے مجھے للکارہ تھا کہ یہ ایش ٹرے نہی سمندر ہے۔ میرے متوجہ ہونے پے اس نے دوبارہ بلند آواز میں اپنا فقرہ دہرایا ۔ پہلی دفعہ تو مجھے سمجھ نہیں آیا تھا کہ میں اپنے خیالوں میں مگن تھا۔ اب مجھے سمجھ آیا کہ اسے میرا سمندر میں سگریٹ پھینکنا برا لگا۔ اسی لئیے وہ مجھ پے چلائی تھی۔ میں نے اس کی طرف دیکھا اور بلند آواز میں سگریٹ سمندر میں پھینکنے پے معزرت چاہی۔ جواباً اس نے مجھے شکریہ کہا اور پھر سے جوگنگ ٹریک پے روانہ ہو گئی۔ اس نے مجھے جس آواز میں سگریٹ پھینکنے سے منع کیا تھا وہ توہین یا دھمکی آمیز نہی تھا بلکہ اس میں تنبیہہ تھی کہ سمندر کو گندہ مت کرو اور اس کا موقف درست تھا۔ مجھے سمجھ ا گئی کہ آئندہ سمندر میں سگریٹ بلکہ کچھ بھی نہی پھینکنا۔
بظاہر یہ ایک معمولی سی بات ہے لیکن یہ بات میں نے آپ کو اس لئیے سنائی کہ آپ کو پتا چل سکے کہ احساس شہریت civic sense کیا چیز ہوتی ہے۔ لوگ اپنے شہر کو own کرتے ہیں ۔ لا غرض یا لا تعلق نہی ہوتے ۔ اگر کوئی ان کے شہر کو گندہ کرتا ہے تو وہ آگے بڑھ کے اس کا رستہ روکتے ہیں۔
اس کے برعکس ہم لوگ جو بات بات پے صفائی کے موضوع پے حدیثیں اور اقوال زریں سناتے ۔ کیا آپ میں سے کبھی کسی نے آگے بڑھ کے کسی شاپر پھینکنے والے یا گندگی پھیلانے والے کو منع کیا کہ ایسا مت کرو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں یہ بات کسی نے سکھائی ہی نہی۔ ہمارے اندر جرات ہی نہی کہ ھم آگے بڑھ کے ٹوک سکیں کہ یہاں گندگی نہ پھیلائیں۔ اول تو ہمارے اندر جرات ہی نہی کہ ہم یہ کہہ سکیں دوسرا اس کا متوقع جواب بھی ہمیں پتا ہے کہ اگلا کیا کہے گا اور یہ کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ وہ متوقع جوابات یہ ہو سکتے ہیں۔
تیرے پیو دی جگہ اے،
توں ماما لگدا ایں،
تو کون ایں،
کج نہی ہندا۔
سویرے کمیٹی والے صاف کر دین گے۔ وغیرہ ، وغیرہ
آپ اس ڈر سے کہ کوئی آپ کے گلے نہ پڑ جائے ، آپ کی بے عزتی نہ کردے یا کوئی فساد نہ کھڑا ہو جائے ۔ بے شک آپ اس کو روکنا بھی چاہتے ہوں لیکن آپ یہی کچھ سوچ کر ایسے بن جاتے ہیں جیسے آپ نے دیکھا ہی نہ ہو ۔
ہمارے بازاروں میں چلیں جائیں ہر طرف بدبو کے بھبھکے اڑ رہے ہوتے ہی ۔ جہاں سموسے، پکوڑے یا پوڑیاں تلی جارہی ہوتی ہیں وہاں پاس سے گزرنے والی گاڑیوں کی اڑائی دھول سموسوں، پکوڑوں اور پوڑیوں میں مل کے اس کے زائقے کو دوبالا کر رہی ہوتی ہیں۔ قصابوں کی دکانوں سے ایسی بھیانک بدبو اڑ رہی ہوتی ہے کہ الامان و الحفیظ۔۔۔ لوگ آپ کے دائیں بائیں چلتے ہوئے پھیپھڑوں کا پورا زور لگا کہ تھوکتے جاتے ہیں۔ فٹ پاتھ پے چلتے چلتے جس کا دل کرتا ہے نالا کھول کے موترنے بیٹھ جاتا ہے۔
اسی سے ایک لطیفہ بھی یاد آیا کہ ایک آدمی دفتر پہنچا اور اپنے ساتھیوں کو بتانے لگا کہ ابھی ابھی اس نے اپنی زہانت سے ہزار روپیہ بچایا ہے ۔ سب نے پوچھا وہ کیسے۔
کہنے لگا یار میں فلاں جگہ سے گزرا تھا وہاں دیوار پے لکھا تھا ” یہاں پیشاب کرنے والے کو ہزار روپیہ جرمانہ ہو گا”
سب نے پوچھا تو پھر تم نے کیا کیا ؟
تو اس نے کہا مجھے بڑے زورکا پیشاب لگ رہا تھا لیکن میں نے نہی کیا۔ اس طرح سے ہزار روپیہ بچایا ہے۔
وماعلینا الا البلاغ











