(فخر ایبٹ آباد…. ڈاکٹر اظہر جدون)

پیارے پڑہنے والے! یہ دنیا بڑی مزیدار جگہ ہے ۔ اس کرہ ارض پے پائے جانے والی نوع انسانی کی تعداد ساڑھے آٹھ ارب کے قریب تو ہو گی ۔ ایک جیون میں ہم ان میں سے کچھ لوگوں سے ملتے ہیں ۔ کچھ کے ساتھ محض ایک آدھ ملاقات ہوتی ہے اور کچھ کے ساتھ ہم عمریں گزار دیتے ہیں، کچھ لوگوں کے ساتھ کچھ دیر تک کا ساتھ رہتا ہے۔ زندگی کے اس سفر میں ملنے بچھڑنے کا کھیل جاری رہتا ہے۔ کچھ لوگ عمر بھر ساتھ رہنے کے باوجود دوست نہیں بن پاتے ۔ اجنبیت کی ایک ان دیکھی ، نادیدہ دیوار آپ کے اور ان کے بیچ ہمیشہ کھڑی رہتی ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ آپ کسی سے سر راہے ، کسی اجنبی محفل میں ملتے ہیں اور ملنے والا پل بھر میں آپ کے دل میں اتر جاتا ۔ آپ کو یوں لگتا ہے جیسے آپ ایک دوسرے کو صدیوں سے جانتے ہوں ۔ مصنوعی ادب، آداب اور تکلفات کے پردے پل بھر میں اٹھ جاتے ہیں۔ اسی کیفیت کو کسی صاحب دل نے کیا خوبصورت بیان کیا ہے کہ
” یوں بھی ہو سکتا ہے کہ یک دم کوئی اچھا لگ جائے ،
بات کچھ بھی نہ ہو اور دل میں تماشہ لگ جائے۔”
دوستو ! بس اتنی سی بات ہے، دوستی کے لئیے قطعاً ضروری نہی کہ آپ برسوں کے شناسا ہوں، محلے دار ہوں یا ایک ہی سکول میں پڑھے ہوں ۔ اس کا تعلق ماہ و سال کی طوالت کے ساتھ ہر گز ، ہر گز نہیں۔
یہ تو دلوں کا سودا ہے اور بقول ابن انشاء
شکلیں دیکھ کے سودا کرنا کام ہے ہم بنجاروں کا۔۔۔۔
دوستی ایک عجب طرح کا پودا ہے یہ کہیں بھی ، کسی بھی وقت آگ سکتا ہے اور چاہے تو راتوں رات ایک تن آور درخت کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کسی نے پوچھا کہ ” بھائی اچھا کہ دوست ؟ آپ نے فرمایا ، اگر تو بھائی دوست ہے تو بھائی اچھا ورنہ دوست ” ۔ تو بنیادی شرط دوستی طے پائی ۔ دوست ایک بڑا با کمال اور جامع لفظ ہے اور یہ بہت ساری چیزوں کا احاطہ کئیے ہوئے ہے۔ یہ ایک ایسا ناطہ جسے ہم خود طے کرتے ہیں۔ نہ تو اس کا اعلان کیا جاتا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی معاہدہ ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو یا تو ہوتا ہے یا بلکل نہیں ہوتا ۔ باقی رشتے ٹوٹ بھی جائیں تو لنگڑے لولے ،جیسے تیسے ہو کر گھسیٹتے رہتے ہیں۔لیکن یہ ایک واسطہ ہے جس کی حفاظت ہمارا دل ، ہماری روح کرتی ہے ۔ اس کی بنیاد خلوص، محبت اور احترام پے رکھی جاتی ۔ یہ کسی واسطے یا رشتے کا مرہون منت نہی ہوتا۔
صاحبو ! حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہی سے یہ قول منسوب ہے کہ ” غریب وہ نہی جس کے پاس مال و زر نہیں، غریب وہ ہے جس کا کوئی دوست نہی۔ ”
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر امارت کا معیار یہی ہے تو میں خود کو بل گیٹ یا وارن بفٹ سے زیادہ امیر سمجھتا ہوں کہ اوپر والے نے مجھے بہترین دوست عطا کئیے۔ مہربان ، مخلص اور شاندار، تمام تر دنیاوی مفادات سے بالا تر۔ جس میں کسی دنیا داری اور منفعت کی رتی بھر ملاوٹ نہی۔
میں نے عرض کیا کہ یہ کسی پلاننگ یا کسی جوڑ توڑ کے نتیجے میں نہی ملتے اور ان سے ملنے کی کوئی جا مقرر یا مختص نہی۔ یہ گلزار کہیں بھی ، کسی بھی وقت کھل سکتے ہیں۔ آپ ان سے جا ملتے ہیں یا وہ آپ سے ۔۔۔۔ یہ سارا کام اوپر والے کا ہے، وہ جہاں، جس وقت چاہے آپ کو ان باکمال لوگوں سے ملا دیتا ہے جن سے مل کے زندگی سے عشق ہو جائے۔ دنیا پھر سے اچھی لگنی لگے ۔ یہ اللہ میاں کا تحفہ ہوتے ہیں، عطیہ ہوتے ہیں۔
برادرم محترم ڈاکٹر انور جدون صاحب بھی اوپر والے کا وہی تحفہ اور عطیہ ہیں جو وہ مہربان ہو کے عطا کرتا ہے۔
ہماری ملاقات کس جگہ ہوئی ، کہاں ہوئی ۔۔۔یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی، ہاں البتہ اس ملاقات کا سہرا پیارے دوست سردار نوشاد خان کے سر ہے ۔ سردار نوشاد خان کا قصہ بھی جلد ہی سناوں گا۔ سردار صاحب بھی ایک باکمال شخص ہیں اور بے شمار بلکہ انگنت خوبیوں کے مالک ہیں۔ راولا کوٹ کے سدوزئی پٹھان ہیں۔
ہم کسی محفل میں تھے ڈاکٹر انور جدون صاحب تشریف لے آئے ۔ تعارف کے رسمی مرحلے سے گزرے، محفل بڑی مختصر سی تھی ۔ گپ شپ شروع ہوئی جو رات گئے تک جاری رہی ۔ تھوڑی ہی دیر میں حجابات من و تو اٹھ گئے۔ باتوں باتوں میں ڈاکٹر صاحب سے ڈاک خانہ بھی مل گیا ۔ آپ کا تعلق خوبصورت ایبٹ آباد سے ہے ۔ مجھے اس شہر سے بہت محبت ہے ۔ کسی زمانے میں میرا ایک کلاس فیلو اطہر بٹر جس کا تعلق گجرانوالہ سے تھا بطور نیوز پروڈیوسر ایبٹ آباد میں تعین تھا۔پی ٹی وی کا آفس کاکول روڈ پے واقع ہے۔ اطہر بہٹر کو آپ نہیں جانتے لیکن مختصرا بتائے دیتا ہوں کہ اطہر بٹر اگر بطور کامیڈین سٹیج پے ا جاتا تو اس نے اس فیلڈ کے بڑے بڑے کامیڈینز کی مت مار دینی تھی ۔ اطہر بہٹر بلا کا بزلہ سنج، حاضر جواب اور حاضر دماغ تھا ۔ اس کی حس ظرافت کے سامنے اچھے اچھے کان پکڑتے تھے۔ اطہر بٹر کے تذکرے کے لئیے ایک الگ باب درکار ہے۔ خیر ڈاکٹر صاحب نے جب یہ بتایا کہ ان کا تعلق اس شہر دل نواز و دل دار ایبٹ آباد سے ہے تو میں نے اطہر کا ذکر کیا ۔ اب یہ کمال اتفاق کی بات ہے ڈاکٹر صاحب اور بہٹر آپس میں دوست نکلے۔ تو یوں ہمارا ڈاکخانہ ملا ۔
ڈاکٹر اظہر جدون ایک بڑی ہمہ گیر اور دل دار شخصیت کے مالک ہیں ۔ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں۔ ڈاکٹری پڑھاتے بھی رہے ہیں ، سو اس لحاظ سے استاد بھی ہیں ۔ ایوب میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا۔ زمانہ طالبعلمی میں طلباء سیاست میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیا ۔ اسی کالج میں طلبہ یونین کے جنرل سیکرٹری اور بعد میں صدر بھی بنے ۔ اسی کالج میں درس و تدریس سے بھی منسلک رہے ۔ ڈاکٹر صاحب کی بیگم صاحبہ ان کی کلاس فیلو تھیں۔ دونوں نے محض کلاس فیلو ہونے پے اکتفا کرنے کی بجائے اسے مستقل رشتے یعنی رشتہ ازدواج میں بدل دیا کہ کیوں نہ اس مسلئے کو مستقل بنیادوں پے حل کر دیا جائے ۔ خیر سے اس دور رس پلاننگ کا بڑا اچھا نتیجہ نکلا ۔ ڈاکٹر صاحب کی تین بیٹیاں ہیں اور ماشاءاللہ سبھی اپنے گھر بار والی ہیں ۔
ڈاکٹر صاحب نے میڈیکل کالج بنانے کا خواب دیکھا اور پھر بعد میں اس خواب کو حقیقت میں بدل دیا ۔ خواتین میڈیکل کالج ایبٹ آباد شاہراہ ترقی ہے گامزن ہے پتا نہیں ابتک کتنی لڑکیاں اس کالج سے ڈاکٹر بن کے مختلف جگہوں پے بطور ڈاکٹر خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا ارادہ اسی کالج کو یونیورسٹی بنانے کا ہے جو کہ بفضل خدا وہ کر گزریں گے۔ ڈاکٹر صاحب کی بیگم صاحبہ اسی ادارے کی سربراہ ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے ثابت قدم اور صاحب استقلال ہونے کا اندازہ اس بات سے کر لیں کہ جب انہوں نے میڈیکل کالج کا ڈول ڈالا تو پانچ لاکھ کے مقروض تھے لیکن ڈاکٹر صاحب نے ہمت کی اور اپنے خواب کو حقیقت میں بدل کے رکھ دیا۔ سیاست کا شوق تو زمانہ طالب علمی سے تھا ہی چنانچہ اس شوق نے پھر انگڑائی لی اور ڈاکٹر صاحب میدان سیاست میں کود پڑے ۔ دو دفعہ الیکشن لڑا اور دونوں دفعہ ہی ہار گئے لیکن ڈاکٹر صاحب ہار ماننے والوں میں سے نہی۔ تیسری دفعہ الیکشن لڑا ۔ جان لڑا دی ۔ مد مقابل سردار مہتاب عباسی جیسا کہنہ مشق سیاستدان تھا جو اس میدان کا پرانا کھلاڑی تھا لیکن سردار صاحب کی انتھک محنت، عزم ، ارادہ اور ثابت قدمی رنگ لائی ۔ ڈاکٹر صاحب نے مہتاب عباسی جیسے پرانے سیاستدان کو چالیس ہزار ووٹوں سے شکست دی اور قومی اسمبلی کے رکن بن گئے۔ اپنے علاقے کی اتنی خدمت کی کہ آج ان کے خاندان کے دو افراد غالباً انکی بھانجی اور بھتیجہ ایبٹ آباد سے ایم این اے ہیں ۔ خود ڈاکٹر صاحب میدان سیاست سے ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں۔ اب ان کی توجہ کامحور و مرکز ان کا خواب دیرینہ یعنی میڈیکل کالج ہے جسے وہ اپنی چوتھی بیٹی کہتے اور سمجھتے ہیں۔ آج کل اس کی تعمیر و ترقی میں مصروف ہیں۔ راوی چین ہی چین لکھتا ہے ۔ ڈاکٹر صاحب کالج کے زمانے میں باڈی بلڈنگ کیا کرتے تھے ۔ قوی الجثہ آدمی ہیں ۔ کھانے پینے کے شوقین ہیں خود بھی ڈٹ کے کھاتے ہیں اور دوستوں کو بھی رج کے کھلاتے ہیں۔ مزاجاً خوش باش اور دل دار طبع ہیں۔ دوستوں کی خاطر داری کر کے اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ کشادہ دل میزبان ہیں۔ میں ڈاکٹر صاحب کو Man of Challanges کہتا اور سمجھتا ہوں ۔ میٹرک کیا تو والدہ صاحبہ نے ڈاکٹر بننے کا چیلنج دیدیا اور ڈاکٹر صاحب نے اسے پورا کر دکھایا، پھر میڈیکل کالج بنانے کا سودا دل میں سمایا تو یہ معرکہ بھی سر کر لیا۔ میدان سیاست میں اترے تو اپنے سے کئی گنا طاقتور سیاسی حریف کو شکست سے دو چار کر دیا۔
ڈاکٹر صاحب طبعا” بہت حلیم الطبع ہیں ۔ اس حلیمی ، حلاوت اور صبر میں ان کے سیاسی سفر اور انکی شریک حیات کا بڑا عمل دخل ہے۔ سیاست کو خیر باد کہہ چکے ہیں لہٰذا آج کل ان کا دوسرا فوکس اپنے وزن کو قابو کرنا ہے جس میں وہ حسب معمول کامیاب و کامران جا رہے ہیں۔ ایبٹ آباد گالف کورس یا ایف نائن پارک میں میلوں لمبی سیر کرتے ہیں نتیجتاً ان کے پرانے سوٹ ان کے کسی کام کے نہی رہے۔
ایبٹ آباد میں ایک پوسٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین ہے ، آج سے پچاس برس پہلے اس کی بنیاد ڈاکٹر صاحب کی والدہ محترمہ نے رکھی ۔ آج وہ پرائمری سکول پوسٹ گریجویٹ کالج بن چکا ہے۔ ایبٹ آباد کی تعمیر و ترقی میں جدون خاندان کا بڑا اہم اور مثبت کردار ہے۔ شہر کے لوگ ان کا نہ صرف احترام کرتے ہیں بلکہ ان سے محبت بھی کرتے ہیں۔ جدون خاندان کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ خاندان کی عزت میں اضافے میں بلاشبہ ڈاکٹر صاحب کی فہم و فراست کا بڑا ہاتھ ہے۔
” فخر ہوتا ہے قبیلے کا سدا ایک ہی شخص “۔
ایبٹ آباد کی تعمیر و ترقی میں ڈاکٹر صاحب کا بڑا ہاتھ ہے۔
ڈاکٹر صاحب پے بہت دیر تک گفتگو کی جا سکتی ہے ۔ اس مختصر سی تحریر میں میرے لئیے ممکن نہی کہ انکی کثیر الجہت شخصیت اور ان گنت خوبیوں کا احاطہ کر پاؤں ۔
یار ذندہ ، صحبت باقی ۔
(یہ تو ابھی آغاز ہے جیسے اس پہنائے حیرت کا ،
آنکھ نے اور سنور جانا ہے رنگ نے اور نکھرنا ہے۔)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں