مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو گورنر راج لگے گا، بلاول

کراچی:چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے گورنر راج لگوانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

بلدیہ ٹاؤن میں اسپورٹس کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ وفاقی حکومت کچھ روز قبل خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے کے لیے تیار تھی تاہم پیپلز پارٹی اس کے فوری نفاذ کے حق میں نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی قانونی آپشنز ہیں لیکن انہیں آخری راستے کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔

بلاول بھٹو نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات کے بجائے انتہاپسندی کی سیاست کر رہے ہیں جس کا نقصان خود پی ٹی آئی کو پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی طرز سیاست جاری رہی تو پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت بھی برقرار نہیں رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر سہیل آفریدی عمران خان سے مخلص ہیں تو انہیں انتہاپسندی کی سیاست چھوڑ کر مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ بلاول کے مطابق خیبرپختونخوا کے موجودہ حالات کی ذمہ داری وزیراعلیٰ پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے مذاکرات میں مولانا فضل الرحمان کی شمولیت کا بھی خیرمقدم کیا۔

بلاول نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مناسب سیاسی گنجائش نہ ملنے کے نتائج اچھے نہیں ہوتے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی طویل عرصہ جیل میں گزارا اور سیاسی جدوجہد کے باوجود رہائی حاصل کی۔

صوبوں کے قیام سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام صوبے کا مطالبہ کرنے کا حق رکھتے ہیں اور پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں عوام کی رائے صوبے کے قیام کے حق میں ہو وہاں اس معاملے پر پیش رفت ہونی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں تاہم غربت میں اضافے کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں