کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کیخلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر

پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف دائر درخواستیں سماعت کے لیے منظور کرلی ہیں۔ عدالت نے درخواستوں پر سماعت کے لیے 20 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔
بیرسٹر گوہر خان اور سلمان خان ایڈووکیٹ نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف الگ الگ درخواستیں دائر کر رکھی ہیں جبکہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بھی معظم بٹ ایڈووکیٹ کے ذریعے اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔
درخواستوں میں وفاقی حکومت, صدر مملکت, وزیراعظم, گورنر خیبر پختونخوا اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ دہشت گردی کو جواز بنا کر منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات محدود کرنا امتیازی سلوک اور جمہوری مینڈیٹ کے خلاف ہے۔
درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی نے 2024 کے عام انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کی تھی۔ وفاقی حکومت سیاسی اختلافات کی بنیاد پر منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات ختم نہیں کرسکتی۔ درخواست گزاروں کے مطابق گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تقاضوں پر عمل ضروری ہے۔
درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کیا جائے اور حتمی فیصلے تک متعلقہ اعلامیے معطل کیے جائیں۔
دوسری جانب قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی, سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس, سردار اختر مینگل اور اخونزادہ حسین احمد بھی پشاور ہائیکورٹ پہنچے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں