برطانیہ: نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) نے کینسر کے مریضوں کی بہتر تشخیص اور انفرادی ضروریات کے مطابق علاج کے لیے جدید لیبارٹری کا آغاز کردیا ہے۔
رائل مارسڈن سینٹر فار کینسر جینومکس برطانیہ میں اپنی نوعیت کا پہلا مرکز ہے جہاں کمپوزٹ بائیومارکر ٹیسٹنگ کا جدید طریقہ متعارف کرایا جارہا ہے۔ اس کا مقصد ملک بھر میں مریضوں اور طبی ٹیموں کو تشخیص اور علاج کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے۔
اس طریقہ کار میں مریض اور اس کے ٹیومر سے متعلق جامع معلومات کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ساتھ یکجا کیا جاتا ہے تاکہ بیماری کی نوعیت اور علاج کے ممکنہ طریقوں کی زیادہ تفصیلی تصویر سامنے آسکے۔
اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈاکٹر مریضوں کو طبی تحقیق کے آزمائشی پروگراموں میں شرکت کے مواقع فراہم کرنے اور ان کی ضروریات کے مطابق مخصوص علاج تجویز کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔ بیماری کی صورت حال میں تبدیلی کے ساتھ علاج اور نگہداشت کے طریقوں میں بھی ردوبدل ممکن ہوگا۔
رائل مارسڈن کے کلینیکل جینومکس کے سائنسی ڈائریکٹر اور انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ریسرچ لندن میں ٹرانسلیشنل جینومکس کے پروفیسر مائیکل ہیوبینک نے پریس ایسوسی ایشن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم آئندہ تین سے پانچ برسوں میں کینسر کی تشخیص اور علاج کے شعبے میں متوقع پیش رفت پر مسلسل کام کررہی ہے۔











