اسلام آباد:ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جن بچوں کے پاس 12 سال کی عمر میں اپنا اسمارٹ فون ہوتا ہے ان میں اپنے ہم عمر ان بچوں کے مقابلے میں کھانے سے متعلق خرابیوں کی علامات ظاہر ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے جن کے پاس اس عمر میں اپنا فون نہیں ہوتا۔
طبی جریدے جاما نیٹورک اوپن میں شائع ہونے والی تحقیق میں امریکا بھر سے تقریباً 9 ہزار کم عمر افراد کے سروے کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق میں اس بات پر توجہ دی گئی کہ بچوں نے کس عمر میں اسمارٹ فون استعمال کرنا شروع کیا اور کم عمری میں فون تک رسائی کا بعد کی زندگی میں کھانے سے متعلق رویوں سے کیا تعلق ہے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان فرانسسکو کے شعبہ اطفال کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر جیسن ناگاٹا کے مطابق اسمارٹ فون بچے کی جیب میں ظاہری شکل و صورت پر مرکوز مواد کی ایک پوری دنیا پہنچا سکتا ہے۔ بچے کو ایسی تصاویر اور پیغامات کا سامنا ہوسکتا ہے جو کھانے کے غیر صحت مند رویوں کو فروغ دیں۔
ڈاکٹر ناگاٹا نے والدین کو خبردار کیا کہ بچے کو اسمارٹ فون دینا صرف ایک ڈیوائس اس کے ہاتھ میں دینے تک محدود نہیں بلکہ اس کے ذریعے بچے کی ڈیجیٹل دنیا میں مختلف مواد اور تجربات تک رسائی بھی بدل جاتی ہے۔ ان کے مطابق سوال صرف یہ نہیں کہ بچے کو اسمارٹ فون دیا جائے یا نہیں بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ اسے کس عمر میں فون دیا جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق اسکرین اور سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارنے کا تعلق بچوں میں ڈپریشن اور خود اعتمادی میں کمی سمیت بعض منفی نتائج سے دیکھا گیا ہے۔ بعض بچوں میں منشیات اور الکوحل آزمانے کے رجحان سے بھی تعلق سامنے آیا ہے۔











