اسلام آباد (رپورٹ: اعجاز چیمہ) دنیا کو اسوقت گلوبل وارمنگ کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا سامنا ہے ۔اور ان اثرات کی شدت مختلف خطوں میں مختلف ہے۔ جن میں سے ایک بڑا مسئلہ خشک سالی کا ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں خشک سالی کی شدت اور تواتر میں اضافے کے باعث اہم دریاؤں میں پانی کی سطح ریکارڈ حد تک کم ہونے لگی ہے، جس سے اندرونِ ملک آبی نقل و حمل متاثر، مال برداری کی گنجائش کم اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دریاؤں پر انحصار کرنے والی سپلائی چینز بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ یہ انکشاف انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ فورم (آئی ٹی ایف) کی نئی فیکٹ شیٹ میں کیا گیا ہے۔
انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ فورم( ITF) 72 رکن ممالک پر مشتمل ایک بین الحکومتی تنظیم ہے۔ جو ٹرانسپورٹ پالیسی کے حوالے سے ایک تھنک ٹینک کے طور پر کام کرتی ہے۔ ائی ٹی ایف (ITF) دنیا کا واحد عالمی ادارہ ہے جو ٹرانسپورٹ کے تمام ذرائع کا احاطہ کرتا ہے۔اور اس کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر اقتصادی ترقی، ماحولیاتی تحفظ، اور سماجی شمولیت کو مدنظر رکھ کر ٹرانسپورٹ پالیسی کو فروغ دینے میں کردار ادا کرنا ہے۔
آئی ٹی ایف کی حالیہ رپورٹ کے مطابق خشک سالی کے باعث دنیا کے مختلف حصوں میں دریاؤں کی سطح آب کم ہونے سے ضروری اشیاء کی ترسیل مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ پانی کی سطح میں کمی کے نتیجے میں مال بردار جہازوں کو کم سامان لے کر چلنا پڑتا ہے، بندرگاہوں اور سپلائی چینز میں خلل پیدا ہوتا ہے، لاجسٹکس کے اخراجات بڑھتے ہیں اور بعض علاقوں میں لوگوں کو خوراک، ایندھن، ادویات اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
آئی ٹی ایف کے مطابق یہ مسئلہ کسی ایک خطے تک محدود نہیں۔ یورپ کے دریائے رائن اور ڈینیوب، جنوبی امریکا کے دریائے ایمیزون اور چین کے دریائے یانگ زی سمیت دنیا کے بڑے دریاؤں میں پانی کی شدید کمی کے ادوار کے دوران آبی نقل و حمل متاثر ہو چکی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پیش گوئیوں کے مطابق دنیا کے کئی بڑے خطوں میں ہائیڈرولوجیکل خشک سالی کے واقعات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دریائی نقل و حمل خشک سالی سے خاص طور پر متاثر ہوتی ہے کیونکہ پانی کی سطح میں نسبتاً معمولی کمی بھی مال بردار جہاز کی گنجائش میں نمایاں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔
شدید کم آبی صورتحال کے دوران دریائے رائن کے درمیانی حصے میں مال بردار بارجز اپنی معمول کی گنجائش کے صرف تقریباً 15 فیصد سامان لے کر چلتے رہے، جبکہ دریائے ڈینیوب پر جہازوں کی مال برداری کی صلاحیت تقریباً 30 فیصد تک محدود رہی۔ ایمیزون اور یانگ زی پر بھی اسی نوعیت کی مشکلات کا سامنا رہا۔
کم سامان لے جانے کی صورت میں اتنی ہی مقدار میں مال منتقل کرنے کے لیے زیادہ جہازوں اور زیادہ سفروں کی ضرورت پڑتی ہے، تاہم اضافی گنجائش ہر وقت دستیاب نہیں ہوتی۔ محدود گنجائش کے حصول کے لیے مسابقت بڑھنے سے مال برداری کے کرایوں میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں دریائی نقل و حمل پر انحصار کرنے والے کاروباروں کے اخراجات اور غیر یقینی صورتحال بڑھ جاتی ہے۔
اس کے اثرات صرف دریا تک محدود نہیں رہتے بلکہ بندرگاہوں پر بھی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اگر مال آگے منتقل نہ ہو سکے تو بندرگاہوں میں رش پیدا ہو سکتا ہے، اشیاء زیادہ عرصے تک گوداموں میں پڑی رہ سکتی ہیں اور بعض اوقات جہاز اپنا واپسی کا سفر بھی مکمل نہیں کر پاتے۔ خام مال اور تیار مصنوعات کے لیے دریاؤں پر انحصار کرنے والی سپلائی چینز کو اضافی اخراجات اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آئی ٹی ایف کے مطابق کم آبی سطح سے پیدا ہونے والے خلل کا معاشی اثر بھی نمایاں ہو سکتا ہے۔ 2018 میں دریائے رائن میں پانی کی کمی جرمنی کی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً 0.4 فیصد کمی سے منسلک کی گئی، جبکہ اندازوں کے مطابق 30 دن تک کم پانی کی صورتحال برقرار رہنے والے ایک مہینے کے دوران جرمن صنعتی پیداوار میں تقریباً ایک فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے۔دریاؤں پر براہ راست انحصار کرنے والی آبادیوں کے لیے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ ایمیزون میں 2005، 2010 اور 2016 کی شدید خشک سالی کے دوران اندرونِ ملک آبی نقل و حمل متاثر ہوئی اور بعض مقامی آبادیوں کا رابطہ محدود ہو گیا، جس سے خوراک، ایندھن، ادویات اور صحت و تعلیم سمیت ضروری خدمات تک رسائی متاثر ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق دریاؤں میں نقل و حمل مشکل ہونے پر مال برداری کو ریل یا سڑک کے ذریعے منتقل کرنا مددگار ثابت ہو سکتا ہے، تاہم متبادل ذرائع کی بھی اپنی حدود ہیں۔
ریل ایک اہم متبادل بن سکتی ہے، لیکن کئی مقامات پر ریلوے نیٹ ورک پہلے ہی اپنی گنجائش کے قریب کام کر رہے ہوتے ہیں اور شدید موسمی حالات سے وہ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح بڑی مقدار میں مال کو سڑک کے ذریعے منتقل کرنے کے لیے اضافی ٹرکوں اور بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1,500 ٹن وزنی ایک بارج تقریباً 25،25 ٹن سامان لے جانے والے 60 ٹرکوں کے برابر مال منتقل کر سکتا ہے۔ اس لیے آبی، ریل اور سڑک کے درمیان فوری طور پر منتقلی کی صلاحیت رکھنے والی ملٹی موڈل سپلائی چینز کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکومتیں اور کاروباری ادارے کم آبی سطح کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں۔ بہتر پیش گوئی اور ابتدائی انتباہی نظام ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو صورتحال سے نمٹنے کے لیے زیادہ وقت فراہم کر سکتے ہیں۔جرمنی میں دریائے رائن، ڈینیوب اور ایلبے میں پانی کی سطح سے متعلق پیش گوئیاں چھ ہفتے تک پہلے فراہم کی جاتی ہیں۔ بعض اقدامات کے ذریعے دریاؤں اور نہروں میں پانی کے ضیاع کو کم کرنے اور خشک موسم میں پانی محفوظ رکھنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔جہازوں کے ڈیزائن میں تبدیلی بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ کم گہرے پانی میں چلنے کے لیے تیار کیے گئے جہاز اس وقت بھی مال برداری جاری رکھ سکتے ہیں جب روایتی جہازوں کو اپنا بوجھ کم کرنا پڑتا ہے۔ 2018 میں رائن کے کم آبی بحران کے بعد جرمن کیمیکل کمپنی BASF نے کم پانی میں چلنے کے قابل اپنے بحری بیڑے کے جہازوں کی تعداد دوگنا کر دی۔
رپورٹ کے مطابق خشک موسم میں دریاؤں میں قابلِ نقل و حمل پانی کی سطح برقرار رکھنے کے لیے بہتر واٹر مینجمنٹ بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ نیدرلینڈز اور بیلجیم میں زیادہ بارش کے ادوار کے دوران پانی محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ خشک موسم میں اسے استعمال کیا جا سکے۔
چین میں شدید خشک سالی کے دوران دریائے یانگ زی پر آبی نقل و حمل کو برقرار رکھنے کے لیے بالائی علاقوں کے ذخائر سے پانی چھوڑا گیا۔ بعض مخصوص مقامات پر دریا کی تہہ سے مٹی اور ریت نکالنے یعنی ڈریجنگ سے بھی نقل و حمل بہتر بنائی جا سکتی ہے، تاہم رپورٹ کے مطابق بڑھتی ہوئی اور بار بار آنے والی خشک سالی کے تناظر میں یہ لازماً طویل المدتی حل نہیں۔
کاروباری ادارے بھی کم پانی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی معاہدوں کے ذریعے کم گہرے پانی میں چلنے والے بارجز کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں، ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھا سکتے ہیں، سامان کی خریداری کے ذرائع میں تبدیلی لا سکتے ہیں، اضافی اسٹاک رکھ سکتے ہیں یا ایسی پیداواری تنصیبات کو وسعت دے سکتے ہیں جو دریائی راستوں پر کم انحصار کرتی ہوں۔
آئی ٹی ایف کے مطابق خشک سالی سے دریائی نقل و حمل میں پیدا ہونے والے خلل کا کوئی ایک جامع حل موجود نہیں اور انتہائی کم آبی سطح کے دوران حکومتوں کے لیے دریائی آمدورفت کو برقرار رکھنا بھی محدود ہو سکتا ہے۔ایسی صورتحال میں سپلائی چینز کو زیادہ متبادل فراہم کرنا اہم ہوگا۔ اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں، ریلوے اور سڑکوں کے درمیان مؤثر رابطے برقرار رکھنے سے خشک سالی کے باعث کسی ایک ذریعے کی عارضی بندش کی صورت میں مال کو دوسرے ذریعے سے منتقل کیا جا سکتا ہے۔جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا کے مختلف علاقوں میں میٹھے پانی کے وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اس لیے نقل و حمل کے مختلف ذرائع کے درمیان بروقت منتقلی کی صلاحیت اور کسی بھی خلل سے پہلے مناسب تیاری مستقبل میں ضروری اشیاء، سپلائی چینز اور معیشتوں کی روانی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔











