زندگی کے ہر اچھے کام کا آغاز اللہ کے نام سے ہونا چاہیے۔ جیسے قرآن مجید کی تلاوت ہو، کھانا کھانا ہو، گھر سے نکلنا ہو، سفر پر نکلنا ہو، کوئی خط لکھنا ہو، یا روزمرہ زندگی کا کوئی معمولی کام۔ بسم اللہ پڑھ لینے سے دل کو ایک خاص اطمینان نصیب ہوتا ہے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا مفہوم یہی ہے کہ ہم اس اللہ کے نام سے کام کا آغاز کرتے ہیں جو نہایت مہربان، بے حد رحم فرمانے والا، رحمان اور رحیم ہے۔
پرانے زمانے میں بعض لوگ خطوط وغیرہ پر مکمل بسم اللہ لکھنے کے بجائے اس خیال کے تحت اختراز کرتے تھے کہ اگر وہ کاغذ نامناسب جگہ گر جائے تو اللہ تعالیٰ کے نام کی بے ادبی نہ ہو۔ اسی نسبت سے بعض لوگوں میں علام الاعداد کے تحت حروف ابجد کے حساب سے 786 لکھنے کا رواج بھی ہوا۔ اگرچہ اس بارے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔
میرے والد محترم، چوہدری عطا اللہ چیمہ صاحب، اکثر معروف شعراء کے اشعار نقل کیا کرتے تھے، لیکن کبھی کبھار اپنے اشعار بھی کہہ لیتے تھے۔ خطوط کے آغاز کے لیے بھی انہوں نے بسم اللہ کے مفہوم کو اپنے ہی ایک فارسی شعر میں نہایت خوبصورتی سے ادا کیا تھا۔ وہ اکثر اپنے خطوط کی ابتداء اپنے اس شعر سے کیا کرتے تھے:
بنام جہاں دار و جان آفریں
کہ او ہست مالک مکان و مکیں
یہ شعر والد صاحب کا اپنا کہا ہوا تھا۔ اس کا مفہوم یوں ہے کہ اس پاک ذات کے نام سے آغاز، جو پورے جہان کی مالک اور ہر جان دار کی خالق ہے؛ زمین و آسمان، مکان و مکین اور ان میں بسنے والے سب اسی کے ہیں۔ سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے۔
یہ بات بھی ان کی شخصیت کے ایک خوبصورت پہلو کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ محض فارسی اشعار یاد نہیں رکھتے تھے بلکہ خود بھی شعر کہتے تھے اور اپنے ذاتی اظہار میں شاعری کو برتتے تھے۔
اللہ تعالیٰ کا نام لے کر کسی کام کا آغاز کیا جائے تو انسان کے دل میں ایک یقین پیدا ہوتا ہے کہ آپ وہ اکیلا نہیں ہیں۔ جس ذات کا نام لے کر وہ آگے بڑھتا ہے، مدد بھی اسی کی طرف سے آتی ہے۔ مشکلات میں آسانی، پریشانی میں تسلی اور کوشش میں برکت اسی یقین سے پیدا ہوتی ہے۔
اسی لیے زندگی کے کسی بھی اچھے کام میں، خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، اللہ کا نام لینا چاہیے۔ دل میں یہ یقین قائم رہنا چاہیے کہ وہی مدد کرنے والا ہے، وہی رحم فرمانے والا ہے، وہی رحمان اور وہی رحیم ہے۔
اللہ کے سپرد کر دینے کا کا یقین:
تقسیم ہند سے پہلے برصغیر میں فارسی زبان کا بہت چرچا تھا۔ فارسی صرف علمی اور درباری زبان ہی نہ تھی بلکہ اس کے الفاظ، اشعار اور محاورے عام لوگوں کی گفتگو کا بھی حصہ تھے۔ بہت سے بزرگ باقاعدہ فارسی دان نہیں تھے، مگر فارسی سے واقفیت رکھتے تھے اور تب بھی فارسی کے اشعار، دعائیں اور کہاوتیں ان کی زبان پر جاری رہتی تھیں۔
ہمارے ہاں ایک دعا ایسی بھی پڑھی جاتی تھی جسے لوگ سونے سے پہلے، گھر سے نکلتے ہوئے، کاروبار اور کام سے نکلتے وقت یا کھیت کھلیان سے رخصت ہوتے ہوئے پڑھتے تھے:
سپردم بہ تو مایہ خویش را
تو دانی حساب کم و بیش را
یعنی:
اے اللہ! میں نے اپنا سب کچھ تیرے سپرد کر دیا۔ اب تو جانے اور تیرا کام۔ تو اسے کم کر دے یا زیادہ سب کچھ تیرے اختیار میں ہے۔
اسی طرح ایک اور دعا تھی:
خدایا، سپردم بہ تو با یقین
ہمہ کار دنیا، ہمہ کار دین
یعنی:
اے اللہ! میں نے پورے یقین کے ساتھ اپنے دنیا و دین کے تمام معاملات تیرے سپرد کر دیے۔
ان چند مصرعوں میں توکل اللہ کا ایک پورا فلسفہ پوشیدہ ہے۔
انسان اپنی بساط کے مطابق کوشش کرتا ہے، اپنی ذمہ داری ادا کرتا ہے، اپنے گھر، خاندان، کاروبار اور اہل و عیال کی حفاظت کرتا ہے، لیکن ایک مقام ایسا بھی آتا ہے جہاں انسان کی قدرت ختم ہو جاتی ہے۔ وہاں سے توکل کا آغاز ہوتا ہے۔
جب انسان کسی چیز کو حقیقتاً اللہ کے سپرد کر دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہو گیا، بلکہ یہ کہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے بعد اس نے نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیا۔
دنیا میں لوگ جماعتوں، گروہوں اور مختلف قیادتوں سے وابستہ ہوتے ہیں۔ کسی شخص کو اپنا رہنما مانتے ہیں کیونکہ انہیں اس پر بھروسا ہوتا ہے۔ لیکن انسانی قیادت بدل جاتی ہے۔ لوگ اپنے موقف بدل لیتے ہیں، حالات بدل جاتے ہیں اور ترجیحات بھی تبدیل ہو جاتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی ذات ان تمام تبدیلیوں سے پاک ہے۔ وہ ہر شے پر قادر، ہر چیز کی خالق اور حقیقی محافظ ہے۔ اللہ سے نسبت، اس پر اعتماد اور بندے کی اطاعت، دنیا اور آخرت دونوں کے لیے بڑی سعادت ہے۔
میرے خیال میں انسان کو یہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے: جہاں تک اختیار ہے، وہاں پوری کوشش؛ اور جہاں اختیار ختم ہو جائے، وہاں پورا توکل۔
فارسی زبان اور فی البدیہہ شاعری:
فارسی ہماری تہذیبی یادداشت کا ایک نہایت اہم حصہ ہے۔ اس زبان نے نہ صرف عظیم شعرا، ادبا اور صوفیا پیدا کیے بلکہ ہمارے رہن سہن، گفتگو اور طرزِ اظہار پر بھی گہرا اثر چھوڑا۔
فارسی شاعری کی ایک خوبصورت روایت فی البدیہہ (extempore) بھی تھی، یعنی بغیر تیاری کے اسی لمحے شعر کہہ دینا۔
ایک مشہور روایت مغلیہ عہد سے منسوب کی جاتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ لاہور، پاکستان کے شالا مار باغ میں ایک مغل شہزادی، ایک روز حوض کے کنارے بیٹھی تھی۔ اسے فی البدیہہ شاعر کہنے میں خاص مہارت تھی۔ اس کے پاوں پانی میں تھے۔ اور وہ بے خیالی میں کچھ الفاظ گن گنا رہی تھی:
نیم بروں، نیم دروں
نیم بروں، نیم دروں
نیم بروں، نیم دروں
اسی دوران بادشاہ پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا۔ اسے خبر نہ ہوئی۔
بادشاہ نے پوچھا۔ بیٹی!
”کیا گلنگا رہی ہو؟“
اس نے فوراً اسی مصرعے کو ایک مکمل شعری صورت دے دی:
از ہیبت شاہ جہاں
لرزہ زمین و آسمان
انگشت حیرت در دہن
نیم بروں، نیم دروں
یعنی:
شاہ جہاں کی ہیبت سے زمین و آسمان لرزتے محسوس ہوتے ہیں اور حیرت کا ہہ عالم ہے کہ انگلیاں منہ میں ہیں؛ یعنی آدھی اندر آدھی باہر۔
اس روایت میں میرے لیے اصل دل چسپی تاریخی صحت سے زیادہ اس فی البدیہہ ذہانت میں ہے جس میں چند بے ربط الفاظ یکایک ایک مکمل شعر میں ڈھل جاتے ہیں۔
پنجابی برجستگی کے چند حوالہ جات:
فی البدیہہ شاعری صرف درباروں اور بڑے مدارس تک محدود نہ تھی۔ ہمارے دیہات اور گھروں میں بھی ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہیں رسمی تعلیم شاید زیادہ نصیب نہ ہوئی ہو، مگر قدرت نے انہیں زبان، مشاہدے، مزاح اور برجستگی کی غیر معمولی صلاحیت عطا کی ۔
ہمارے گاؤں میں علی بہادر چیمہ نام کا ایک شخص تھا۔
وہ باقاعدہ تعلیم یافتہ نہیں تھا، مگر پنجابی زبان میں برجستہ شعر کہنے میں غیر معمولی ملکہ رکھتا تھا۔
ایک مرتبہ گاؤں کے نمبردار کے انتقال کے بعد اس کے بڑے بیٹے نے نمبرداری کے لیے باقاعدہ طور پر درخواست دی۔ مگر چند اور لوگوں نے بھی اپنی درخواستیں جمع کرا دیں جو بظاہر اس منصب کے لیے موزوں دکھائی نہیں دیتے تھے ۔ چنانچہ نمبرداری کی دوڑ میں کئی لوگ شامل ہو گئے۔ کسی نے علی بہادر سے پوچھا:
”سنا ہے نمبردار کے بیٹے کے علاوہ بھی کئی اور لوگوں نے نمبرداری کیلئے اپنی درخواستیں جمع کروائی ہیں؟ ”
اس نے فورا” جواب میں کہا:
”حیدرا کانا، آہما تھن
ابو ٹھبا، ہدیتا دم
ایہ نویں چودھری اٹھے نہیں
ہن تک رہے نیں کم“
یعنی؛
ان امید واروں میں حیدر، احمد، عبدل اور ہدایت شامل تھے۔ علی بہادر چیمہ نے فی البدیہہ شعر کہتے ہوئے انہی ناموں کو اپنی برجستہ شاعری میں ڈھال لیا، اور اسی شعر میں نہایت ظریفانہ انداز سے ان کی امیدواری پر اپنی رائے بھی ظاہر کر دی۔
وہ فارسی جانتا تھا نہ اردو، نہ انگریزی، لیکن اپنی مادری زبان پنجابی میں اس کی گرفت ایسی تھی کہ عام گفتگو بھی شعر بن جاتی تھی۔
فانی کی برجستگی:
اسی سلسلے میں مجھے اپنے بھانجے، عرفان چیمہ کا بھی ذکر یاد آتا ہے۔ انہیں ہم سب پیار سے ”فانی“ کہتے تھے۔
ایک دن میرے بڑے بھائی صاحب نے اسے آواز دی:
”فانی!“
اس نے فوراً برجستہ جواب دیا:
”ماما جی، ایہہ دنیا ہی فانی اے!“
نام کی ایک سادہ سی پکار کو اس نے لمحے بھر میں لفظ فانی کے اصل مفہوم سے جوڑ کر ایک بامعنی، برجستہ اور حکمت سے بھرپور فقرہ بنا دیا۔
ایک اور موقع پر وہ ایک شادی میں آیا ہوا تھا۔ واپسی کے وقت کندھے پر پَٹکا رکھے باہر نکلنے لگا۔ کسی نے اسے جاتے دیکھ کر آواز دی:
”اوئے فانی، کدھر؟“
اس نے اسی وقت فی البدیہہ انداز میں کہا:
”مونڈھے تے دھر لئی کھیسی،
تے ٹرھ چلے پردیسی!“
یہ بھی اسی فطری برجستگی کی ایک چھوٹی مگر دلچسپ مثال تھی، جس میں روزمرہ کی معمولی گفتگو ایک برجستہ جواب میں ڈھل جاتی ہے۔ اور روزمرہ کے ایک معمولی لمحے کو فورا” قافیے ، معنویت اور پنجابی کے مخصوص آہنگ میں ڈھال دیتی ہے۔
یہ بات مجھے ہمیشہ یاد دلاتی ہے کہ عقل و دانائی صرف کتابوں سے حاصل نہیں ہوتی۔ بعض اوقات فطرت کسی انسان کو ایسی ذہانت اور فہم عطا کر دیتی ہے جسے کسی درس گاہ کی سند درکار نہیں ہوتی۔
میرے والد صاحب اور فارسی میں ایک شعری مکالمہ:
میرے والد محترم، چوہدری عطا اللہ چیمہ صاحب، کے زمانے میں فارسی شاعری محض اہل ذوق کے درمیان ادب تک محدود نہیں رہتی تھی بلکہ بعض اوقات باہمی اظہار اور مکالمے کا ایک لطیف و سلیس وسیلہ بھی بن جاتی تھی۔
ایک مرتبہ جب ہم ڈگلس پورہ، لائل پور میں رہتے تھے، لائل پور میں رہتے تھے، والد صاحب کا ایک دوست انہیں ملنے آیا۔ اس نے ملازم سے پوچھا:
”چوہدری صاحب کہاں ہیں؟“
ملازم نے بتایا:
”گھر پر نہیں ہیں۔“
اس نے کہا:
”کاغذ اور قلم لاؤ۔“
وہ ایک شعر لکھ کر چلا گیا اور ملازم سے کہا:
”جب چوہدری صاحب آئیں تو انہیں دے دینا۔“
والد صاحب واپس آئے تو ملازم نے وہ پرچی ان کے حوالے کر دی۔ انہوں نے شعر پڑھا اور اسی کاغذ کی پشت پر فوراً اس کا جواب لکھ بھیجا۔
مہمان کا شعر کچھ یوں تھا:
من بندہ سیاہم، چودرت رسیدہ باشد
چہ قدر تپیدہ باشد، چوترا نہ دیدہ باشد
اس کا مفہوم یوں ہے:
میں تو شب کی مانند سیاہ ہوں۔ جب آپ کے دروازے پر پہنچا اور آپ کو موجود نہ پایا تو دل سخت بے قرار ہوا اور آپ سے ملاقات نہ ہونے کا بہت ملال رہا۔
والد صاحب نے جواب میں لکھا:
تو مثل روز روشن، من ہم چو شب سیاہم
ظلمات و نورم ہر دو، یک جا نہ دیدہ باشد
یعنی:
تم روشن دن کی مانند ہو اور میں سیاہ رات کی مانند؛ تو بھلا نور اور ظلمت ایک ہی جگہ کیسے جمع ہو سکتے ہیں؟
والد صاحب کا جواب نہایت لطیف اور ظریفانہ تھا۔ مہمان نے اپنی عدم ملاقات پر افسوس کا اظہار کیا تھا، اور والد صاحب نے اسی کے استارۂ ”سیاہی“ کو آگے بڑھاتے ہوئے محبت بھرے انداز میں جواب دیا کہ تم روشنی ہو اور میں تاریکی۔ اسی لیے شاید ہمہاری ملاقات نہ ہو سکی، کیونکہ نور اور ظلمت ایک جگہ جمع نہیں ہوتے۔
اس شعری مکالمے میں ہمارے بزرگوں کی عاجزی، انکساری اور باہمی کشادہ دلی بھی نمایاں تھی۔ دونوں نے انے آپ کو تاریکی سے تشبیہ دی اور دوسرے کو روشنی کا مقام عطا کیا۔ گویا دونوں نے خود کو کم تر اور مخاطب کو بلند تر جانا۔ اور یہی ان کی تہذیبی شائستگی اور باطنی فوقیت کا حسن تھا۔
ایک گم ہوتا ہواذوق:
فارسی آج ہماری روزمرہ زندگی کا اس طرح حصہ نہیں رہی جیسے کبھی ہوا کرتی تھی، مگر اس کے آثار آج بھی ہمارے ساتھ ہیں۔
ہماری اردو، ہماری پنجابی میں، ہمارے محاوروں، تشبیہوں، محافلِ شعر، اور ثقافتی روایت میں فارسی کی خوشبو آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔
مجھے اپنی پرانی نسلوں کی ایک بات بہت پسند ہے: ان کی زندگی میں دین، دنیا، زبان و ادب، شعر و شاعری اور روزمرہ معاملات ایک الگ الگ خانوں میں تقسیم نہیں تھے۔
ایک دعا کاروبار کا حصہ بھی تھی۔
ایک شعر دوستی کا اظہار بھی تھا۔
ایک پنجابی فقرہ مزاح بھی تھا اور شاعری بھی۔
ایک خط کا آغاز ادب بھی تھا اور عبادت بھی۔
شاید یہی وہ چیز ہے جو وقت کے ساتھ ہم سے کچھ دور ہوتی جا رہی ہے۔
آخر میں بات وہیں آ کر ٹھہرتی ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی۔
ہر اچھے کام کا آغاز اللہ کے نام سے کیا جائے۔ انسان اپنی پوری کوشش کرے، اپنی ذمہ داری ادا کرے، اور پھر جو کچھ اس کے اختیار سے باہر ہو، اسے پورے اطمینان اور یقین کے ساتھ اللہ کے سپرد کر دے۔
یہی توکل ہے، یہی عابد و معبود کے رشتے کی اصل روح ہے، اور یہی قلبی و ذہنی سکون کا بہترین ذریعہ بھی۔











