ذاتی تجربات: اعتماد کا بحران اور سرمایہ کاری کے امکانات
رواں سال سعودی عرب کے دورے کے دوران گیارہ بڑے شہروں میں اوورسیز پاکستانیوں سے ملاقاتوں کا موقع ملا۔ ان ملاقاتوں میں ایک تشویش ناک حقیقت سامنے آئی: متعدد پاکستانیوں نے پاکستان کی رئیل اسٹیٹ میں اپنی سرمایہ کاری کے تجربات پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ تعمیراتی تاخیر، قبضے میں غیر معمولی انتظار، وعدوں کی عدم تکمیل اور سرمایہ کے تحفظ سے متعلق خدشات ان کی شکایات میں نمایاں تھے۔ بعض افراد اب پاکستان کے بجائے ایسے ممالک میں سرمایہ کاری پر غور کر رہے ہیں جہاں انہیں اپنے سرمائے اور جائیداد کے حقوق زیادہ محفوظ محسوس ہوتے ہیں۔
مختلف ممالک میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقاتوں کے دوران بھی شفافیت اور سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق خدشات سامنے آئے۔ متحدہ عرب امارات، بالخصوص دبئی، کے متعدد دوروں اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے سے اپنی وابستگی کے باعث مجھے وہاں کے نظام، بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے رجحانات اور سرمایہ کاری کے ماحول کا قریب سے جائزہ لینے کا موقع ملا۔ ان مشاہدات سے میرا یہ نقطۂ نظر مزید مضبوط ہوا کہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے صرف منافع بخش منصوبے کافی نہیں؛ سرمایہ کار کو اپنے سرمائے کے تحفظ، واضح قواعد اور مؤثر قانونی نظام پر بھی اعتماد ہونا چاہیے۔
پاکستان تقریباً 25 کروڑ آبادی کا ملک ہے اور ایک کروڑ سے زائد پاکستانی بیرونِ ملک مقیم ہیں۔ یہ ایک وسیع ممکنہ سرمایہ کاری کی منڈی ہے۔ اگر بیرونِ ملک پاکستانیوں کو قابلِ اعتماد قانونی تحفظ فراہم کیا جائے تو ان کی پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ مقامی خریداروں، بالخصوص متوسط طبقے، کے لیے بھی جائیداد کی ملکیت حاصل کرنا آسان ہو سکتا ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں آف پلان پراپرٹیز (Off-Plan Properties) اور آسان اقساط کے منصوبے متوسط طبقے کو جائیداد خریدنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ ماڈل مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے خریداروں کی رقم، قانونی حقوق اور منصوبوں کی تکمیل کو یقینی بنانے والا قابلِ اعتماد نظام ضروری ہے۔
ایسکرو اکاؤنٹ: سرمایہ کار کے تحفظ کی بنیاد
میرے نزدیک اس مسئلے کے اہم حلوں میں سے ایک ایسکرو اکاؤنٹ (Escrow Account) کا مؤثر نظام ہے۔ یہ ایسا مخصوص اکاؤنٹ ہوتا ہے جس میں خریدار کی رقم طے شدہ قانونی اور معاہداتی شرائط کے تحت رکھی جاتی ہے اور متعلقہ قواعد کے مطابق جاری کی جاتی ہے۔
آف پلان اپارٹمنٹس، کمرشل منصوبوں اور اقساط پر فروخت ہونے والی پراپرٹیز میں ایسکرو اکاؤنٹ خریدار کی رقم کے غیر متعلقہ استعمال کا خطرہ کم کرنے اور تعمیراتی پیش رفت کو ادائیگیوں سے منسلک کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس سے ڈویلپر کی جواب دہی بڑھ سکتی ہے اور سرمایہ کار کو یہ اعتماد مل سکتا ہے کہ اس کی رقم مخصوص منصوبے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
تاہم ایسکرو اکاؤنٹ بذاتِ خود ہر مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ اس کی کامیابی کے لیے واضح قانون سازی، آزادانہ نگرانی، مالی آڈٹ، تعمیراتی پیش رفت کی تصدیق اور خلاف ورزی کی صورت میں مؤثر کارروائی ضروری ہے۔
دبئی کا ماڈل: پاکستان کیا سیکھ سکتا ہے؟
متحدہ عرب امارات میں رئیل اسٹیٹ کے قواعد ہر امارت میں یکساں نہیں، اس لیے دبئی کا نظام ایک اہم مثال ہے۔ دبئی میں آف پلان منصوبوں کے لیے متعلقہ قانونی شرائط کے تحت ایسکرو اکاؤنٹ قائم کرنا لازم ہے۔
اس نظام کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:
• قانونی منظوری: زمین کی ملکیت، منصوبے کی رجسٹریشن اور منظور شدہ نقشوں سے متعلق شرائط پوری کرنا ضروری ہے۔
• ہر منصوبے کا الگ اکاؤنٹ: منصوبے کے لیے جمع ہونے والی رقم کے استعمال پر متعلقہ قانونی پابندیاں لاگو ہوتی ہیں، تاکہ اسے دوسرے منصوبوں یا غیر متعلقہ اخراجات کے لیے آزادانہ طور پر استعمال نہ کیا جا سکے۔
• تعمیر کے مطابق ادائیگی: تعمیراتی پیش رفت کی تصدیق کے بعد قواعد اور معاہدے کے مطابق منظور شدہ اخراجات ادا کیے جاتے ہیں۔
• مارکیٹنگ کے اخراجات: ایسکرو فنڈ سے مارکیٹنگ کے اخراجات کی ادائیگی متعلقہ قواعد اور قانونی حدود کے تابع ہوتی ہے۔
• تکمیل کے بعد تحفظ: مقررہ شرائط کے تحت بعض رقوم تکمیل کے بعد کی ذمہ داریوں اور ممکنہ نقائص کے لیے روکی جا سکتی ہیں۔
اگر کوئی منصوبہ نامکمل رہ جائے تو متعلقہ حکام قانون کے مطابق خریداروں کے حقوق کے تحفظ، منصوبے کی تکمیل یا قابلِ اطلاق صورت میں رقم کی واپسی کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔
دبئی کے تجربے سے بنیادی سبق یہ ملتا ہے کہ سرمایہ کار کا تحفظ محض ڈویلپر کے وعدوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اسے قانونی قواعد، مالی نگرانی اور قابلِ عمل جواب دہی سے منسلک کرنا ضروری ہے۔
دوسرے ممالک سے سبق
پولینڈ میں رہائشی منصوبوں کے خریداروں کے تحفظ کے لیے مخصوص امانتی بینک اکاؤنٹس اور ڈویلپر گارنٹی فنڈ کا نظام موجود ہے۔ اسپین میں پیشگی ادائیگیوں کے تحفظ کے لیے قانونی شرائط کے تحت الگ اکاؤنٹ، بینک گارنٹی یا انشورنس کا انتظام کیا جاتا ہے۔
سنگاپور میں لائسنس یافتہ ہاؤسنگ ڈویلپرز کے لیے منصوبہ جاتی اکاؤنٹس اور رقوم کے استعمال سے متعلق قانونی پابندیاں موجود ہیں۔ ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ منظم رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں خریداروں کی رقم کا تحفظ اور ڈویلپر کی جواب دہی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
پاکستان کو دوسرے ممالک کے نظام نقل کرنے کے بجائے اپنے قانونی، معاشی اور ادارہ جاتی حالات کے مطابق مؤثر ضابطہ جاتی ماڈل تیار کرنا چاہیے۔
پاکستان میں اصل مسئلہ کیا ہے؟
پاکستان میں بعض ڈویلپرز تعمیراتی اخراجات کے لیے نئی بکنگ اور خریداروں کی اقساط پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ فروخت میں کمی آنے سے تعمیراتی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ بعض منصوبوں میں رقم کے غیر متعلقہ استعمال، پلاٹ فائلوں کی اوورسیلنگ، تعمیراتی تاخیر اور پرانے منصوبے مکمل کیے بغیر نئی لانچنگ کی شکایات بھی سامنے آتی ہیں۔
ڈی ایچ اے ویلی اسلام آباد اور بحریہ ٹاؤن راولپنڈی کے فیز 8 اور 9 جیسے منصوبوں کے حوالے سے بھی زمین، ترقیاتی کام اور تکمیل سے متعلق سوالات اور شکایات زیرِ بحث آتی رہی ہیں۔ تاہم ہر منصوبے اور ہر دعوے کا جائزہ مستند شواہد اور متعلقہ قانونی ریکارڈ کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
مسئلہ صرف نجی شعبے تک محدود نہیں۔ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA)، راولپنڈی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (RDA)، لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (LDA)، فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (DHA) سے متعلق بعض منصوبوں میں بھی تاخیر اور تنازعات کے معاملات سامنے آتے رہے ہیں۔ ہر منصوبے کی قانونی حیثیت اور حالات مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن شفافیت، بروقت تکمیل اور جواب دہی کے اصول سب پر یکساں لاگو ہونے چاہییں۔
کمزور نگرانی اور غیر مؤثر احتساب خریداروں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس لیے ضرورت کسی ایک ادارے یا ڈویلپر پر الزام لگانے کی نہیں، بلکہ ایسے نظام کی ہے جو مالی بے ضابطگیوں کو روکے، خریداروں کے حقوق کا تحفظ کرے اور متاثرہ افراد کو مؤثر قانونی چارہ جوئی فراہم کرے۔
کاروباری انجمنوں اور حکومت کی ذمہ داری
ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز آف پاکستان (ABAD)، آل پاکستان ریئل اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن (APREA)، اسلام آباد اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن (IEAA)، اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ICCI) اور ڈیفنس اینڈ کلفٹن ایسوسی ایشن آف ریئل اسٹیٹ ایجنٹس (DEFCLAREA) جیسے ادارے رئیل اسٹیٹ اور کاروباری برادری کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ان کی ذمہ داری صرف ٹیکسوں میں رعایت، کاروباری سہولتوں اور اجازت ناموں کے لیے آواز اٹھانا نہیں، بلکہ خریداروں کے تحفظ اور مارکیٹ میں اعتماد کی بحالی کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کرنا بھی ہے۔ ایسکرو اکاؤنٹس، آزادانہ مالی آڈٹ، اوورسیلنگ کی روک تھام، تعمیراتی پیش رفت کی تصدیق اور رقم کی واپسی کا مؤثر طریقۂ کار ان کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔
حکومت کو آف پلان اپارٹمنٹس، کمرشل منصوبوں اور ہاؤسنگ اسکیموں کے لیے ایک مربوط ضابطہ جاتی نظام نافذ کرنا چاہیے۔ اس نظام میں کم از کم درج ذیل اقدامات شامل ہونے چاہییں:
• زمین کی ملکیت، این او سی، منظور شدہ نقشوں اور قابلِ فروخت یونٹس کی تصدیق۔
• ہر متعلقہ منصوبے کے لیے الگ ایسکرو اکاؤنٹ۔
• تعمیراتی پیش رفت اور منظور شدہ اخراجات کے مطابق رقم کا اجرا۔
• ڈویلپر کی مالی صلاحیت اور اپنی سرمایہ کاری کا جائزہ۔
• منصوبے کی پیش رفت اور فنڈز کے استعمال کا شفاف ریکارڈ۔
• اوورسیلنگ اور مالی بے ضابطگیوں پر مؤثر کارروائی۔
• متاثرہ خریداروں کے لیے قابلِ عمل رقم واپسی اور شکایات کے ازالے کا نظام۔
اکتوبر 2025ء میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) نے رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کے ضابطہ جاتی فریم ورک پر مشاورتی اجلاس منعقد کیا تھا، جس میں پیشگی این او سی اور ایسکرو اکاؤنٹس سے متعلق امور بھی زیرِ بحث آئے۔ اب اہم ضرورت یہ ہے کہ متعلقہ تجاویز کو واضح ضابطوں، ذمہ داریوں اور مؤثر عمل درآمد میں تبدیل کیا جائے۔
ترسیلاتِ زر اور ملکی معیشت پر ممکنہ اثرات
بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر (Foreign Remittances) ملکی معیشت کے لیے اہم ہیں، لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے اعتماد کس طرح بڑھایا جائے۔ اگر بیرونِ ملک پاکستانیوں کو محفوظ، شفاف اور قابلِ اعتماد رئیل اسٹیٹ نظام میسر ہو تو ان کی جانب سے قانونی سرمایہ کاری کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
اسی طرح مقامی خریداروں کو بھی بہتر تحفظ ملنے سے جائیداد کی خریداری میں اعتماد پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں معاشی سرگرمیوں، تعمیراتی شعبے، روزگار اور قانونی لین دین میں اضافے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، جبکہ دستاویزی اور قانونی معاملات ٹیکس وصولی کو بہتر بنانے میں بھی مدد دے سکتے ہیں۔
البتہ یہ فوائد خودکار طور پر حاصل نہیں ہوں گے۔ ان کے لیے مؤثر قانون سازی، عملی نگرانی، شفاف مالیاتی ریکارڈ اور سرمایہ کاروں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔
اب فیصلہ کون کرے گا؟
سعودی عرب اور دیگر ممالک میں پاکستانیوں سے ملاقاتوں، اور متحدہ عرب امارات میں رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے مشاہدے سے میرے نزدیک ایک بنیادی نتیجہ سامنے آتا ہے: وطن سے محبت اپنی جگہ، مگر سرمایہ کاری کے لیے تحفظ اور اعتماد ناگزیر ہیں۔ اگر پاکستانی اپنا سرمایہ بیرونِ ملک زیادہ محفوظ سمجھنے لگیں تو ملک سرمایہ کاری کے اہم مواقع سے محروم ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں آف پلان پراپرٹیز اور آسان اقساط کے منصوبے متوسط طبقے کے لیے اثاثہ بنانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں، بشرطیکہ خریدار کو محض ایک فائل یا وعدہ نہیں بلکہ قانونی تحفظ، شفاف معلومات اور بروقت قبضے کی قابلِ اعتماد توقع بھی ملے۔
حکومت مؤثر قانون سازی اور اس پر عمل درآمد یقینی بنائے، کاروباری انجمنیں خریداروں کے تحفظ کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں، اور سرمایہ کار رقم لگانے سے پہلے زمین کی ملکیت، منصوبے کی قانونی حیثیت اور ڈویلپر کی ساکھ کی تصدیق کریں۔
ایسکرو اکاؤنٹ ہر مسئلے کا مکمل حل نہیں، لیکن یہ ایک شفاف اور جواب دہ رئیل اسٹیٹ نظام کی اہم بنیاد بن سکتا ہے۔ پاکستان اگر سرمایہ کار کے سرمائے کا تحفظ یقینی بنا دے تو اوورسیز پاکستانیوں کا اعتماد بحال کرنے، سرمایہ کاری کے امکانات بڑھانے اور ملکی معیشت کو تقویت دینے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا سکتا ہے۔
سرمایہ کار کا تحفظ ڈویلپر کا احسان نہیں، اس کا بنیادی حق ہے۔











