ایک شخص زندگی بھر کی جمع پونجی سے پلاٹ خریدتا ہے، مگر چند سال بعد اسے معلوم ہوتا ہے کہ منصوبہ قانونی مسائل کا شکار ہے، ترقیاتی کام رکا ہوا ہے یا ڈویلپر رقم واپس کرنے سے قاصر ہے۔ سوال یہ ہے کہ خریدار کو نقصان ہونے سے پہلے تحفظ کیوں نہیں ملا؟
پاکستان میں ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی( RERA) کی ضرورت پر بحث کرتے ہوئے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ مسئلہ نئی اتھارٹی کا ہے یا موجودہ نظام کو مؤثر بنانے کا۔
ترقیاتی ادارے موجود ہیں تو RERA کیوں؟
پاکستان میں CDA، RDA، LDA، KDA، FDA، DHA وغیرہ جیسے ادارے زمین کی منصوبہ بندی، ہاؤسنگ اسکیموں کی منظوری اور ترقیاتی کاموں کی نگرانی کرتے ہیں۔ تاہم، کسی منصوبے کی منظوری اس بات کی ضمانت نہیں کہ ڈویلپر تمام وعدے پورے کرے گا یا خریدار کی رقم محفوظ رہے گی۔
ترقیاتی اداروں کا بنیادی کام منصوبہ بندی اور تعمیراتی ضوابط کی نگرانی ہے، جبکہ ایک مؤثر RERA ڈویلپرز کی رجسٹریشن، فروخت میں شفافیت، اشتہارات، معاہدوں، خریداروں کے حقوق اور شکایات کے ازالے پر توجہ دے سکتی ہے۔
اصل مقصد ایک اور ادارہ بنانا نہیں، بلکہ ایسا نظام قائم کرنا ہے جو فراڈ کو پہلے روکے، خلاف ورزی پر بروقت کارروائی کرے اور عوام کی سرمایہ کاری کو تحفظ دے۔
اسلام آباد RERA ایکٹ 2020: قانون موجود، عمل درآمد کہاں ہے؟
اسلام آباد ریئل اسٹیٹ (ریگولیشن اینڈ ڈیولپمنٹ) ایکٹ 2020 کو 9 نومبر 2020 کو صدارتی منظوری ملی۔ اس کا مقصد ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں شفافیت، خریداروں کے تحفظ اور تنازعات کے حل کے لیے نظام قائم کرنا تھا۔
تاہم، اپریل 2026 میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق، اتھارٹی کا مکمل قیام اور قانون کا نفاذ تعطل کا شکار تھا۔ میئر اسلام آباد کی عدم دستیابی اور CDA کے اختیارات سے ممکنہ تداخل بھی رکاوٹوں میں شامل تھے۔
2026 میں ایک ترمیمی بل سینیٹ میں پیش کیا گیا اور متعلقہ قائمہ کمیٹی نے اس کی منظوری کی سفارش کی۔ تاہم، دستیاب معلومات میں اس ترمیم کے باقاعدہ قانون بننے کی حتمی تصدیق موجود نہیں تھی۔ اگست 2026 میں حکومت نے ریئل اسٹیٹ ریگولیشن کے لیے موجودہ اور متبادل قانونی ڈھانچوں پر بھی غور کیا۔
یہ صورتِ حال ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے: اگر عوامی مفاد کے لیے قانون موجود ہے تو اس پر عمل درآمد کے لیے واضح مدت، ذمہ دار ادارہ اور عملی منصوبہ کیوں نہیں؟
سیاسی عزم اور ادارہ جاتی جواب دہی
پاکستان میں قوانین اور اصلاحات کے اعلانات تو ہوتے ہیں، لیکن عوام اکثر اپنے مسائل کے حل کے لیے طویل انتظار کرتے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام، پالیسیوں میں تسلسل کی کمی اور اداروں کے درمیان اختیارات کی کشمکش بھی اصلاحات کو متاثر کرتی ہے۔
بیوروکریسی کے بعض حصوں میں تاخیر، جواب دہی کی کمی اور بدعنوانی سے متعلق عوامی شکایات حکومتی نظام پر اعتماد کو کم کرتی ہیں۔ اس کا حل محض الزامات نہیں، بلکہ شفاف طریقۂ کار، مقررہ مدت میں فیصلوں اور خلاف ورزی پر مؤثر کارروائی میں ہے۔
قانون کی اصل کامیابی اس کے نفاذ میں ہے، نہ کہ صرف اس کی منظوری میں۔
ایسکرو اکاؤنٹ:
عوام کی جمع پونجی کا تحفظ
ریئل اسٹیٹ میں مالی شفافیت کے لیے اہل منصوبوں میں ایسکرو اکاؤنٹ کا نظام متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ اس کے تحت خریداروں کی رقم مقررہ قانونی شرائط کے مطابق رکھی جائے اور تعمیراتی پیش رفت، مجاز اخراجات اور تصدیق کے بعد استعمال کی جائے۔
اس نظام کے تحت خریداروں کی رقم کا شفاف ریکارڈ، مالی معاملات کا باقاعدہ آڈٹ، غیر مجاز ادائیگیوں کی نگرانی اور منصوبے کی ناکامی کی صورت میں رقم کی واپسی کے لیے واضح طریقۂ کار ہونا چاہیے۔
ایسکرو اکاؤنٹ ہر فراڈ کو مکمل طور پر نہیں روک سکتا، لیکن مؤثر نگرانی اور قانون کے ساتھ مالی بے ضابطگیوں کے امکانات کم کر سکتا ہے۔
صوبائی سطح پر RERA کا قیام:
ہر شہری اور سرمایہ کار کے حقوق کا تحفظ
اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی خودمختاری کو اہمیت حاصل ہے۔ آئین کے آرٹیکل 142(c) کے تحت وفاقی قانون ساز فہرست سے باہر معاملات میں، آئینی حدود کے تابع، صوبے قانون سازی کر سکتے ہیں۔
پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتیں اپنے قانونی اختیارات اور مقامی ضروریات کے مطابق ریئل اسٹیٹ ریگولیشن کا جامع نظام تشکیل دے سکتی ہیں۔ اس کے لیے الگ اتھارٹیز قائم کرنے یا موجودہ اداروں میں بااختیار ریگولیٹری شعبے بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
یہاں راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (RUDA) ایک اہم مثال ہے۔ RUDA دریائے راوی کے اطراف ایک مخصوص علاقے کی شہری ترقی اور منصوبہ بندی کے لیے قائم کی گئی۔ اگر حکومت کسی مخصوص علاقے کی ترقی کے لیے الگ ادارہ قائم کر سکتی ہے تو صوبائی حکومتیں اپنے پورے صوبے کے عوام کے حقوق اور سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے جامع ریگولیٹری نظام کیوں نہیں بنا سکتیں؟
ضرورت اس بات کی ہے کہ صوبائی حکومتیں ڈویلپرز کی رجسٹریشن، منصوبوں کی قانونی حیثیت کی تصدیق، شفاف اشتہارات، خریداروں کی رقم کے تحفظ، ایسکرو اکاؤنٹس اور شکایات کے بروقت ازالے کے لیے واضح نظام متعارف کرائیں۔
یہ نظام CDA، RDA، LDA، KDA، FDA، DHA وغیرہ کے قانونی اختیارات کی جگہ لینے کے بجائے ان کے ساتھ مؤثر رابطے اور ذمہ داریوں کی واضح تقسیم پر قائم ہونا چاہیے۔
مقصد ہر شہر میں نئی اتھارٹی قائم کرنا نہیں، بلکہ پورے صوبے کے عوام کو ایسا قابلِ اعتماد تحفظ فراہم کرنا ہے جس میں خریدار کسی بھی شہر یا علاقے میں اپنی سرمایہ کاری کے حوالے سے غیر محفوظ نہ رہے۔
وفاق اور صوبوں کے درمیان معلومات کے تبادلے، مشترکہ ڈیجیٹل معیار اور مؤثر رابطے کو بھی فروغ دیا جانا چاہیے، جبکہ آئینی اختیارات کا احترام برقرار رہے۔
ماحولیاتی تحفظ، بہتر معیارِ زندگی اور سیاحت:
شہری ترقی کو صرف پلاٹوں اور بلند عمارتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ صاف پانی، نکاسیٔ آب، پارکس، صاف ہوا، ٹرانسپورٹ اور محفوظ عوامی مقامات بھی معیاری زندگی کے بنیادی عناصر ہیں۔
دریا، جنگلات، زرعی زمینیں اور قدرتی مساکن محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ ترقیاتی منصوبوں میں جہاں قانون تقاضا کرے، ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیا جائے اور متعلقہ شرائط پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
ترکی کے مختلف شہروں کے میرے مشاہدات کے مطابق، سیاحت اور ریئل اسٹیٹ ایک دوسرے کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ سیاحتی سرگرمیاں ہوٹلوں، ریستورانوں، ٹرانسپورٹ اور مقامی کاروبار کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہیں۔
پاکستان کے شمالی علاقوں، تاریخی شہروں اور ساحلی مقامات میں بھی وسیع امکانات موجود ہیں۔ تاہم، غیر منصوبہ بند تعمیرات قدرتی وسائل اور سیاحتی کشش کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ریگولیٹری اور ترقیاتی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ایسی سرمایہ کاری کو فروغ دے سکتا ہے جو ماحول، مقامی روزگار اور انسانی فلاح کو بھی اہمیت دے۔
حل کیا ہے؟
پاکستان کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں ترقیاتی اداروں اور RERA کی ذمہ داریاں واضح ہوں، غیر ضروری منظوریوں سے بچا جائے، خریداروں کی رقم محفوظ ہو اور شکایات کا فیصلہ مقررہ مدت میں کیا جائے۔
حکومت کو اسلام آباد RERA ایکٹ کے نفاذ، 2026 کی مجوزہ ترمیم اور اتھارٹی کے قیام سے متعلق رکاوٹوں پر واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔ صوبائی حکومتوں کو بھی اپنے دائرۂ اختیار میں ریئل اسٹیٹ کے مسائل، سرمایہ کاروں کے تحفظ اور موجودہ اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لے کر عملی اصلاحات متعارف کرانی چاہییں۔
ہر اصلاح کے لیے ذمہ دار ادارہ، واضح ٹائم لائن اور قابلِ پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں۔ عوام کو بتایا جائے کہ کتنی شکایات حل ہوئیں، خلاف ورزیوں پر کتنی کارروائیاں ہوئیں اور ان اقدامات سے کیا عملی فائدہ پہنچا۔
نتیجہ: عوام کو اعلانات نہیں، نتائج چاہییں
میرے نزدیک پاکستان کا مسئلہ صرف قوانین کی کمی نہیں، بلکہ سیاسی عزم، ادارہ جاتی جواب دہی اور مسلسل عمل درآمد کا بھی ہے۔
اگر موجودہ اداروں کی اصلاح سے سرمایہ کاروں کا تحفظ ممکن ہے تو غیر ضروری بیوروکریسی بڑھانے کے بجائے اصلاحات کو ترجیح دی جائے۔ لیکن اگر حقیقی ریگولیٹری خلا موجود ہے تو اسے واضح اختیارات، شفافیت اور جواب دہی کے ساتھ پُر کیا جائے۔
پاکستان کو صرف ایک نئی اتھارٹی نہیں، ایسا قابلِ اعتماد نظام چاہیے جو فراڈ کو روکے، عوام کی جمع پونجی کا تحفظ کرے، ماحول کو محفوظ رکھے اور شہریوں کو بہتر معیارِ زندگی فراہم کرے۔
ریاست کی کامیابی قوانین اور اجلاسوں کی تعداد سے نہیں، بلکہ اس اعتماد سے ناپی جاتی ہے جو عام شہری کو اپنے حقوق، سرمایہ کاری اور مستقبل کے تحفظ کے بارے میں حاصل ہوتا ہے۔











