تحریر: ذیشان چیمہ
پاکستان کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں ڈیجیٹلائزیشن، فائل کلچر اور زمینی حقائق کا جائزہ
میں یہ مضمون محض اپنی رائے کی بنیاد پر نہیں، بلکہ تحقیق، مسئلے کی نشاندہی، نئی پیش رفت، موجودہ نظام کی خامیوں اور انتظامی کمزوریوں کو سامنے رکھتے ہوئے لکھ رہا ہوں۔
عزیز قارئین! آپ کے سوالات، اعتماد اور حوصلہ افزائی ہی مجھے ایسے موضوعات پر لکھنے کی ترغیب دیتے ہیں جو براہِ راست عام پاکستانی کی زندگی بھر کی جمع پونجی سے جڑے ہیں۔ میری کوشش ہے کہ نہ غیر ضروری سنسنی ہو اور نہ کسی ادارے پر بلاجواز الزام، بلکہ حقائق اور زمینی صورتحال کو متوازن انداز میں آپ کے سامنے رکھا جائے۔
کیونکہ ریئل اسٹیٹ میرے لیے صرف زمین یا فائل کا نام نہیں، بلکہ لوگوں کی محنت، خواب، اعتماد اور مستقبل کا معاملہ ہے۔
اور اسی لیے بنیادی سوال یہ ہے:
کیا ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ واقعی ایک ایسا نظام بنا سکے گا جہاں عام پاکستانی زمین خریدنے سے پہلے ملکیت، NOC، LOP، لوکیشن اور پلاٹ کی حقیقی حیثیت خود تصدیق کر سکے؟
اور کیا وہ دن آئے گا جب جعلی فائل، ڈبل الاٹمنٹ، اوور سیلنگ اور غیر قانونی سوسائٹی کے ہاتھوں لوگوں کی جمع پونجی برباد ہونا ختم ہو جائے گا؟
پاکستان میں کیا بدل رہا ہے؟
پاکستان کا ریئل اسٹیٹ شعبہ ایک بڑی تبدیلی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ کئی دہائیوں سے چلنے والے کاغذی فائل سسٹم، روایتی الاٹمنٹ اور غیر مرکزی ریکارڈ کی جگہ اب ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ، GIS میپنگ، بائیومیٹرک تصدیق اور آن لائن ویری فکیشن جیسے نظام متعارف ہو رہے ہیں۔
پنجاب میں PLRA، LRMIS، ای رجسٹری اور گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ اسی تبدیلی کا حصہ ہیں۔ 2025 میں ساہیوال کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں ڈیجیٹل پراپرٹی ٹرانسفر، NADRA بائیومیٹرک اور ڈیجیٹل پلاٹ میپنگ کا عملی نظام بھی شروع کیا گیا۔
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس تبدیلی سے پاکستان کا روایتی ’’پلاٹ فائل کلچر‘‘ واقعی ختم ہو جائے گا؟
جواب ابھی مکمل طور پر واضح نہیں۔
ڈیجیٹل نظام آگے بڑھ رہا ہے، مگر سو فیصد عملداری میں کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔ زمین کے پرانے ریکارڈ کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن، مختلف اداروں کے ڈیٹا کو آپس میں منسلک کرنا، نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو مرکزی نظام سے جوڑنا اور تکنیکی و انتظامی مسائل حل کرنا ایک مرحلہ وار عمل ہے۔
اس لیے مستقبل بلاشبہ ڈیجیٹل نظر آتا ہے، لیکن مکمل تبدیلی فوری طور پر نہیں ہوگی۔
اوور سیلنگ اور غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز
دوسرا اور زیادہ اہم مسئلہ بڑے شہروں میں موجود غیر قانونی سوسائٹیز اور اوور سیلنگ ہے۔
اسلام آباد میں CDA نے 2026 میں بتایا کہ شہر میں تقریباً 160 ہاؤسنگ اسکیمیں موجود ہیں، جن میں 99 غیر مجاز تھیں۔ بعض سوسائٹیز پر منظور شدہ زمین سے کہیں زیادہ پلاٹ فروخت کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے۔ CDA نے اسی مسئلے کی روک تھام کے لیے پلاٹ ٹرانسفر کو ریگولیٹ کرنے کے لیے کمیٹی بھی قائم کی۔
لاہور، راولپنڈی اور دیگر بڑے شہروں میں بھی جعلی، غیر منظور شدہ یا اوور سیل شدہ ہاؤسنگ منصوبوں کے معاملات سامنے آتے رہے ہیں۔
لیکن مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کسی ڈویلپر یا بلڈر کے خلاف کارروائی ہو۔
اصل سوال یہ ہے کہ جس شخص نے اپنی زندگی کی جمع پونجی لگا کر فائل یا پلاٹ خریدا، اسے اس کی رقم یا قانونی حق کیسے واپس ملے گا؟
مثال کے طور پر NAB کے ریکارڈ میں Eden Housing Society کے متاثرین کے لیے اربوں روپے کی ریکوری اور تقسیم کا ذکر موجود ہے، جبکہ AAA Associates کیس میں بھی متاثرین کے دعووں کے مقابلے میں ریکوری کی کارروائی ہوئی۔
لیکن ہر کیس کا نتیجہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔
2026 میں لاہور کے Palm Vista Housing اسکینڈل میں سینکڑوں متاثرین کی جانب سے اربوں روپے کے نقصان اور اوور سیلنگ کے الزامات سامنے آئے، جبکہ متاثرین اپنی رقم کی واپسی کے منتظر رہے۔
اسی طرح اسلام آباد میں CBR Residentia کے معاملے میں بھی NAB نے مبینہ بے ضابطگیوں کی انکوائری منظور کی، جہاں 200 سے زیادہ افراد نے شکایات درج کرائیں۔
کارروائی سے آگے — اصل مسئلہ ریکوری کا ہے
یہاں حکومت کے سامنے اصل امتحان صرف ڈیجیٹل ریکارڈ بنانا نہیں بلکہ پرانے نقصانات کا حل بھی ہے۔
اگر ایک سوسائٹی نے ایک ہی پلاٹ کئی افراد کو فروخت کر دیا، منظور شدہ LOP سے باہر پلاٹ بنا دیے یا زمین سے کہیں زیادہ فائلیں فروخت کر دیں، تو صرف QR Code یا ڈیجیٹل ریکارڈ اس مسئلے کا مکمل حل نہیں ہوگا۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ:
• پہلے سے موجود متاثرین کی ریکوری کا مؤثر نظام ہو۔
• ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی ہو۔
• زمین اور خریداروں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
• اوور سیلنگ روکنے کا واضح قانونی اور ڈیجیٹل طریقہ موجود ہو۔
اصل ڈیجیٹل انقلاب کیا ہوگا؟
میرے نزدیک حقیقی تبدیلی اس وقت ہوگی۔ جب خریدار صرف پلاٹ نمبر درج کرکے جان سکے کہ جہاں وہ پلاٹ خریدنے جا رہا ہے۔ اس سوسائٹی/ ہاؤسنگ سکیم کا اسٹیٹس کیا ہے :
• زمین کا مالک کون ہے؟
• زمین کتنی ہے؟
• NOC موجود ہے؟
• LOP منظور شدہ ہے؟
• GIS پر پلاٹ کہاں موجود ہے؟
• پلاٹ پہلے الاٹ یا منتقل تو نہیں ہوا؟
• زمین کے مقابلے میں کتنے پلاٹ فروخت کیے گئے؟
• اور ملکیت محفوظ طریقے سے کیسے منتقل ہوگی؟
صرف QR Code یا ڈیجیٹل فائل کافی نہیں؛ ڈیجیٹل ریکارڈ کو زمین کی حقیقت سے جوڑنا ہوگا۔
مستقبل میں سرمایہ کار کے لیے صرف ’’فائل‘‘ کافی نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اصل اہمیت منظور شدہ زمین، LOP، NOC، ملکیت، GIS لوکیشن، الاٹمنٹ ریکارڈ اور قابلِ تصدیق سرکاری ڈیٹا کی ہونی چاہیے۔
مستقبل صرف نئے خریداروں کا نہیں
میں چاہتا ہوں کہ یہ نظام صرف مستقبل کے خریداروں کو محفوظ نہ کرے، بلکہ ان لوگوں کے لیے بھی راستہ بنائے جنہوں نے پہلے ہی اپنی جمع پونجی گنوا دی ہے۔
میں اس دن کا انتظار کرتا ہوں جب کسی عام پاکستانی کو ایک فائل کی وجہ سے اپنی زندگی بھر کی محنت، وقت اور ذہنی سکون داؤ پر نہ لگانا پڑے۔
جب کسی خریدار کو یہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہو:
’’زمین کہاں ہے؟‘‘
’’NOC ہے؟‘‘
’’یہ پلاٹ کسی اور کو تو نہیں بیچا گیا؟‘‘
’’میری رقم کب واپس ملے گی؟‘‘
یہ صرف ٹیکنالوجی کا مسئلہ نہیں؛ یہ لوگوں کی زندگی، اعتماد اور برسوں کی محنت کا مسئلہ ہے۔
نتیجہ — دعویٰ بھی نہیں، مکمل حقیقت بھی نہیں
موجودہ صورتحال کو نہ مکمل کامیابی کہنا درست ہے اور نہ صرف ایک حکومتی اعلان۔
حقیقت یہ ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن کا عمل شروع ہو چکا ہے، لیکن پاکستان کے پورے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو ایک مرکزی، شفاف اور مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام میں منتقل کرنا ابھی ایک بڑا مرحلہ باقی ہے۔
ایک مؤثر ڈیجیٹل لینڈ سسٹم وہ ہوگا جہاں زمین، ملکیت، NOC، LOP، GIS لوکیشن، الاٹمنٹ، ٹرانسفر اور فروخت شدہ پلاٹس کا ریکارڈ ایک دوسرے سے منسلک اور قابلِ تصدیق ہو۔
اور شاید یہی اس پوری اصلاح کا سب سے اہم سوال ہے:
کیا حکومت صرف نئے فراڈ روکنے کا نظام بنا رہی ہے، یا پرانے متاثرین کو بھی ان کا حق واپس دلانے کے لیے ایک مکمل نظام تیار کرے گی؟











