اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بروقت گورنر راج نافذ نہ کیا جاتا تو صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔
مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کی پارلیمانی پارٹی اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ صوبے کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عظیم قربانیاں دی ہیں تاہم گزشتہ 13 سال کے دوران عوامی خدمت کے بجائے سیاسی نعروں اور تقسیم کی سیاست پر توجہ دی گئی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبر پختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملنے والے 800 ارب روپے سے کتنے سیف سٹی منصوبے قائم کیے گئے اور محکمہ انسداد دہشت گردی کو کتنا مضبوط بنایا گیا؟ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں پولیس کی 5 ہزار خالی آسامیوں پر بھی بھرتیاں نہیں کی گئیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے سے ملک کو بھاری نقصان پہنچا۔ خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
وزیراعظم کے مطابق ناگزیر حالات میں صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی گئی تاہم اتفاق رائے نہ ہوسکا۔
انہوں نے کہا کہ عوام، ملک، معیشت اور معاشرے کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے بروقت فیصلہ کرنا ضروری تھا۔ مسلم لیگ ن صوبے کی ترقی اور عوامی خدمت کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔











