فضل الرحمان کے بیان پر ردعمل دیا تو لگا مجھ میں ابھی دم ہے، خواجہ آصف

سیالکوٹ:خواجہ آصف نے اپنی سیاسی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 1991 میں سیاست شروع کی اور 36 سال سے عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ تھک گیا ہوں لیکن مولانا فضل الرحمان سے اسمبلی میں ملاقات اور ان کے بیان پر ردعمل دیا تو لگا کہ مجھ میں ابھی دم ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ حالیہ جنگ میں کوئی ابہام باقی نہیں رہا اور بھارت کی حکومت، فوج اور میڈیا نے بھی اپنی شکست تسلیم کی ہے۔ ان کے مطابق یہ پاکستان کے لیے بڑا اعزاز ہے۔

سیالکوٹ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کا مقابلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں سفارتی کامیابیاں بھی جاری ہیں اور معرکہ حق کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کا مقام بہتر ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر بھی متعدد بار پاکستانی کارروائیوں اور گرائے گئے طیاروں کا ذکر کر چکے ہیں۔ پاکستان نے اسلامی ممالک کو یہ پیغام دیا ہے کہ بیرون ملک قائم فوجی اڈے ضروری نہیں کہ ان کے تحفظ کے لیے ہوں بلکہ اپنی حفاظت اپنے وسائل اور طاقت سے ممکن بنائی جاسکتی ہے۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بیرون ملک فوجی اڈے کسی ملک کے تحفظ کی ضمانت نہیں ہوتے بلکہ حقیقی دفاع اپنی طاقت اور وسائل سے ممکن ہے۔ انہوں نے ایران اور عرب ممالک کے درمیان اختلافات کم کرنے میں پاکستان کے کردار کا بھی ذکر کیا۔

وزیر دفاع نے اپنی سیاسی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 1991 میں سیاست شروع کی اور 36 سال سے عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ وہ مشرف دور میں اٹک قلعہ جبکہ 2020 میں نیب کی حراست میں بھی رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی انتقام ملک کے مفاد میں نہیں اور نیب حکام انہیں گرفتاری کی وجوہات بھی نہیں بتا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں