بیمار محکمہ صحت

سرکاری ہسپتالوں میں علاج کروانا ہمیشہ سے مشکل عمل رہا ہے اور اب تو جو ڈیجیٹل سسٹم متعارف کرایا گیا ہے اس سے حالات مزید کٹھن ہوگئے ہیں۔یہ سارا نظام بنیادی طور پر مریضوں کی سہولت کے لئے بنایا گیا تھا لیکن حقیقت میں اس کی پیچیدگیوں اور ہسپتالوں کی انتطامیہ کی نااہلی کی وجہ سے پورا سسٹم علاج کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ چند دن پہلے جنرل ہسپتال میں ایک مریضہ کا معائنہ کروانا تھا اس خاتون کے بریسٹ میں کیلشیم کی سخت رسولی بنی ہوئی تھی ۔ کئی سال سے یہ رسولی موجود تھی لیکن اب اس کی تکلیف بڑھ رہی تھی۔ مریضہ نے لاہور جنرل ہسپتال سے آوٹ ڈور میں چیک اپ کے لئے کمپیوٹرائزڈ پرچی حاصل کی اور سرجیکل آوٹ ڈور کی قطار میں کھڑی ہوگئی۔ ایک گھنٹہ کے بعد آڈٹ ڈور میں موجود میڈیکل افسر نے مریضہ کی ہسٹری لی اور کنسلٹنٹ سے مریضہ کی بیماری ڈسکس کی تو وہ کنسلٹنٹ اٹھ کر معائنہ روم میں گیا اور مریضہ کی بائیوپسی کرانے کا مشورہ دیا۔ اس کے بعد قریب ہی بیٹھے کمپیوٹر آپریٹر نے ہسپتال کے کمپیوٹر میں مریضہ کو تفویض کئے گئے علاج کا اندراج کیا اور نیورو ریڈیالوجی کے شعبہ میں بھیج دیا۔ وہاں موجود ڈاکٹر نے مریضہ کی فائل میں موجود مختلف رپورٹس کو دیکھا اور کہا کہ دوبارہ ان کے شعبہ کی پرچی بنا کر لائیں۔ حالانکہ پہلے بھی مریضہ کے پاس آوٹ ڈور کی پرچی موجود تھی چنانچہ دوبارہ پرچی بنائی گئی۔ اس بار اس ڈاکٹر نے اس پرچی پر بائیوپسی کی فیس جمع کروانے کو کہا اور ایک بار پھر پرچی کاونٹر پر جا کر فیس کی الگ رسید حاصل کی جس پر بائیوپسی کی فیس آوٹ ڈور میں موجود بینک میں جمع کروانے کا کہا گیا جبکہ بینک کے باہر ایک لمبی قطار موجود تھی اور اس قطار میں جانے کا صاف مطلب تھا کہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ آپ کی فیس جمع نہیں ہو سکتی تھی۔ مریضہ نے موبائل ایپلیکیشنز کے ذریعہ فیس جمع کروانے کی کوشش کی تو ہسپتال کے اندر نہ تو وائی فائی چل رہا تھا اور نہ ہی موبائل کا انٹرنیٹ ڈیٹا کام کررہا تھا۔ چنانچہ مریض نے ہسپتال کے باہر سے جاکر اس کی ادائیگی کی۔ وہ مریض جب دوبارہ نیورو ریڈیالوجی کے شعبہ میں گیا تو کافی دیر انتظار کے بعد اسے اندر بلایا گیا اور یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ یہ کیلشیم کی سخت رسولی ہے اس کی بائیوپسی نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ مریضہ دوبارہ سرجیکل آوٹ ڈور میں چلی گئی اور ڈاکٹر سے بتایا کہ ریڈیالوجی کے شعبہ کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مذکورہ رسولی کی بائیوپسی ممکن نہیں ہے۔ تب کنسلٹنٹ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ مجھے ایکسرے دکھائیں اور ایکسرے دیکھنے کے بعد ڈاکٹر نے کہا کہ اوہ یہ تو واضح نظر آرہا ہے کہ اس کی بائیوپسی نہیں ہو سکتی۔ میں اس ڈاکٹر کے اس رویہ پر حیران تھا کہ کس طرح اس نے ​لاپرواہی سے ایک بزرگ مریض کو خوار کیا۔ پھر اس ڈاکٹر نے کچھ لیبارٹری ٹیسٹ لکھ کر دئیے اور کہا کہ ایک ماہ بعد وارڈ میں داخل ہو جائیں۔ مریض کو دوبارہ لکھے گئے ٹیسٹ کروانے کے لئے ایک بار پھر لمبی قطار میں لگنا پڑا جس کے بعد ٹیسٹ کی فیس کے لئے ایک بل تھما دیا گیا جسے پھر بینک کی لمبی قطار میں کھڑے ہونا پڑا۔وہ تو بھلا ہو وہاں ہسپتال کے ملازم کا جس نے فیس خود لے کر ٹیسٹ کی قطار میں کھڑا کردیا ۔ صبح نو بجے سے قطاروں میں کھڑی بوڑھی عورت نے جب تین بجے خون کے نمونے دئیے تو اس کی حالت غیر ہو چکی تھی۔ اس مریض کو آج کے ڈیجیٹل دور میں جب پورے ہسپتال کے سسٹم کو آنلائن کرنے کا دعوٰی کیا جارہا ہے مختلف ٹوکن اور آوٹ ڈور کی پرچی لینے کے لئے پانچ بار قطار میں لگنا پڑا اور فیس جمع کروانے اور اس کی ادائیگی کی سلپ لینے کے لئے چار بار قطار میں جانا پڑا اور آخر میں خون کے نمونے دینے کے لئے پھر لمبی قطار میں لگنا پڑا۔ پھر مریض کو پیناڈول کی گولیاں لینے کے لئے ایک لمبی قطار میں جانا پڑا اور وقت ختم ہونے کی بناء پر پیناڈول کی گولیاں بھی نہ مل سکیں۔ اس کے بعد مریض کو ایک ماہ کا وقت دے دیا گیا کہ وارڈ میں آکر داخل ہو تو مزید علاج کیا جائے گا۔ مشکل کی بات یہ ہے کہ حکومت مسلسل اس بات کا کریڈٹ لیتی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں علاج کے ساتھ ساتھ ادویات بھی مفت ملتی ہیں ۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے کیونکہ لاہور جیسے شہر کے بڑے ہسپتالوں میں علاج کے حوالے سے جو پالیسی اپنائی گئی ہے اس میں مریض اور ڈاکٹر کے درمیان تعلق عملی طور پر ختم ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر مریض کی تشخیص میں دلچسپی نہیں لیتے ہیں کیونکہ انھیں اس چیز کا علم ہے کہ مریض کو جن ادویات کی ضروریات وہ مریض کو نہیں ملیں گی بلکہ ہر مرض کو چند ایک مخصوص ادویات دے دی جاتی ہیں جو سر درد سے لے معدے کے درد اور گردے کی بیماریوں میں تھمادی جاتی ہیں۔ جنرل ہسپتال کے آوٹ ڈور میں جس طرح صبح سے لے کر دوپہر تک مجبور مریضوں کی درگت بنائی جاتی ہے وہ سراسر زیادتی کے مترادف ہے۔ ہسپتال کی اسی دھوکہ دہی کی پالیسی نے مریضوں کو مشکل میں ڈالنے کے کوئی کام نہیں کیا ہے۔ وزیر اعلٰی پنجاب دعوے تو بہت کرتی ہیں کہ وہ عوام کے علاج معالجے پر بالکل کمپرومائز نہیں کرتی ہیں اور ان کی نیت یقینی طور پر نیک بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے مختصر مدت میں لاہور میں بڑا کینسر اور دل کا ہسپتال کھڑا کردیا ہے۔ یہی نہیں گجومتہ کے پاس میڈیکل سٹی بنانے کا بھی ارادہ رکھتی ہیں۔ انھوں نے پچھلے سال خطیر رقم صحت کے شعبہ کو فراہم کرکے بڑی دلیری کا کام کیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وزیر اعلٰی ہر معاملہ میں بیوروکریسی پر انحصار کرتی ہیں اور افسران سے خود رابطے میں رہتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ بیوروکریسی کو مختلف منصوبوں میں استعمال کرنا درست ہے لیکن اس پر مکمل انحصار کرنا عقلمندی نہیں ہے۔ وزیراعلٰی سے اکثر ارکان اسمبلی کا اعتراض ہے کہ وہ عوامی نمائندوں اور پارٹی کارکنان کو نظر انداز کرتی ہیں جس کی وجہ سے پارٹی کے اندر سخت مایوسی پائی جاتی ہے۔ اس وقت سرکاری ہسپتالوں کے آؤٹ ڈور میں جو ڈیجیٹل پرچی کاونٹر سسٹم اپنایا گیا ہے وہ وقت کے ضیاع کی بڑی وجہ ہے۔ اس سے تو مینول پرچی ہزار گنا بہتر تھی جس پر ناصرف مریض کا چیک اپ ہوتا تھا بلکہ داخلہ اور ادویات بھی مل جاتی تھیں۔ اب ہر بار مریض کو الگ سے پرچی بنانے کے لیے کہا جاتا ہے جس سے ڈور دراز سے آئے مریض دن بھر خوار ہونے کے بعد بغیر دوا کے واپس چلے جاتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں