راولپنڈی: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے بعد ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بڑا اضافہ ہوگیا۔ گڈز ٹرانسپورٹرز نے صرف 3 روز میں کرایوں میں 40 فیصد تک اضافہ کر دیا، جبکہ کراچی سے پشاور تک کنٹینرز کا کرایہ 9 لاکھ روپے سے تجاوز کر گیا۔
ڈیزل مہنگا ہونے کے باعث بین الاضلاعی اور مقامی ٹرانسپورٹرز نے بھی کرایوں میں 27 فیصد تک اضافہ کردیا ہے، جبکہ اسٹاپ ٹو اسٹاپ کرایہ 60 روپے تک پہنچ گیا۔ ٹرانسپورٹ اخراجات بڑھنے سے اشیائے خورونوش، سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
دوسری جانب پٹرول کی قیمت 376 روپے فی لیٹر تک پہنچنے کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد نے گاڑیوں کے بجائے موٹر سائیکلوں کا استعمال بڑھا دیا، جس کے نتیجے میں اقساط پر موٹر سائیکلوں کی فروخت میں 22 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن، پنجاب ٹیچرز یونین اور بار ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے بڑھتی مہنگائی پر احتجاج کرتے ہوئے گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے فوری ریلیف کا مطالبہ کیا ہے۔
صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی راولپنڈی نے نئے کرایہ نامے کے تعین کے لیے پیر کو ٹرانسپورٹرز کا اجلاس طلب کرلیا، جبکہ خودساختہ کرائے بڑھانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت بھی کی ہے۔











