لاہور میں میڈیکل کالجوں میں پرنسپل کی خالی آسامیوں پر گزشتہ روز انٹرویو ہوئے ۔ انٹرویوکے لئے بارہ امیدواروں کو بلایا گیا تھا جبکہ دو امیدوار انٹرویو میں نہیں آئے اور بقایا دس امیدواروں کے انٹرویو کا مرحلہ تکمیل کو پہنچ گیا اور دونوں پوزیشنز کے لئے جونئیر افراد کو سلیکٹ کرلیا گیا ہے ۔ اطلاع یہی ہے کہ اس انٹرویو کے لئے پہلے سے درخواستیں طلب نہیں کی گئی تھیں بلکہ پک اینڈ چوز کے طریقہ سے امیدواروں کو انٹرویو کے لئے بلایا گیا تھا اور توقع کے عین مطابق ہی جونیئر ترین افراد کو اہم عہدے دے دیئے گئے ہیں ۔ اس سے پہلے وائس چانسلرز کی تعیناتی میں بھی اسی طرح کی بد انتظامی دیکھنے میں آئی تھی جب وائس چانسلر کی تعیناتی کے لئے باقاعدہ اخبار میں اشتہار دیا گیا تھا اور درخواستیں وصول کی گئی تھیں لیکن پھر ایک دم سے سلیکشن کے مرحلہ کو روک کر قواعدو ضوابط کو ہی بدل ڈالا تھا اور عمر کی حد کو پینسٹھ سال سے بڑھا کر ستر سال کردیا گیا۔ اس سارے مراحل کے بعد کچھ لوگوں کو نوازنا مقصود تھا چنانچہ وہ مقاصد حاصل کر لئے گئے لیکن سلیکشن کا پورا مرحلہ شفاف نہیں رہا۔ ایسا ہی کچھ پرنسپل کی سلیکشن میں کیا گیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ پرنسپل کی خالی نشستوں کے لئے درخواستیں طلب کی جاتیں اور اس کے لئے کوئی نہ کوئی میرٹ بنایا جاتا۔ پھر جو لوگ اس پوسٹ کے لئے اپلائی کرتے ان میں سکروٹنی کرکے آٹھ دس ٹاپ پوزیشن والے امیدواروں کو انٹرویو کے لئے بلایا لیا جاتا۔ جبکہ یہاں حالت یہ ہے کہ خود محکمہ صحت نے دس بارہ پروفیسرز کو انٹرویو کے لئے بلایا اور ان امیدواروں میں بھی ایسے لوگ شامل ہیں جن کی سنیارٹی ستر سے اسی نمبر کے درمیان آتی ہے۔ اس طرح کے عمل سے بظاہر سلیکشن کے پراسس میں شفافیت نہیں رہتی ہے ۔ جو جونئیر لوگ اس طرح کے مراحل سے سلیکٹ ہو کر آتے ہیں ان کے لئے اخلاقی جواز نہیں رہتا ہے اور یہ لوگ اپنے سے سنیئر پروفیسرز کے جب باس بنتے ہیں تو ناصرف ان کے لئے اپنا مقام بنانا مشکل ہوتا ہے بلکہ ان سنیئر افراد کے دلوں میں بھی کسک رہتی ہے کہ ان کو رد کرکے بنائے جانے والے باس نے ان کے بنیادی حق پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ یہیں سے اداروں کے اندر ٹوٹ پھوٹ کا عمل جنم لیتا ہے۔ اس وقت جبکہ کہ پرنسپلز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی آچکا ہے اور انٹرویو کئے گئے افراد میں سے جونئیر ترین پروفیسرز کو نوازا گیا ہے اور اٹھہترویں نمبر پر موجود پروفیسر شعیب نبی کو پرنسپل سروسز انسٹیٹیوٹ بنادیا گیا ہے جبکہ امیرالدین پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کالج میں پروفیسر جودت سلیم کو پرنسپل بنایا گیا ہے جن کی ریٹائرمنٹ میں صرف پانچ ماہ باقی ہیں اور ساتھ ہی سنیارٹی لسٹ میں اسی ویں پوزیشن پر موجود پروفیسر شہزاد انور کو شعیب نبی کی جگہ سی ای او میو ہسپتال بنادیا گیا ہے۔ عقل والوں کے لئے یہ واضح نشانی ہے کہ پروفیسر جودت سلیم کو پانچ ماہ کے لئے پرنسپل بنانے اور اس دوران میں پروفیسر شہزاد انور کو میوہسپتال کا سی ای او بنانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پروفیسر جودت کی ریٹائرمنٹ کے بعد سنیارٹی لسٹ میں اسی ویں پوزیشن پر آنے والے پروفیسرشہزاد انور کو پرنسپل امیرالدین میڈیکل کالج بنائے جانے کے قوی امکانات ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سنیارٹی لسٹ میں پچاس ویں نمبر پر موجود پروفیسر فاروق احمد کو نارووال کا پرنسپل بنادیا گیا ہے۔ حیرانگی کی بات ہے کہ دس امیدواروں میں ان تمام امیدواروں کی سلیکشن ہوئی ہے جو میرٹ لسٹ میں سب سے نیچے تھے۔ میں نے گزشتہ روز اپنی شائع ہونے والی رپورٹ میں اس چیز کا اظہار کیا تھا کہ سنیئر ترین پروفیسرز کے ہوتے ہوئے جونیئر پروفیسرز کو انٹرویو میں بلانے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کو انٹرویو لسٹ میں شامل کرنا ہی ان کی سلیکشن کی واضح نشانی ہے ۔جس عمل میں پہلے سے ہی جونیئر امیدواروں کی سلیکشن صاف دکھائی دی جانے لگے تو سمجھ جائیں کہ میرٹ پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔ اس سے تو بہت بہتر تھا کہ بغیر انٹرویو کے مخصوص لوگوں کی سلیکشن کر لی جاتی اور یہ پیغام دے دیا جاتا کہ پسندیدہ افراد چاہے میرٹ پر پورا اترتے ہوں یا نہ اترتے ہوں ان کی سلیکشن کی جا سکتی ہے اور بیوروکریسی کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ جس بھی شخص کو چاہے تخت ہر بٹھاسکتی ہے۔ اس سے بھی بری بات یہ ہے کہ سنئیر ترین پروفیسرزکو بلا کر رد کرنا ان افراد کی بھی توہین ہے۔ میں کئی ایسے امیدواروں کو جانتا ہوں جو بڑی جاندار شخصیت کے حامل ہیں اور ان کی کارکردگی بھی ہمیشہ اچھی رہی ہے لیکن انھیں انٹرویو میں بلا کر ان سے کہیں جونیئر افراد کو ترقی دینا مناسب عمل نہیں ہے۔ اس طرح کے سلیکشن پراسس سے سفارشی اور موقع پرست لوگوں کو آگے آنے کا موقع ملتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے پورے نظام میں میرٹ کی نہ تو کسی کو فکر ہے اور نہ ہی اداروں کی ترقی کا کوئی مشن ہے بلکہ اپنےاپنے پسندیدہ افراد کو نوازنے کے لئے اداروں کی سالمیت کو ہی دا و پر لگا دیا جاتا ہے۔۔ میں سمجھتا ہوں کی جس طرح سے میرٹ کو تماشہ بنایا جارہا ہے تو وہ وقت دور نہیں ہے جب ایماندار قابل افراد خود عہدوں کو قبول کرنے سے انکار کردیں گے اور سسٹم کو تباہ کرنے والوں کے پاس نظام کو بچانے کا کوئی حل بھی موجود نہیں ہوگا۔ حیرانگی کی بات یہ بھی ہے کہ وائس چانسلرز کا انٹرویو کرنے والی وزیر اعلٰی نے پرنسپلز کی سلیکشن میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔ حالانکہ وائس چانسلرز کے حقیقی باس تو گورنر پنجاب تھے اور وائس چانسلرز کی سلیکشن کے لئے ان کا انٹرویو کرنا سمجھ میں آتا ہے جبکہ وزیر اعلٰی کو پرنسپلز کی سلیکشن میں دلچسپی لینی چاہیئے تھی ۔ موجودہ حالات میں جب وزیر اعلٰی پنجاب صوبے میں صحت کے شعبہ پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں تو میرٹ پر اچھی شہرت کے پرنسپلز کی تعیناتی بے حد ضروری تھی کیونکہ پرنسپل کا عہدہ ٹیچنگ ہسپتالوں میں بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے جسے ٹیچنگ اور علاج کے دونوں امور کو دیکھنا ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ پرنسپلز کی سلیکشن میں وزیر اعلٰی پنجاب کی مرضی شامل نہیں ہے۔ اگر وزیر اعلٰی پنجاب اس اہم سلیکشن کو خود دیکھتیں تو سنیئر پروفیسرز کی تذلیل کرکے جونئیر افراد کو تعینات کرنے کی ہرگز اجازت نہ دیتیں۔











