پیارے پڑہنے والے ! تم تو جانتے ہی ہو کہ کبھی کبڈی پنجاب کا ھر دلعزیز کھیل ہوا کرتا تھا ۔ میلوں ٹھیلوں میں یا تہواروں میں کبڈی کے میچ ہوا کرتے تھے ۔ کبڈی کے شائقین بڑے اشتیاق سے یہ مقابلے دیکھتے تھے۔ اب زرا یہ مقابلے کم ہوتے ہیں۔ کبڈی میں دو طرح کے کھلاڑی ہوتے ہیں ۔ ایک کو “ساہی” کہتے ہیں ۔ یہ اپنی ٹیم کی طرف سے جاتا ہے، اور دوسری ٹیم والے اسے پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس نے مخالف ٹیم کے کسی ایک پلئیر کو ہاتھ لگانا ہوتا ہے اور پھر بھاگ کے واپس اپنے کیمپ میں آنا ہوتا ہے۔ جس پلئیر کو وہ ہاتھ لگاتا ہے اب اس کا کام اس پلئیر کو پکڑنا ہوتا ہے ۔ پکڑنے والے پلئیر کو “جاپھی” کہتے ہیں ۔ تو بڑے بڑے نامور ساہی اور جاپھی پیدا ہوئے اور ان کا بڑا چرچا ہوا کرتا تھا۔ سرگودھا کا ایک کبڈی کا پلئیر تھا اور اس کی وجہ شہرت جاپھی ہونا تھا۔ نام تو اس کا جو بھی تھا ، لیکن وہ مشہور چراغ بالی کے نام سے ہوا ۔ بعد میں وہ شاید ڈاکے ڈالنے لگا۔ بہرحال اس کی اصل وجہ شہرت کبڈی کے میدان میں بطور جاپھی کے ہی تھی ۔ وہ جس کو جھپا مار لیتا تھا تو پھر اس کھلاڑی کے لئیے اس سے خود کو چھڑوانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوتا تھا۔
پیارے پڑہنے والے! آپ تم یہ سوچ رہے ہوں گئے کہ میں اج یہ چراغ بالی کا قصہ لے کے بیٹھ گیا ہوں تو ماجرا کیا ہے۔ چراغ بالی اس لئیے یاد آ گیا کہ چراغ بالی تو کبڈی کا پلئیر تھا اور بطور جاپھی مشہور تھا لیکن وطن عزیز میں تو سارے ہی چراغ بالی ہیں۔ ہمارے سیاستدان ، حکمران ، بیوروکریٹ ، ملا حضرات ، اسٹیبلشمنٹ والے ، ہمارے فوجی ڈکٹیٹر۔ چلو بات ان تک محدود رہتی تو ٹھیک تھی۔ پر وطن عزیز میں تو پٹواری سے لیکر پروفیسر تک سبھی چراغ بالی ہیں ۔
یہ جس شئے کو جھپا مار لیتے ہیں پھر مرتے دم تک اس کی جان نہی چھوڑتے۔ ایوب خاں برسر اقتدار آیا تو گیارہ سال تک ملک و ملت کے سر پے سوار رہا تاوقتیکہ لوگوں نے ایوب کتا ہائے ہائے کے نعرے مار مار کے اس کی ناک میں دم نہیں کر دیا۔ اسی طرح قبلہ ضیاء الحق نے بھی عزیز ہم وطنوں کو 90 دن کا لارا لگا کہ ایسا چراغو جھپا مارا اور اس وقت تک چمٹا رہا جب تک کے یار لوگوں نے اسے سفر آخرت پے روانہ نہیں کر دیا ۔ پھر مشرف پرویز قوم کو ٹکر گیا اور اس کا چراغو جھپا بھی کوئی ساڑھے آٹھ سال ہے محیط تھا۔ وطن عزیز میں جو بھی ایک دفعہ کرسی اقتدار ہے بیٹھ جائے، تو پھر صرف موت کا فرشتہ ہی اتارے تو اتارے، جیتے جی اس کا دل نہیں کرتا۔ پتہ نہی اس خطے کے لوگوں میں کیا خرابی ہے کہ یہ جس شئے کو چمٹ جاتے ہیں جان ہی نہی چھوڑتے ۔ چلیں فی الحال فوجی آمروں پر مٹی ڈال کے اصل موضوع تحریر کی طرف آتے ہیں۔ اس تحریر کے ہدف خصوصی پروفیسر صاحبان ہیں۔ یہ مخلوق جو بظاہر بڑی بےضرر اور بڑی پڑھی لکھی سمجھی جاتی ہے۔ یہ حضرات بھی بہت بڑے رنگ سیار ہیں ۔ وطن عزیز کے سیاسی سماجی کلچر کا رنگ ان پے بھی چڑھ گیا ہے۔ گویا دل نے بھی تیرے سیکھ لئیے ہیں ہنر تمام۔
پروفیسر شپ سب سے بڑا علمی عہدہ ہوتا ہے جہاں عزت و علم کی انتہا ہو جاتی ہے۔
یونیورسٹی کا وائس چانسلر ہونا بڑے اعزاز کی بات ہے۔
وائس چانسلر بننے کا معیار طے شدہ ہے اور مدت ملازمت بطور وائس چانسلر بھی طے شدہ ہے۔ اب کا تو مجھے پتہ نہیں پہلے وقتوں میں یہ مدت معیاد غالباً تین سال ہوا کرتی تھی۔ وائس چانسلر کی appointing authority عام طور پے گورنر ہوتا ہے اور اسی کے آفس سے وائس چانسلر کا Appointment letter جاری ہوتا ہے۔پہلے کبھی کسی زمانے میں یہ کام میرٹ پے ہوا کرتا تھا پھر دھیرے دھیرے یہ بھی نزر ارسطو ہو گیا اور سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا۔ اب یہ ایک سیاسی پوسٹ ہے اور یہ اسے ہی ملتی ہے جو حکمران کے ساتھ جوڑ توڑ کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ پروفیسر ایک بڑا باوقار عہدہ ہوا کرتا تھا اور پروفیسرز حضرات اپنے علمی وقار اور مرتبے کا بڑا خیال رکھا کرتے تھے۔ پھر اللہ بھلا کرئے سیاست کے زوال کا اس نے جہاں کورٹ ، کچہری اور تھانوں کا بیڑہ غرق کیا وہیں رفتہ رفتہ یونیورسٹیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ وائس چانسلر کا عہدہ اب ایک سیاسی عہدہ ہے اور اب پروفیسر موصوف کی تعلیمی قابلیت کو نہیں دیکھا جاتا، تعلیمی قابلیت محض ثانوی ہے۔
اصل معیار یہ ہے کہ قبلہ پروفیسر صاحب کی سیاسی کنکشنز کتنے اور کیسے ہیں۔ میٹھی چاہی کا ہنر بھی جانتے ہیں کہ نہیں۔علاقے کے ایم این اے ، ایم پی اے سے تعلقات کیسے ہیں۔ دنیاداری کے مروجہ اصولوں سے بھی آشنا ہیں کہ نرے پروفیسر ہی ہیں۔ اب وائس چانسلر شپ کی دوڑ میں جو پروفیسر متعلقہ پارٹی کو خوش کرنے اور اپروچ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے وہی اس کا حقدار ٹھہرتا ہے۔ میں نے ایسے ایسے چغد وائس چانسلر بنتے دیکھے ہیں جن کی قابلیت پرائمری سکول کا ہیڈ ماسٹر بننے کے لائق بھی نہی۔ ایک وائس چانسلر صاحب جن کی مدت ملازمت جمعہ جمعہ آٹھ دن تھی ۔ لیکن چونکہ ان کا تعلق جھنگ شریف کے ایک بڑے سیاسی خانوادے سے تھا لہذا وہ وائس چانسلر بنا دئیے گئے، نہ صرف یہ بلکہ انہیں توسیع پے توسیع بھی دی گئی۔ وائس چانسلر شپ کے لئیے یونیورسٹی کا انتخاب بھی موصوف خود ہی فرماتے ہیں۔ تادم تحریر بھی یہ موصوف کسی یونیورسٹی کی گردن پے سوار ہیں ۔
فی زمانہ
وائس چانسلر بننے کے بعد وائس چانسلر کا ایجنڈا نمبر ون یہ ہوتا کہ اگلی ٹرم تک کی توسیع کس طرح لی جائے۔ اس کے لئیے وہ اپنے علاقے کے ایم این اے اور ایم پی اے کے پیچھے” ۔۔۔۔” کی طرح دم ہلاتا پھرتا ہے ۔ حصول توسیع کے لئیے وہ ان کی جائز و ناجائز فرمائشیں پوری کرتا ہے۔ شاید ہی کوئی وائس چانسلر ہو گا جو اپنی مدت ملازمت پوری کر کے یونیورسٹی کو خیر باد کہہ کے گھر گیا ہو ۔
ایک صاحب کو میں جانتا ہوں اور بڑا ذاتی طور پے جانتا ہوں کہ انہوں نے بڑے فخر سے بتایا کہ وہ ساڑھے سات یا ساڑھے آٹھ سال تک وائس چانسلر رہے ہیں اور اس کے آخر پر انہوں نے بڑی قرات کے ساتھ بلکل عربی انداز میں الحمدللہ بھی کہا۔ سرگودھا یونیورسٹی کے تخت ہزارہ سے اترنے کے بعد بھی ان کی جاہ پرست روح کو قرار نہیں آیا تو لاہور کی ایک چپڑقناتی سی پرائیوٹ یونیورسٹی میں پرو وائس چانسلر مقرر ہو گئے ۔ جہاں ابھی انکی اپائنٹمنٹ لیٹر کی سیاہی بھی نہی سوکھی تھی کہ نیب والے کمبخت انہیں پکڑ کے لے گئے وہ بھی باقاعدہ ہتھکڑیاں لگا کے۔ سال بھر تک نیب کی مہمانداری سے لطف اندوز ہوتے رہے ۔ آخر ضمانت ہے رہا ہوے ۔ فون پے اپنی رہائی کی خبر دیتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ الحمدللہ ان کے اوپر کرپشن کا کوئی الزام نہیں تھا ، صرف اختیارات کے غلط استعمال کا الزام تھا ۔ الحمدللہ ۔۔۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے پھر بڑی قرات سے اوپر والے کا شکر ادا کیا۔
اسی طرح پنجاب یونیورسٹی کے ایک وائس چانسلر جو غالباً انہی کی طرح آٹھ دس سال تک پنجاب یونیورسٹی کی گردن پے سوار رہے ۔ یہ موصوف خود کو وائس چانسلر کم اور گینگسٹر زیادہ portray کرتے تھے۔ انداز گفتگو یہ ہوتا تھا کہ میں نے فلاں رجسٹرار کو چپیڑیں ماریں، فلاں پروفیسر کو میں نے تن دیا چونکہ حکومتی پارٹی کے ساتھ ان کا بڑا بھائی چارہ تھا اور سنا ہے وہ حکومت کے اعلیٰ عہدے داران کے لئیے ۔۔ واللہ علم باالصواب، دروغ بر گردن راوی رنگیں بیاں کہ موصوف ان کے لئیے “خصوصی” خدمات بھی سر انجام دیتے تھے جو کافی حد تک مامے مودے کی خدمات سے مماثلت رکھتی تھیں۔ یہ بھی جب پنجاب یونیورسٹی کی تخت طاؤس سے اترے تو لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں ان کو بڑے بھاری معاوضے پے ہائر کیا گیا۔ وہ تو اس وقت کے گورنر کا اللہ بھلا کرئے کہ اس نے انکے عہدے کی توثیق سے اس بناء پر انکار کر دیا کہ موصوف کے سابقہ کارناموں یا کرتوتوں کے سبب ہائی کورٹ میں ان کے خلاف مقدمات زیر سماعت تھے جن کی بناء پر انہیں وائس چانسلر تعینات نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ان موصوف کو بھی نیب نے باقاعدہ ہتھکڑیاں لگا کہ عدالت میں پیش کیا۔
یہ عبرتناک منظر چشم فلک اور ہم وطنوں نے ٹی وی پے براڈ کاسٹ ہوتا دیکھا اور وہ بھی لائیو ۔
موجودہ تاریخ جامعات اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔
اس طرح یا اس ملتے جلتے بے شمار قصے ہیں۔
یہ ہیں ہمارے پرفیسر صاحبان جن سے ہم یہ غلط فہمی پالے بیٹھے ہیں کہ یہ قوم کی نئی نسلوں کی رہنمائی فرمائیں گے۔ ان کی کردار سازی کریں گے، انہیں قانون پے چلنا سکھائیں گے، انہیں اصول پرستی کا درس دیں گے۔ مدت ملازمت میں توسیع کا ایسا رواج چل پڑا ہے کہ جو ایک دفعہ کرسی اقتدار ہے بیٹھ جاتا ہے وہ اسے چراغو جھپا ہی مار لیتا ہے ۔ پھر وہ جان ہی نہی چھوڑتا۔
ہم جرنیلوں کی جان کو روتے ہیں لیکن پروفیسر حضرات بھی خیر سے ان طالع آزما اور ہوس اختیار کے ماروں سے کم نہیں۔
ہم سیاستدانوں پٹواریوں اور راشی افسران سے توقع رکھ رہے ہیں کہ وہ خدا کا خوف کھائیں گے اور قانون پے چلیں گے ۔
میں ان تمام وائس چانسلروں کو جو مدت ملازمت میں توسیع کے طلبگار ہیں یا ایک سے زیادہ ٹرم لے چلیں ہیں کو اتنا ہی کرپٹ، بد عنوان اور مجرم سمجھتا ہوں جتنا کہ کوئی راشی ، بد عنوان پٹواری یا مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ۔ ارے بھائی
تم نے بطور وائس چانسلر اپنی مدت ملازمت پوری کر لی ہے ۔ اب گھر جاؤ، کوئی کتاب لکھو، جا کے یونیورسٹیوں میں لیکچر دو ۔ کہیں گھومنے پھرنے جاؤ ، کوئی علمی تحقیقی کام کرو۔ اگر تم میں بھی ہوس توسیع ہے تو تم بھی انہی ٹھگوں اور جیب کتروں میں شمار کئیے جاؤ گے جنہوں نے اس ملک کا بیڑہ غرق اور اسے دیوالیہ کیا ہے اقتصادی طور پر بھی اور اخلاقی طور پر بھی۔
تم بھی چراغ بالی ہی ہو جو سیٹ کو چراغو جھپا مار کے بیٹھا ہے۔
وماعلینا الا البلاغ ۔











