پنجابی ادب میں عورت: ہیر سے آج کی عورت تک

پنجابی ادب کی دنیا میں قدم رکھیں تو اس کی مٹی سے جڑی خوشبو، لفظوں کی سادگی اور انسانی جذبات کی شدت دل کو چھو لیتی ہے۔ اس ادب میں عورت صرف ایک کردار نہیں بلکہ ایک مکمل داستان، ایک سوال، ایک احساس اور ایک ایسی آواز ہے جسے خاموش کرنے کی کوشش تو بہت ہوئی مگر وہ ہر دور میں کسی نہ کسی صورت دوبارہ سنائی دیتی رہی۔ کبھی وہ ہیر بن کر سامنے آئی، کبھی سوہنی، کبھی سسی، کبھی صاحباں اور کبھی جدید دور کی وہ عورت جو اپنے قلم، اپنی سوچ اور اپنے فیصلوں کے ساتھ اپنی شناخت خود قائم کرنا چاہتی ہے۔ پنجابی ادب میں عورت کا سفر دراصل پنجاب کے سماج، اس کی روایات، پابندیوں، محبتوں اور بدلتی ہوئی سوچ کا سفر بھی ہے۔ جب ہم وارث شاہ کی ہیر کو پڑھتے ہیں تو اسے صرف محبت کرنے والی لڑکی سمجھنا اس کردار کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ ہیر اپنے زمانے کی سماجی پابندیوں کے سامنے کھڑی ایک ایسی عورت ہے جو اپنی پسند، اپنی محبت اور اپنے احساس کو اہمیت دینے کی جرأت رکھتی ہے۔ اس کے سامنے خاندان، رسم و رواج اور معاشرتی فیصلوں کی دیوار ہے، مگر اس کے اندر اپنی زندگی کے بارے میں سوچنے والی ایک آزاد روح موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہیر آج بھی صرف ایک لوک داستان نہیں بلکہ عورت کے حقِ انتخاب کی علامت محسوس ہوتی ہے۔ سوہنی جب دریا کی لہروں سے لڑتے ہوئے اپنے محبوب تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے تو اس کا سفر صرف عشق کا سفر نہیں رہتا بلکہ انسانی عزم اور عورت کی ثابت قدمی کی علامت بن جاتا ہے۔ سسی کے قدموں میں صحرا کی تپتی ریت ہے، مگر اس کے اندر محبت کی ایسی آگ ہے جو اسے مسلسل آگے بڑھاتی ہے۔ ان داستانوں کی عورتیں بتاتی ہیں کہ پنجاب کے لوک ادب نے عورت کے جذبات کو کبھی معمولی نہیں سمجھا؛ اس نے اس کے دکھ، انتظار، محبت اور قربانی کو اپنی اجتماعی یادداشت کا حصہ بنایا۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا پرانے پنجابی ادب میں عورت کو اپنی آواز مکمل طور پر خود سنانے کا موقع ملا؟ جواب اتنا سادہ نہیں۔ بہت سے کلاسیکی قصوں میں عورت کی داستان طاقتور ہے، مگر اسے بیان کرنے والا اکثر مرد شاعر یا راوی ہے۔ عورت کی خواہش، دکھ اور بغاوت موجود ہے، لیکن کئی مرتبہ وہ مردانہ نظر کے ذریعے ہمارے سامنے آتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جدید پنجابی ادب ایک نئی تبدیلی کا آغاز کرتا ہے۔ جدید دور کی عورت صرف کسی کی محبوبہ، بیوی، بیٹی یا ماں بن کر ادب میں داخل نہیں ہوتی بلکہ وہ خود لکھتی ہے، سوال کرتی ہے، اختلاف کرتی ہے اور اپنی ذات کے اندر چھپی دنیا کو الفاظ دیتی ہے۔ امرتا پریتم اس تبدیلی کی نمایاں آواز ہیں۔ انہوں نے عورت کے احساس کو محض رومانوی جذبہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے شناخت، آزادی، تنہائی، جدائی اور سماجی حقی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں