اسلام آباد:انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی غیر موجودگی میں بیرئیر ہٹانے کے مقدمے کا ٹرائل شروع کرتے ہوئے استغاثہ کے 3 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرلیے جبکہ دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواست مسترد کردی۔
جج طاہر عباس سپرا نے مقدمے کی سماعت کی۔ ملزمان اور ان کے وکلا کی جانب سے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کے بعد استغاثہ کے گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ عدالت نے باقی گواہوں کو پیر کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔
سماعت کے آغاز پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے اور شفاف ٹرائل کے حق پر سوالات اٹھائے۔ ہادی علی چٹھہ نے اعتراض کیا کہ انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا جا رہا اور انہیں فرد جرم عائد ہونے کا علم اخبار کے ذریعے ہوا۔ جج نے کہا کہ ملزمان نے فرد جرم کو چیلنج کر رکھا ہے اور ہائی کورٹ اس معاملے کا جائزہ لے سکتی ہے۔
ملزمان کے وکلا نے ان کی غیر موجودگی میں کارروائی پر اعتراض ریکارڈ کرانے کی درخواست کی۔ وکلا نے ریاست علی آزاد کی عدم موجودگی کے باعث سماعت ملتوی کرنے کی استدعا بھی کی تاہم عدالت نے یہ درخواست مسترد کردی۔
عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ مرحلے پر دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواست پر غور نہیں کیا جا سکتا اور سابقہ حکم پر نظرثانی کا اختیار بھی حاصل نہیں۔ اس کے بعد درخواست مسترد کرکے نمٹا دی گئی۔











