جدید شہر بلند عمارتوں، کشادہ سڑکوں اور خوبصورت مارکیٹوں سے ہی نہیں بنتے؛ ان کی کامیابی تب ہے جب ترقی کے ثمرات پرانے رہائشیوں، نئے سرمایہ کاروں، کاروباری طبقے اور عام شہریوں تک پہنچیں۔ اگر ترقی اصل باسیوں کو ہی بے دخل کر دے تو اس کے تصور پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
Yiwu China کا ذاتی تجربہ
2013ء میں چین کے شہر Yiwu China کے دورے پر مجھے تقریباً دو ہفتے Honglou Hotel میں قیام کا موقع ملا۔ اس وقت ہوٹل کے اطراف کا علاقہ نسبتاً عام، مگر پاکستان کے کئی شہری علاقوں سے بہتر دکھائی دیتا تھا۔ بعد میں Yiwu کی شہری توسیع، جدید انفراسٹرکچر اور Urban Renewal کے بارے میں جان کر احساس ہوا کہ شہر اپنی پرانی شناخت برقرار رکھتے ہوئے بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے۔
Honglou Hotel اور Xiangyangxia Urban Renewal Project
Honglou Hotel، Yiwu کے پرانے شہری و تجارتی علاقے میں واقع تھا، جو Xiangyangxia Urban Renewal Project کا حصہ تھا۔ اس منصوبے کی حدود تقریباً 307,000 مربع میٹر بتائی جاتی ہیں۔
2017ء میں اس منصوبے کے تحت متاثرہ گھرانوں کو مختلف متبادل دیے گئے:
۱۔ 2,444 گھرانوں نے معاوضے کی ترجیحات درج کروائیں۔
۲۔ 790 گھرانوں نے متبادل جائیداد کا انتخاب کیا۔
۳۔ 1,654 گھرانوں نے نقد معاوضے یا Housing Voucher کو ترجیح دی۔
۴۔ مختلف متبادل رہائشی منصوبوں میں 2,569 اپارٹمنٹس دستیاب رکھے گئے۔
یہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ شہری تجدید میں متاثرین کو ایک ہی حل پر مجبور کرنے کے بجائے انتخاب کا حق دیا جا سکتا ہے۔
Compensation، Property Exchange اور Rental Allowance
اس منصوبے میں معاوضے کے تین طریقے شامل تھے:
۱۔ Cash Compensation — نقد معاوضہ۔
۲۔ Property Exchange — متبادل جائیداد یا رہائشی یونٹ۔
۳۔ Housing Voucher — رہائش کے حصول کے لیے مخصوص واؤچر۔
عارضی رہائش کا الاؤنس 20 یوآن فی مربع میٹر ماہانہ تھا، جبکہ فی گھرانہ کم از کم 900 یوآن ماہانہ مقرر تھے۔ بعض صورتوں میں چھ ماہ کا الاؤنس اور متبادل گھر کی حوالگی میں مخصوص تاخیر پر اضافی یا دگنا کرایہ بھی دیا جاتا تھا۔ متبادل رہائش کی دستیابی کے مطابق منتقلی کی مدت 12، 24 یا 36 ماہ ہو سکتی تھی۔
یہ شرائط اسی مخصوص منصوبے کی تاریخی مثال ہیں، پورے Yiwu کی یکساں پالیسی نہیں۔ تاہم یہ ظاہر کرتی ہیں کہ عارضی رہائش اور منتقلی کا عرصہ بھی منصوبہ بندی میں شامل ہونا چاہیے۔
جدید انفراسٹرکچر اور Lifestyle Ecosystem
Yiwu کی شہری ترقی صرف پرانی عمارتیں گرا کر نئی تعمیر کرنے تک محدود نہیں رہی۔ کشادہ سڑکیں، کاروباری مراکز، تعلیمی و طبی سہولیات، پارکس، ہوٹلز اور شاپنگ مالز مل کر ایک مربوط Lifestyle Ecosystem بناتے ہیں۔
بلند عمارتیں زیادہ آبادی کو بہتر سہولیات کے ساتھ رہائش دینے اور شہری زمین کا مؤثر استعمال ممکن بناتی ہیں، جس سے جدید طرزِ زندگی بھی میسر آتا ہے۔
Government اور Private Sector کی شراکت داری
نجی شعبے کی شمولیت شہری ترقی کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے، بشرطیکہ پرانے رہائشیوں کے حقوق محفوظ رہیں۔
ڈویلپرز کو سرمایہ کاری و تعمیر، حکومت کو شفاف پالیسی و نگرانی، پرانے رہائشیوں کو مناسب متبادل اور نئے سرمایہ کاروں کو جدید سہولیات والے علاقوں میں سرمایہ کاری کا موقع ملنا چاہیے۔
یہ Win-Win Development Model حکومت، ڈویلپرز، پرانے رہائشیوں، نئے سرمایہ کاروں اور کاروباری طبقے سب کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
ترقی کے بعد پرانے علاقوں کی نئی قدر
Yiwu میں بعض خوشحال افراد اور سرمایہ کاروں نے ابتدائی برسوں میں پرانے علاقوں کی جائیدادیں بیچ کر جدید علاقوں کا رخ کیا۔ مگر شہری ترقی کے بعد وہی پرانے علاقے بہتر انفراسٹرکچر اور سہولیات کے باعث دوبارہ رہائش و سرمایہ کاری کے لیے پُرکشش بن گئے۔
اگر پرانے رہائشیوں کو مناسب متبادل کے ساتھ اپنے علاقے میں رہنے دیا جائے تو وہ بھی ترقی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ زمین کی بڑھتی قیمت انہیں بے دخل کرنے کا جواز نہیں بننی چاہیے۔
کیا ترقی اور بہتر زندگی صرف اشرافیہ کا حق ہے؟
ہمارے شہری ترقی کے تصور میں طبقاتی تضاد نمایاں ہے۔ جدید سڑکوں، بلند عمارتوں، پارکس، شاپنگ مالز اور معیاری سہولیات کی بات ہو تو اکثر تاثر ملتا ہے کہ یہ علاقے صرف اشرافیہ اور بڑے سرمایہ کاروں کے لیے ہیں، جبکہ وہاں پہلے سے آباد عام شہری مسئلہ سمجھے جاتے ہیں۔
کیا بہتر طرزِ زندگی صرف امیروں کا حق ہے؟ کیا غریب اور متوسط طبقے کے خاندان کشادہ سڑکوں، صاف ماحول، جدید رہائش، بہتر صحت و تعلیم اور شہری سہولیات کے مستحق نہیں؟ زمین کی قیمت بڑھنے سے پرانے باسیوں کا اس علاقے پر حق کیوں کم ہو؟
یہ سوچ بدلنا ہوگی۔ شہری ترقی کا مقصد علاقے کو صرف امیروں کے لیے پُرکشش بنانا نہیں، بلکہ پہلے سے آباد لوگوں کو بھی بہتر زندگی دینا ہے۔ نئے سرمایہ کار اور خوشحال خاندان وہاں رہ سکتے ہیں تو پرانے رہائشی بھی ترقی میں شریک ہونے کے حق دار ہیں۔
شہر صرف اشرافیہ کے نہیں؛ یہ ان سب کے ہیں جو وہاں رہتے، کام کرتے اور زندگی گزارتے ہیں۔ ترقی اور بہتر زندگی دونوں کا حق سب کو ہے۔
اسلام آباد میں پرانے باسیوں کا مستقبل ؟
اسلام آباد میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پرانے رہائشیوں کو بھی اسی علاقے میں بہتر زندگی کا حق ہے جہاں وہ نسلوں سے آباد ہیں؟
مارگلہ ہلز کے قریب اور دیگر قیمتی علاقوں کے بعض پرانے باسیوں کو محسوس ہوتا ہے کہ جدید اور مہنگے علاقوں میں ان کی جگہ نہیں رہی۔ کیا زمین کی قیمت بڑھنے یا نئی تعمیرات کی منصوبہ بندی کا مطلب یہ ہے کہ انہیں شہر کے دور دراز علاقوں میں منتقل کر دیا جائے؟
اسلام آباد کو جدید بنانا ضروری ہے، مگر اسے صرف امیروں کے رہنے کے قابل بنانا شہری ترقی نہیں بلکہ طبقاتی تفریق کو گہرا کرنا ہے۔ ترقی کا مقصد تمام شہریوں کا معیارِ زندگی بہتر بنانا ہونا چاہیے۔
CDA کی پالیسی، معاوضہ اور بحالی کا نظام
اسلام آباد میں Capital Development Authority (CDA) کی مختلف پالیسیوں اور منصوبوں کے تحت زمین کے حصول، معاوضے اور بحالی کے طریقے مختلف ہیں۔ کہیں متبادل پلاٹ، کہیں مخصوص شرائط پر چھوٹے رہائشی پلاٹ دیے جاتے ہیں، جبکہ بعض متاثرین دوسرے علاقوں میں منتقل ہوتے ہیں۔
اہلیت زمین کی نوعیت، تعمیراتی ریکارڈ، سروے اور متعلقہ پالیسی کی شرائط سے طے ہوتی ہے؛ اس لیے ہر متاثرہ خاندان کے لیے یکساں سہولت یا معاوضے کی ضمانت نہیں۔
ضرورت واضح اور یکساں پالیسی کی ہے، تاکہ متاثرین اپنے حقوق، معاوضے کے تعین اور متبادل رہائش کی جگہ و وقت سے آگاہ ہوں۔
روزگار، کاروبار اور سماجی تعلقات کا تحفظ
خاندان کو دور منتقل کرنا صرف گھر بدلنا نہیں؛ بچوں کے اسکول، روزگار، کاروبار، خاندان، ہمسائے اور برسوں کے سماجی تعلقات بھی متاثر ہوتے ہیں۔
دکاندار کی دکان اس کے خاندان کی آمدنی ہے، جبکہ ملازم یا مزدور کے لیے روزانہ کئی گھنٹوں کا اضافی سفر زندگی اور آمدنی دونوں متاثر کر سکتا ہے۔
بحالی کی پالیسی میں رہائشی پلاٹ یا معاوضے کے ساتھ روزگار اور کاروبار کا تسلسل بھی محفوظ ہونا چاہیے۔
منصوبوں کی تکمیل، تاخیر اور کرایہ الاؤنس
متبادل رہائش کی حوالگی میں تاخیر بھی بڑا مسئلہ ہے۔ گھر خالی کرنے کے بعد اگر خاندان برسوں تک متبادل گھر سے محروم رہے تو وہ کہاں رہے اور کرایہ کون دے؟
ہر منصوبے کے آغاز، تکمیل اور قبضے کی تاریخ واضح ہو۔ تاخیر پر مارکیٹ ریٹ کے مطابق اضافی کرایہ یا معاوضہ دیا جائے، تاکہ متاثرین برسوں وعدوں کے انتظار میں نہ رہیں۔
Urban Redevelopment and Resident Rehabilitation Policy کی ضرورت
اسلام آباد کے لیے جامع Urban Redevelopment and Resident Rehabilitation Policy ضروری ہے، جس میں یہ نکات شامل ہوں:
۱۔ جہاں ممکن ہو، پرانے رہائشیوں کو اسی علاقے یا اس کے قریبی مقام پر متبادل گھر یا پلاٹ دیا جائے۔
۲۔ متاثرین کو نقد معاوضے، متبادل پلاٹ، اپارٹمنٹ یا Housing Voucher میں سے انتخاب کا اختیار ہو۔
۳۔ متبادل گھر کی حوالگی تک مارکیٹ ریٹ کے مطابق ماہانہ کرایہ الاؤنس دیا جائے۔
۴۔ متبادل جائیداد منتخب کرنے والوں کے لیے مناسب اضافی معاوضہ یا رعایت رکھی جائے۔
۵۔ دکان داروں اور کاروباری افراد کو اسی علاقے میں مناسب کمرشل جگہ فراہم کی جائے۔
۶۔ ہر منصوبے کے آغاز، تکمیل اور قبضے کی واضح تاریخ مقرر ہو، اور تاخیر کی صورت میں اضافی کرایہ یا معاوضہ دیا جائے۔
۷۔ منصوبے سے پہلے آزادانہ Social and Economic Impact Assessment کروایا جائے۔
۸۔ جہاں ممکن ہو، زمین کی قیمت میں اضافے کے فوائد میں پرانے رہائشیوں کو بھی حصہ دیا جائے، مثلاً Land Pooling یا Value Appreciation کے ذریعے۔
۹۔ نجی شعبے کو شفاف شرائط کے تحت شامل کیا جائے، لیکن متاثرین کے حقوق، معاوضے اور رہائش کا تحفظ لازمی ہو۔
ترقی انسانوں کے لیے ہونی چاہیے، انسان ترقی کی قیمت نہ بنیں
میرا مقصد ترقی کی مخالفت نہیں۔ اسلام آباد جدید، خوبصورت اور عالمی معیار کا شہر بنے؛ کشادہ سڑکیں، بلند عمارتیں، جدید کاروباری مراکز اور بہتر سہولیات ضرور ہوں، مگر پرانے باسیوں کی قربانی پر نہیں۔
حکومت اور CDA سوچیں: کیا کئی دہائیوں سے آباد لوگوں کو صرف اس لیے ہٹا دیا جائے کہ ان کی زمین قیمتی ہو گئی؟ کیا ان کے بچوں، کاروبار، یادوں اور سماجی تعلقات کی کوئی انسانی یا معاشی قدر نہیں؟
Yiwu China کا سبق ہے کہ شہری ترقی اور پرانے رہائشیوں کے حقوق متضاد نہیں۔ شفاف معاوضے، متبادل رہائش، کرایہ الاؤنس، مقررہ مدت اور نجی شعبے کی ذمہ دارانہ شمولیت سے دونوں مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں۔
ترقی کا اصل معیار بلند عمارتوں کی تعداد نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان کے سائے میں رہنے والے پرانے باسیوں کی زندگی کتنی بہتر ہوئی۔
جو شہر پرانے رہائشیوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھتا ہے، وہی حقیقی ترقی کرتا ہے۔ ورنہ گھروں، کاروبار اور یادوں سے محروم لوگوں کے ہوتے ہوئے عمارتیں تو جدید ہوں گی، مگر ترقی کا انسانی پہلو ادھورا رہے گا۔











