لاہور: دیامر بھاشا ڈیم منصوبے میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں، غیر مجاز ادائیگیوں اور ٹھیکوں کے قواعد کی خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈیٹر جنرل پاکستان کی آڈٹ رپورٹ 2025-26 کے مطابق جون 2025 تک منصوبے پر تعمیراتی پیشرفت صرف 19.95 فیصد رہی جبکہ مالی پیشرفت 39.67 فیصد تک پہنچ گئی۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ زمین کے حصول کے لیے مختص رقم میں سے 4 ارب 96 کروڑ روپے سے زائد نجی بینکوں میں منتقل کیے گئے۔ مرکزی ڈیم کی تعمیر کے ٹھیکے اور کنسلٹنسی معاہدے پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق ٹھیکیدار کو مختلف مدات میں 10 ارب 17 کروڑ روپے سے زائد اضافی ادائیگی سمیت موبلائزیشن ایڈوانس کی کٹوتیوں میں تاخیر اور ریٹینشن منی کی عدم وصولی جیسے معاملات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ منصوبے کی لاگت میں 91 ارب 32 کروڑ روپے سے زائد اضافہ ہوا جبکہ تکمیل کی ابتدائی تاریخ جون 2027 سے بڑھ کر 2030 تک جا پہنچی ہے۔
آڈیٹر جنرل نے تمام مالی معاملات کی مکمل جانچ پڑتال اور غیر مجاز ادائیگیوں سمیت واجب الادا رقوم کی وصولی یقینی بنانے کی سفارش کی ہے۔











