سپریم کورٹ نے اس بات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے کہ عام طور پر سیاست دان اور خاص طور پر ارکانِ پارلیمنٹ اس قدر غیر محفوظ ہیں کہ کوئی بھی سرکاری ملازم، بدنیتی کی بنیاد پر، بغیر کسی ٹھوس جواز کے ان پر موت کی سزا والے سنگین الزامات بھی لگا سکتا ہے۔
ارکانِ پارلیمنٹ اپنے اپنے حلقوں کے عوام کے نمائندے ہوتے ہیں، اس لیے مجسٹریٹ سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 364 کے دائرہ کار کے اندر رہتا، لیکن اس نے معاملے کے اس اہم پہلو کو نظر انداز کر دیا اور بیان میں ان کے نام شامل کرتا چلا گیا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے 8 صفحات پر مبنی فیصلے میں قتل کے ایک کیس میں نو سال بعد ایک شخص کو بری کردیا۔
سپریم کورٹ نے احمد سعید عرف بھرم عرف نگوری کی اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ اور انسداد دہشت گردی عدالت کراچی کے فیصلے کالعدم قرار دے دیئے اور ملزم کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔











