ہم سائیکل نہیں بنا سکتے ایٹم بم کیسے بنائیں گے،پاکستان اور امریکی حکام کے درمیان دلچسپ واقعہ

1979میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا جب امریکہ کو پہلی بار علم ہوا کہ پاکستان ایٹم بم بنا رہا ہے اور پاکستان کے علاقے کہوٹہ میں ایٹم بم بنانے کا کام مکمل کیا جارہا ہے ۔تو اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیاالحق نے صورت حال کو بھانپتے ہوئے پاکستانی وفد امریکہ بھیجا جہاں انہوںنے امریکی حکام سے طویل ملاقات کی ۔پاکستانی وفد میں تین لیفٹیننٹ جنرل اور ایک سیکرٹری شامل تھا۔

کہتے ہیں امریکیوں کی تاریخ رہی ہے کہ جب ان کو اپنی مطلب کی بات کرنی ہویا دھمکی لگانی ہوتو وہ الگ سے کمرے میں بات کرتے ہیں ،یہاں پر بھی ایسے ہی ہوا جب پاکستانی وفد کے ساتھ بات چیت چل رہی توامریکی حکام نے سیکرٹری کو کہا کہ آپ سے الگ کمرے میں بات کرنی ہےجس کے بعدپاکستانی سیکرٹری اور دو امریکی حکام الگ کمرے میں چلے گئےجہاں امریکہ نےدھمکی آمیز لہجہ استعمال کیا اور کہا کہ پاکستان ایٹم بم بنا کر تباہی کا راستہ اختیار کررہا ہے۔

جس کے جواب میں اس وقت کے سیکرٹری نے سگریٹ سلگایااور آنکھوں کے سامنے اٹھتے دھوئیں میںانتہائی نرم لہجے اور مسکراتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک سائیکل نہیں بنا سکتا ایٹم بم کیسے بنائے گا۔

بعد ازاں یہ وفد پاکستان پہنچا اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیاالحق کو ساری صورت حال سے آگاہ کیا ،جنرل ضیاالحق نے اسی وقت فون اٹھایا اور اٹامک انرجی کے اعلی افسر کو کہا کہ وہ مقام تلاش کیا جائے جہاں پر ایٹمی دھماکے کرنے ہیں ،جس کے بعد چاغی کا مقام منتخب کیا گیا ،ایٹمی دھماکے 1998کئے گئے لیکن 19 سال قبل چاغی کا مقام منتخب کیاگیا۔
( مشاہد حسین سید)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں