اولڈ ایج بینیفٹ بے حس محکمہ

میرا آج تک جس بھی محکمے سے واسطہ پڑا ہے تو کرپشن اور نااہلی کی نئی داستانیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ عام آدمی تو پولیس اور واپڈا کے ظلم پر دہائیاں دیتا ہے جبکہ یہاں ایسے محکمے ہیں جن کی بے حسی، نااہلی اور کرپشن سب کو ماند کرتی ہے۔ مجھے کوئی ایک سال پہلے میرے ایک باس استاد نے کراچی سے فون کیا۔ وہ ساری زندگی فارماسیوٹیکل انڈسٹری میں کام کرتے رہے ہیں۔ پچھلے دو سال سے وہ ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔ انھونے کراچی میں اولڈ ایج بینیفٹ کے محکمے میں اپنی بڑھاپے کی پنشن کے لئے درخواست دی ۔ اپنے کوئی تیس سالہ کیرئیر میں انھوں نے زیادہ تر وقت کراچی اور سکھر میں گزارا ہے۔ جبکہ سٹینڈ فارم نامی ایک کمپنی میں انھوں نے کئی سال تک بطور سیلز مینیجر کراچی میں ہی رہ کر ذمہ داریاں ادا کی ہیں جبکہ اس کمپنی کا مرکزی دفتر اور فیکٹری لاہور میں تھی۔ اب جب انھوں نے اولڈ ایج پینشن کے لئے درخواست دی تو اولڈ ایج بینیفٹ کے محکمے نے ان سے ان کی جاب کے ثبوت مانگے تو انھوں نے اپنے تمام تجربہ کے لیٹر مذکورہ دفتر کو پیش کردئیے۔ انھوں نے کراچی کی ملیر برانچ میں کئی ماہ تک اپنے کیس کا پیچھا کیا لیکن ہر بار انھیں کسی نئی الجھن میں ڈال کر واپس بھیج دیا جاتا رہا۔ پھر ایک دن مجھے ان کا فون آیا کہ اولڈ ایج کے محکمے نے ان کا کیس لاہور میں گڑھی شاہو برانچ کو بھیجا ہے چنانچہ اس برانچ سے جاکر اس کیس کی پیروی کرلیں۔ میں پہلے گڑھی شاہو آفس گیا تو انھونے کہا کہ یہ معاملہ گارڈن ٹاون میں واقع ساوتھ برانچ کا ہے چنانچہ وہاں رابطہ کر لیں۔ چنانچہ میں گارڈن ٹاون برانچ پہنچا اور وہاں محمد علی نامی افسر نے تعاون کیا اور گڑھی شاہو کی سنٹرل شاخ سے ای میل اپنے سسٹم میں منگوائی اور وعدہ کیا کہ وہ اگلے ہفتہ سٹینڈ فارم فارما کے آفس جاکر جانچ مکمل کریں گے اور ان کا کیس فوری حل کردیں گے۔ یہ اس سال فروری کا قصہ ہے۔ چند دن بعد میں نے اس افسر کو دوبارہ فون کیا تو انھوں نے کہا کہ میں عید کے فوری بعد اس معاملہ کو نمٹا دوں گا۔ عید کے بعد میں آفس پہنچا تو محمد علی نامی افسر کا تبادلہ ہوگیا تھا۔ میں نے اس دن ساوتھ آفس کے ڈپٹی ڈائریکٹر نذر عباس سے ملاقات کی تو اس کا رویہ نہایت تکبرانہ تھا۔ وہ کسی سے بات کرنے کو تیار ہی نہیں تھا۔ میں کوئی ڈیڑھ گھنٹہ تک اس آفس میں موجود رہا لیکن ایسا لگتا تھا کہ اس دفتر میں سارے لوگ خوش گپیوں اور چائے کافی کا دور چلانے کے لئے آئے تھے۔ میں جس بھی اہلکار کی میز پر جاتا تو وہ اس طرح سے سائلین کو نظر انداز کرتا جیسے اس کا اس دفتر سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی وہاں آنے والے لوگ اس کی ذمہ داری ہیں ۔ میں نے ڈیڑھ گھنٹے بیٹھ کر اس آفس میں عمر رسیدہ افراد کو عملہ کے افراد کے سامنے منتیں سماجتیں کرتے دیکھا لیکن بے حسی کی ایسی حالت میں نے کبھی پولیس اسٹیشن پر دیکھی اور نہ ہی واپڈا کے دفاتر محسوس کی۔ کافی دیر تک جب کسی نے میری بات نہ سنی تو میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے آفس میں چلا گیا اور کوئی تین سے چار منٹ تک اس کے سامنے کھڑا رہا اور جب اس نے کوئی توجہ نہ دی تو میں نے اس سے کہا کہ جناب میں ڈیڑھ گھنٹے سے آپ کے آفس میں بیٹھا ہوں لیکن کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہے۔ میرے اس سوال پر جیسے موصوف کے آرام میں خلل پیدا ہو گیا تھا اور وہ چیختے ہوئے کہنے لگا کہ میں آپ کی کوئی بات نہیں سنوں گا۔ اس کے اس رویے پر میں نے سخت احتجاج کیا اور اس روئیے کی شکایت اعلی حکام کو کرنے کی بات کی تو اس کا رویہ کچھ نارمل ہوا البتہ اس سے معاملہ کو حل کرنے کی بجائے ہٹ دھرمی سے کہا کہ آپ درخواست دہندہ کو بھیجیں۔ میں نے اسے سمجھایا کہ درخواست دہندہ تو کراچی میں ہے لیکن اس نے کوئی بات سننے کی بجائے بے حسی سے دفتر کے باہر چلا گیا ۔ اس کے فوری بعد میں کلمہ چوک کے پاس واقع ڈائریکٹر جنرل کے آفس چلا گیا جہاں ڈی جی خود تو موجود نہیں تھا لیکن اس کے سیکرٹری جن کا نام غالبا اعظم خان تھا نے میری بات کو سنا اور مجھ سے کچھ ڈاکومنٹس مانگے جن کی کاپی میں نے اسے فراہم کردی۔ اس صاحب نے ساوتھ آفس فون کیا اور مجھے کہا کہ آپ آفس واپس جائیں تو آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ میں واپس ساوتھ آفس پہنچا اور ڈپٹی ڈائریکٹر سے ملاقات تو اس نے بھی کچھ پیپر مانگے اور مسئلہ کے حل کا وعدہ کیا۔ دو ہفتہ کے بعد میں دوبارہ اسی آفس گیا تو وہاں رانا اشفاق نامی ڈائریکٹر جوائن کر چکا تھا۔ اس ڈائریکٹر نے میری بات کو سنا اور کہا کہ آپ کا معاملہ جلد حل ہو جائے گا۔ یہ بات کوئی جون کے مہینے کی ہے جب مجھے ڈائریکٹر کا فون آیا اور اس نے کہا کہ ہم نے کراچی کے آفس کو جوابی ای میل کردی ہے چنانچہ آپ کراچی آفس رابطہ کر لیں۔ چند دنوں کے بعد وہ ڈائریکٹر بھی وہاں سے چلا گیا لیکن معاملہ حل نہ ہو سکا۔ میں نے اپنے باس کو کراچئ فون کیا کہ آپ کراچی آفس سے رابطہ کریں اور اگلا ایک ماہ وہ کراچی دفتر کے چکر لگاتے رہے اور ایک دن ان کی پھر کال آئی کہ کراچی میں موجود افسر نے واٹس ایپ کے ذریعہ سارا معاملہ لاہور میں عباسی نامی افسر کو بھیج کر سمجھا بھی دیا ہے ۔اس لئے آپ اس سے رابطہ کرلیں تو کام ہو جائے گا۔ میں دوبارہ ساوتھ آفس گارڈن ٹاون پہنچا تو ایک نئے ڈائریکٹر نے چارج لے لیا تھا جس سے میری ملاقات ہوئی تو اس نے کہا کہ عباسی صاحب چھٹی پر ہیں وہ جب واپس آئیں گے تو ہی کچھ ہو گا۔ کوئی ایک ماہ ایسے ہی گزر گیا اور جب میں اگست سے شروع میں آفس گیا تو مسٹر عباسی سے میری ملاقات ہوئی اور میں نے اسے بتایا کہ آپ کو کراچی آفس سے کچھ کاغذات بھیجے گئے تھے ان کے حوالے سے بات کرنی ہے۔ اس پر اس نے کہا کہ مجھے نہ تو کسی نے کوئی کاغذات بھیجے ہیں اور نہ ہی یہ کیس لاہور میں حل ہو گا بلکہ کراچی آفس میں ہی اس کا ریکارڈ ہے اور وہیں پر اس کی پیروی کریں۔ اس طرح یہ معاملہ پچھلے ایک سال لاہور اور کراچی کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں جب کوئی محکمہ ساری ذمہ داری سائل پر ڈالتا ہے تو یقین جانیئے ایسے لوگوں کو اٹھا کر گوانتا نامو بے بھیج دینا چاہیئے تاکہ وہاں بیٹھ کر یہ لوگ اپنی نااہلی کا ماتم کرتے رہیں۔ میں حیران اس بات پر ہوں کہ جن لوگوں سے یہ محکمہ ساری زندگی پیسے جمع کرتا ہے اور جب بڑھاپے میں انھیں اپنے پیسوں کی ضرورت پڑتی ہے تو یہ لوگ مال بٹورنے میں لگ جاتے ہیں۔ دوسری طرف کراچی آفس میں بھی حالت یہی ہے۔ جہاں پورے ملیر برانچ کا آفس لوگوں کو اگلے دن کا کہہ کر مہینوں معاملہ حل نہیں کرتا ہے۔ پورے آفس میں کسٹمر سروسز کا کوئی پرسان حال نہیں اور نہ ہی دفتر میں موجود ٹیلی فون کوئی سنتا ہی ہے اور مہینوں لوگ اپنے کام کے لئے ان دفاتر کے چکر لگاتے ہیں اور رشوت کے بغیر کام نہیں ہوتا ہے۔ آخر تنگ آکر میرے استاد نے ڈی جی کو نوٹس بھیجا تو ایک ہفتہ کے اندر معاملہ حل ہو گیا۔ مطلب یہ کہ ملیر کراچی آفس کے لوگ مسلسل لاہور کی گردان لگا کر محض تنگ کرنا چاہتے تھے تاکہ بیچ کا راستہ نکلے جس میں سے کچھ پیسے انھیں کی جیب میں چلے جائیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں