پیارے پڑھنے والے! یہ جو میرے آج کے ہدف خصوصی ہیں، خیرسے ان موصوف کو پورا پاکستان جانتا ہے ۔ پہلے پہل تو یہ محض کالم لکھتے تھے لیکن پھر بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا اور جنرل پرویز مشرف کی فراخدلانہ پالیسی کے نتیجے میں راتوں رات پرائیویٹ چینلز اس طرح نمودار ہوئے جس طرح برسات کے بعد مینڈک ۔ جب تک آپ قلم کاغذ تک محدود ہوتے ہیں تو لوگوں کے سامنے آپ کے سو عیبوں پر پردہ پڑا رہتا ہے کہ لوگ آپ کو آپ کی تحریر کے توسط سے پہچانتے ہیں ۔ لیکن جب آپ سکرین پےجلوہ افروز ہوتے ہیں تو لوگ بولنے والے کو سنتے بھی ہیں دیکھتے بھی ہیں۔ لکھنے میں سہولت یہ ہوتی ہے کہ لکھنے کے بعد آپ قطع و برید سے کام لیتے ہیں ۔ لفظوں کی نشست و برخاست درست کر لیتے ہیں ۔فقرے کی زلفیں سنوار لیتے ہیں لیکن ٹاک شوز میں اور وہ بھی لائیو ٹاک شو جہاں آپ براہ راست براڈ کاسٹ ہو رہے ہوتے ہیں تو آپ کو بہت محتاط رویہ اختیار کرنا ہوتا ہے۔ آپ کے منہ سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ معنی رکھتا ہے ۔ لوگ آپ کو بہت باریک بینی سے جانچ رہے ہوتے ہیں ۔ وہ آپ کے لب و لہجے ، طرز تخاطب ، الفاظ کے چناؤ اور گفتگو کے بہاؤ کو خورد بین سے پرکھ رہے ہوتے ہیں ۔ آپ کی شخصیت کو جانچ رہے ہوتے ہیں تو صاحبو اس لائیو شو کے ایک نہی بہت سارے سیاپے ہیں۔
You have to be very careful.
موصوف نے اپنی عملی زندگی کا آغاز سمن آباد میں دہی بھلوں کے ریڑھی سے کیا ۔ بقول ان کے ان کے والد محترم نے بڑی ہٹلرانہ طبیعت پائی تھی۔ موصوف نے انکی حکم عدولی کی جس کے نتیجے میں انہیں گھر چھوڑنا پڑا اور انہیں دہی بھلوں کی ریڑھی لگانی پڑی لیکن انہوں نے پتا جی کے آمرانہ فیصلے کے خلاف سر جھکانے کی بجائے کامیاب بغاوت کی۔ یہاں تک میں انکے اصولی موقف کی تائید کرتا ہوں ۔ بعد ازاں وہ ایک موقر جریدے سے منسلک ہو گئے۔ گرچہ جرنلزم ان کا سبجیکٹ نہیں تھا اور وہ خود کو معاشیات کا طالب علم بتاتے ہیں اور کبھی کبھی اپنے ناظرین کو ایک تجاہل عارفانہ سے بتاتے رہتے ہیں کہ وہ بنیادی طور پر ماہر معاشیات ہیں بقول غالب
کچھ شاعری ذریعہ عزت نہیں مجھے۔
مطلب یہ کہ کوچہ صحافت میں ان کا ورود محض حادثتا” ہے۔ اپنے عہد صحافت کا آغاز انہوں نے کالم نویسی سے کیا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ کالم نویسی سے کئی دہائیوں سے وابستہ ہیں۔ سیاسی طور پے وہ ابتداء میں ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت سے متاثر ہوئے ۔ پیپلز پارٹی سے وابستگی بھی رہی اسی چکر میں ضیاع الحق کے دور میں شاہی قلعے میں بھی مقیم رہے لیکن آج کل وہ خود کو غیر جانبدار ڈیکلیئر کر چکے ہیں ۔ کچھ عرصہ پی ٹی آئی سے بھی وابستہ رہے لیکن پھر رفتہ رفتہ اس سے بھی طبیعت اچاٹ ہو گئی۔ بس یوں سمجھ لیجئے کہ چلتا ہوں تھوڑی دور ھر اک راہرو کے ساتھ والا معاملہ ہے۔ موصوف نے طبیعت ہی ایسی پائی ہے کہ زیادہ دیر تک کسی جگہ ٹک نہی پاتے ۔
خیر جب یہ نجی چینلوں کا مینا بازار چالو ہوا تو جہاں اور بہت سارے کالم نویس حضرات لنگ لنگوٹ کس کے اس میدان میں اترے تو یہ موصوف کسی سے کیوں پیچھے رہتے۔ شروع شروع میں بطور سنیر تجزیہ نگار ٹاک شوز میں شرکت فرماتے تھے بلکہ اب بھی کرتے ہیں لیکن پھر انہوں نے اپنے رتبے اور مقام کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنا ذاتی شو شروع کیا جس میں وہ ایک نوخیز حسینہ کو سامنے بٹھا کے اس کے سوالوں کے جواب دیتے ہیں ۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ یہ سوال بھی وہ خود ہی مرتب کرتے ہیں ۔
موصوف جب تک کالم نویسی فرماتے رہے تو لوگ ان کی شخصیت کے بہت سارے پہلوؤں سے بے خبر تھے لیکن جب موصوف مختلف ٹاک شوز میں بطور مبصر و تجزیہ نگار کے شامل ہوئے تو معلوم ہوا کہ ایسی چنگاری بھی اپنے خاکستر میں تھی۔ موصوف دوران شو جو انداز گفتگو روا رکھتے تھے اور ہیں بقول یوسفی صاحب کہ ان کا ھر جملہ ، جملہ تیموریہ ہوتا ہے یعنی لنگڑا اور حملہ آور۔ چھوٹے موٹے اینکر کی تو کیا مجال کہ ان سے اختلاف کرئے وہ اچھے اچھوں کو بولنے نہیں دیتے۔ بولنا تو دور کی بات کسی کی مجال نہیں کہ وہ کھانس بھی جائے۔ انداز گفتگو وہی غالب والا کہ “مستند ہے میرا فرمایا ہوا۔ ان سے اختلاف کرنا تو دور کی بات ہے کسی کی جرات نہیں کہ ان سے اتفاق بھی کر جائے ۔ لب و لہجہ جارحانہ ۔۔۔۔ ان کے انداز مکالمہ سے لگتا ہے کہ سلطان راہی کی روح ان میں حلول کر گئی ہے۔ بقول یوسفی ان کی بہادری،شجاعت سے گزر کر تہور اور تہور سے گزر کر حماقت کی ماورائ حدوں میں داخل ہو چکی تھی۔ شروع شروع میں کسی کی مجال نہیں تھی کہ جب وہ ٹوک رہے ہوں تو کوئی کلام کر جائے ۔ چہرے کے تاثرات ایسے جیسے گالی دینے کی بے پناہ خواہش کو شدت سے روکنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ موصوف گرچہ گالی نہیں دیتے تھے لیکن اس وقت مجسم گالی دکھائی دیتے ۔ دوران گفتگو وہ اپنی ڈھائی ڈھائی تولے کی انگوٹھیوں ملکہ پکھراج کی طرح اور لشکتی پشتکی گھڑی کی نمائش بھی کرنا نہیں بھولتے ۔ ٹاک شوز کا تماشہ عام طور پے شام کو شروع ہوتا ہے اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب موصوف خود کو غرق مئے ناب اولی’ کر چکے ہوتے۔ چنانچہ چہرہ فروغ مئے سے گلنار کرنے کے بعد بقول شاعر “لا پلا دے ساقیا پیمانہ پیمانے کے بعد ،
ہوش کی باتیں کروں گا ہوش میں آنے کے بعد ۔
چنانچہ عین اسوقت جب موصوف مکمل طور پر بادہ انگور کے زیر اثر ہوتے تو بطور مبصر و سنئیر تجزیہ نگار کے شوز میں شرکت فرماتے ہیں۔ دوران مکالمہ وہ اپنے موضوع و مخاطب کے لئیے اپنے لب و لہجے میں بحصہ مساوی تحقیر، تضحیک ، توہین اور طنز کی آمیزش فرماتے ہیں اور اس سے موضوع و مخاطب کی تواضع کرتے ہیں۔لیکن نون لیگ کے دور حکومت میں جس جی داری ، جرات ،بہادری بلکہ ناعاقبت اندیشی سے انہوں نے تنقید کی ہے وہ بھی قابل داد ہے۔ پروگرام کے بیشتر شرکاء ان کی دریدہ دینی سے بچنے کے لئیے اکثر پہلو تہی کر جاتے تھے اور ان کے منہ لگنے سے گریز کرتے لیکن پھر نون لیگ ہی کے ایک سینیٹر جو کہ مرحوم ہو چکے ہیں وہ بھی ایک ایسے ٹاک شو میں شرکت کر رہے تھے جس میں موصوف بھی تھے اور اپنے روایتی جارحانہ انداز میں اظہار خیال فرما رہے تھے۔ اب یہ تھا کہ مرحوم نون لیگی سینیٹر صاحب نے بھی ویسی ہی طبیعت پائی تھی اور اس کا نتیجہ وہی نکلا جو کہ بہت عرصہ پہلے نکلنا چاہیے تھا ۔ چنانچہ گفتگو تم اور تو کے دائرے سے نکل کے ماں بہن کی گالیوں تک پہنچ گئی۔ اور وہی ہوا جو کہ ہونا تھا ۔ ٹاک شو ہوسٹ کو مجبورا بریک لینی پڑی جو کہ درحقیقت وہ نہی لینا چاہتا تھا۔ اس واقعہ کے بعد جس کے لئیے ناظرین مدتوں سے منتظر تھے اس کے بعد گرچہ موصوف کے لب و لہجے میں کوئی خاص تبدیلی تو نہی ائی البتہ وہ کچھ محتاط ہو گئے ہیں ۔جب آپ بہت زیادہ دھونس، دھاندلی اور غیر ضروری جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو لوگ آپ کے خلاف ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ بہر حال موصوف نے اپنے طرز تکلم سے خلق خدا کو خود کے خلاف کر لیا اور وہ جو تھوڑی بہت عزت کالم نویسی سے کمائی تھی وہ بھی کب کی نزر ارسطو ہو چکی ہے۔ لوگ ان کو زیادہ سیریس نہیں لیتے ۔ کہتے ہیں کہ خاموشی جاہل کی جاھلیت پے پردے کی طرح ہوتی ہے لیکن یہ پردہ موصوف اپنی نوک زبان سے کب کا چاک کر چکے ہیں بلکہ اس کے چیتھڑے اڑا چکے ہیں۔
ویسے تو موصوف کے عجیب و غریب خیالات ہیں ۔ بقول ان کے ڈاکٹر اقبال کی حیثیت محض مقامی سطح کے شاعر سے زیادہ نہیں۔ لیکن اسی طرح پتا نہیں کیوں وہ اورنگ زیب عالمگیر کے خلاف ہاتھ دھو کے پڑے رہتے ہیں ۔ سکھوں کی تو اورنگ زیب عالمگیر سے ناراضگی اور رنج کی وجہ تو سمجھ آتی ہے لیکن موصوف کی اورنگ زیب سے اختلاف کی بظاہر کوئی وجہ سمجھ نہی آتی ۔ موصوف کو اعتراض یہ کہ وہ ٹوپیاں کیوں سیتا تھا اور والد صاحب کو قلعے میں نظر بند کیوں کیا تھا اور بھائی کی آنکھوں میں سلائیاں کیوں پھروا دیں تھیں۔ اس کی تو ہمیں بظاہر یہ ہی وجہ سمجھ آتی ہے کہ اورنگ زیب والد صاحب سے اختلاف کر کے سمن آباد میں دہی بھلوں کی ریڑھی نہی لگا سکتا تھا۔ بھائی کی آنکھوں میں سلائیاں اس لئیے پھروانی پڑیں تھیں کہ وہ اورنگ زیب کو تخت سے ہٹانے کے خواب دیکھ رہا تھا ۔ تخت سے ہٹانے کے خواب کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ اورنگ زیب کو خلد آشیانی بنانے کے منصوبے بنا رہا تھا ۔ اورنگ زیب عالمگیر کوئی جنگ اخبار میں کالم تو لکھتا نہیں تھا کہ کالم لکھ کے بھائی کے ارادوں کے سامنے بند باندھ دیتا ۔چنانچہ اس نے وہی کیا جو ایسے حالات میں بادشاہ کرتے ہیں۔
موصوف نے کافی عیار طبیعت پائی ہے ۔اس کا ثبوت یہ کہ باوجود اس کے وہ نشے میں ٹن ہوتے ہیں اور دوران گفتگو اول فول بکتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ عوام کو چریا بنانے کے لئیے کہ وہ کتنے بڑے عاشق رسول ہیں ۔ یہ اعلان کرتے جاتے ہیں کہ وہ صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی اپنا رہبر و رہنما مانتے ہیں۔ اکثر عالم جلال میں وطن عزیز چھوڑ جانے کی دھمکی بھی دیتے رہتے ہیں۔ نوٹ :کاش وہ اس دھمکی کو عملی جامہ پہنا دیتے۔
لیکن یہ وہ بھول جاتے کہ پردیس میں وہ محض دہی بھلوں کی ریڑھی ہی لگا سکتے تھے۔ یہ دانشوری کا ڈرامہ نہیں کر سکتے تھے ۔ کچھ عرصہ قبل ان کے فرزندان نا خلف نے سوشل میڈیا پے والد محترم کے کرتوت بیان کئیے کہ موصوف ان سے بچپن میں شراب منگوایا کرتے تھے اور نشے میں دھت ہو کر ان کی پھینٹی لگایا کرتے تھے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔
قد بت کے اعتبار سے کافی کم قامت ہیں اور ذہنی طور پر اس سے بھی کہیں زیادہ۔ غرور، تکبر ، بد تمیزی اور بدزبانی بحصہ مساوی ان کی شخصیت میں کوٹ کوٹ کے بھری ہوئی ہے ۔ اسی بد زبانی کی بدولت کئی مرتبہ مرمت بھی کروا چکے ہیں۔ لیکن چونکہ موصوف طبعاً چکنے گھڑے واقع ہوئے لہذا ایسی باتوں سے نہیں گھبراتے۔
خیر سے موصوف کا شمار پاکستان کے سنئیر کالم نگاروں میں ہوتا ہے ۔ یقیناَ آپ سمجھ گئے ہونگے کہ اس تحریر کا مرکز و محور کون ۔ عقلمند کے لئیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے دوسرا یہ کہ مجھے آپ کی ذہانت پے مکمل بھروسہ ہے ۔
وماعلینا الا البلاغ











