پیرا فورس بے لگام

میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حکومت کو اس کی بری کارکردگی سے بھی زیادہ نقصان پیرا فورس نے پہنچایا ہے۔ اس فورس نے کاروباری سرگرمیوں کو تالے لگانے کے ساتھ ساتھ ایک ایسا تاثر بھی چھوڑا ہے کہ یہ فورس مادر پدر آزاد ہے جس کے لئے کہیں بھی گھس کر قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مہنگائی، ملاوٹ اور قبضہ مافیا کے خلاف بنائی گئی اس فورس نے نہ تو مہنگائی کو کم کیا اور نہ ہی ملاوٹ اور قبضے ختم ہوئے ہیں۔ البتہ اس فورس کے ہاتھ تاجروں، کاروباری لوگوں سے ہوتے ہوئے اب صحافیوں کے گریبانوں تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ گزشتہ روز پیرا فورس اور کارپوریشن کے عملہ نے مشترکہ طور پر مویشیوں کی حویلیاں گرانے کا آپریشن کیا اور بڑی تعداد میں یہ لوگ اے ڈی سی انفورسمنٹ اور ایس ڈی او پیرا کی سربراہی میں چونگی امرسدھوکے علاقہ بٹ چوک پہنچے اور مویشیوں کے باڑے گرانا شروع کردئیے۔ اس وقت ایک رپورٹر عبدالصمد بھی کوریج کے لئے وہاں پہنچ گیا اور بغیر کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کئے اپنی کوریج شروع کردی اور واقعہ کے حوالے سے معلومات عوام الناس اور حکام بالا تک پہنچانے کی کوشش کی۔ اس نے آپریشن کے حوالے سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کاشف جلیل سے بات کرنے کی کوشش کی تو اس نے اس عمل کو اپنی شان میں گستاخی سمجھتے ہوئے رپورٹر کو حراست میں لینے کا حکم صادر کردیا ۔ جس پر پیرا فورس کے اہلکاروں نے رپورٹر کا مائیک اور کیمرہ چھین لیا اور زبردستی رپورٹر کو پکڑ کر قریب کھڑے ڈالے میں بٹھا دیا اور احتجاج کرنے پر رپورٹرکو ہراساں کیا اورپرچہ درج کرنے اور سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دیں۔ افسوس کی بات ہے کہ مذکورہ رپورٹر شوگر کا مریض ہے اور پیرا کے جوانوں نے تین چار گھنٹے اسے حبس بے جا میں رکھا اور پانی تک پینے کی اجازت نہیں دی ۔ عبدالصمد کی سخت گرمی میں کئی گھنٹے حبس بے جا میں رکھنے سے شوگر کی سطح کم ہونے لگی اور اس کی طبیعت بگڑنے لگی۔ اس واقعہ کا پتہ چلنے پر کچھ صحافی دوست وہاں پہنچے اور انھوں نے ایس ڈی او پیرا فورس سے بات چیت کی اور صحافی کو واگزار کروانے کے لئے کہا لیکن ان صاحب کا غرور آسمانوں پر تھا اور اس نے بڑی مشکل سے اپنے ڈالے کا شیشہ نیچے کیا اور کہا کہ میں اس رپورٹر کو نہیں چھوڑ سکتا۔جب اس سے جرم پوچھا گیا تو اس نے بڑی بے رخی سے کہا کہ یہ بات آپ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سے پوچھیں اور فوری گاڑی کا شیشہ اوپر کرکے اے سی کی ٹھنڈک میں بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر میں نشتر ٹاون پریس کلب کے عہدیداران وہاں پہنچنا شروع ہوگئے تھے ۔ انہوں نے اپنے ساتھی کے ساتھ ہونے والے سلوک پر اظہار یکجہتی کی تو پیرا کے لوگوں نے رپورٹر کو چھوڑنے کی بجائے جلدی سے اسے پیرا فورس کے آفس فردوس مارکیٹ منتقل کردیا اور بغیر کسی جرم کے رپورٹر کو ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ وہ صحافی مسلسل پیرا فورس کے افسران کو کہتا رہا کہ اس کا شوگر لیول گر رہا ہے چنانچہ اسے کچھ کھانے کو دیا جائے لیکن پیرا کے لوگوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ۔جس سے رپورٹر کی طبیعت غیر ہوگئی اور وہ زمین پر گر گیا ۔عبدالصمد کے وکیل اور صحافیوں نے احتجاج کیا جبکہ پیرا فورس کے لوگ سب کو دھمکیاں دیتے رہے۔ اسی دوران نشتر ٹاؤن پریس کلب کے چیف ایگزیکٹو فیاض رانا اور مقامی ایم پی اے کی مداخلت پر رپورٹر کی خلاصی ہوئی۔ اس واقعہ نے یہ بات تو واضح کردی ہے کہ پیرا فورس اب کسی قانون اور قاعدے کے تابع نہیں رہی ہے بلکہ یہ خود قانون بن چکی ہے۔ پیرا فورس کا ایک صحافی کے ساتھ ایسا رویہ ہے تو غریب ٹھیلے بانوں اور چھوٹے دکانداروں کے ساتھ یہ کیا رویہ رکھتے ہونگے اس کے ثبوت روزانہ سڑکوں پر چیختے چلاتے افراد کی دہائیوں سے مل جاتا ہے۔ کار سرکار میں مداخلت جیسے ہتھیار کو غیر منصفانہ طور پر استعمال کرنے پر اے ڈی سی اور پیرا فورس کے افسران کے خلاف کوئی کاروائی ہوگی یا اسی طرح سرکار کے کارندے عوام کی عزتوں اور مال سے کھیلتے رہیں گے۔ کیا اب پنجاب کے شہروں میں لوگوں کو اپنے روزگار کمانے اور پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کے لئے بھی پیرا فورس سے پوچھنا ہوگا اور اگر ایسا ہے تو پھر حکمرانوں کو سوچ لینا چاہیے کہ اقتدار کے جاتے ہی اسی فورس کے نوکیلے پنجے ان کے بھی گریبان تک پہنچیں گے۔ ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں کہ عمران خان اپنے وزارت عظمی کے دور میں جس پولیس کے بل بوتے پر مخالفین کے جیلوں کے اندر سے پنکھے اتروایا کرتا تھا آج وہی پولیس عمران خان کی تصویر لگانے پر بھی لوگوں کو گرفتار کرلیتی ہے۔ وزیر اعلٰی کو سمجھنا چاہیئے کہ پیرا جیسی فورسز اتنی منہ زور ہوچکی ہیں کہ کسی بھی شخص کو پکڑ کر اس کی تذلیل کرسکتی ہیں اور اس کی جیب بھی خالی کر سکتی ہیں ۔ ایسے اہلکار حکومت کا چہرہ ہوا کرتے ہیں اور اس چہرے کے ساتھ حکومت کرنے والے لوگ ایک دن تنہا رہ جاتے ہیں۔ میں تو اس بات پر حیران ہوں کہ پیرا فورس اور سٹی گورنمنٹ مویشیوں کے خلاف جو آپریشن کررہی تھی اگر وہ عوامی مفاد میں تھا تو اس کی کوریج کرنے میں کیا مسئلہ تھا ۔ ایسی کوریج سے تو ان کا قد بڑا ہونا چاہیئے جبکہ یہ خود اپنے آفیشل اور سوشل میڈیا پیج پر اپنے ایسے کارناموں کی ویڈیو اپلوڈ کرتے ہیں تو پھر ایک رپورٹر کی کوریج میں کیا مسئلہ تھا۔ حقیقت یہ کہ یہ لوگ اپنے کارناموں کا صرف ایک رخ دکھاتے ہیں جبکہ میڈیا دوسرا رخ بھی پیش کرتا ہے جو یقینا بھیانک چہرہ ہے جس کے اندر رشوت اور کک بیکس کی کہانیاں نظر آتی ہیں۔ وزیر اعلٰی تو خود اس بات کا اعتراف کر چکی ہیں کہ ان کی پولیس اور سرکاری محکمے کرپٹ ہیں جو لوگوں کی جیبیں خالی کرتے ہیں۔ یہاں بھی معاملہ ایسا ہی تھا کہ درجنوں کے حساب سے مویشیوں کے باڑے بنے ہوئے تھے اور ان باڑوں کو تحفظ بھی یہی حکومتی محکمے دیتے تھے اور اس تحفظ کی ماہانہ فیس بھی وصول کی جاتی تھی اور اس سچ کو چھپانے کے لئے پیرا فورس نے صحافی کو یرغمال بناکر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کسی ضابطے کے پابند نہیں ہیں۔ ایک صحافی کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے روکنا اور یرغمال بنائے رکھنا اور اس پر اپنی فرعونیت کا خوف پیدا کرنا بھی سنگين جرم ہے جس کے لئے وزیراعلٰی کو سخت نوٹس لینا چاہیئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب کسی نظام کو اٹھتی ہوئی آوازوں کو دبانا پڑ جائے تو پھر وہ نظام زیادہ دیر نہیں چلتا ہے۔ اس وقت پنجاب حکومت جن افسران کو اپنا دایاں بازو سمجھتی ہے وہی افسران وقت آنے پر حکومت کو گرانے کا سبب بنیں گے۔ اس واقعہ کے خلاف نشتر ٹاؤن پریس کلب سمیت دیگر صحافتی تنظیموں نے پیرا فورس اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے صحافی کے ساتھ غیر مناسب رویہ کی مذمت کی ہے اور وزیر اعلٰی سے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں