اسلام آباد:چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ ججز کو بیرونی دباؤ سے آزاد رکھنے کیلئے کوڈ آف کنڈیکٹ میں تبدیلی کی گئی ہے۔ ماتحت عدلیہ کے ججز کو بااختیار بنانا اور عوام کا عدلیہ پر اعتماد بحال کرنا عدلیہ کی ترجیح ہے۔
قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ضلعی عدالتیں نظام انصاف کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور عوام کو بروقت انصاف کی فراہمی ضروری ہے۔ ضلعی عدالتوں اور ہائیکورٹس کے درمیان رابطہ کاری مزید مضبوط بنانا ہوگی جبکہ تمام اداروں کو اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے ادا کرنا چاہئیں۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے بتایا کہ عدالتوں کو سولر نظام پر منتقل کیا جا رہا ہے اور انٹرنیٹ سمیت ای لائبریریوں کی سہولیات فراہم کرنے پر بھی کام جاری ہے۔ بلوچستان کے 18 اضلاع میں سولر پانی اور انٹرنیٹ کی سہولیات فراہم کی جاچکی ہیں جبکہ باقی اضلاع میں بھی ایک ماہ کے اندر سہولیات فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے جوڈیشل افسران کیلئے ہیلتھ انشورنس کی سہولت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خواتین اور بچوں کیلئے سہولت مراکز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔ رواں سال انصاف تک رسائی کے پروگرام کے تحت 3 ارب روپے سے زائد کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں جبکہ گزشتہ 20 برس میں اس پروگرام کے تحت 90 کروڑ روپے جاری ہوئے تھے۔
چیف جسٹس نے انصاف کی فراہمی کیلئے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے ججز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ماتحت عدلیہ کے ججز مشکلات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے دوران خطاب تالیاں بجانے سے بھی روک دیا اور کہا کہ یہاں موجود سب افراد ججز ہیں اور انہیں ججوں کی طرح پیش آنا چاہیے۔











