نیو یارک۔وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پاکستان کے لیے ریڈ لائن ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی اہم شریانیں ہیں اور انہیں کھلا رہنا چاہیے۔
نیویارک میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی امن و استحکام کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی قرارداد 2788 کی متفقہ منظوری کو عالمی امن کے لیے پاکستان کے عزم کا اظہار قرار دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال فروری میں خلیج اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث قیمتی جانوں کا نقصان ہوا اور عالمی معیشت متاثر ہوئی۔ پاکستان نے اسلام آباد میں واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لا کر کشیدگی کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی کوششوں کو بھی سراہا۔
شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں اور مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں دفاع استحکام اور امن کے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔
وزیراعظم نے بھارت کے ساتھ تنازع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ برس بھارتی جارحیت کے جواب میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔ انہوں نے کشمیر کے منصفانہ اور شفاف حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی حق خود ارادیت کی جدوجہد کی سفارتی سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارتی اقدامات کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ وزیراعظم نے خبردار کیا کہ پاکستان کا پانی روکنے یا موڑنے کی کوشش کو اعلان جنگ سمجھا جائے گا۔
فلسطین کے معاملے پر وزیراعظم نے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو اور جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ہو۔ انہوں نے غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیوں اور لبنان و شام کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت بھی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ جانوں کی قربانی دی اور 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا۔ انہوں نے افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ افغان سرزمین کو ٹی ٹی پی بی ایل اے اور دیگر گروہوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔
شہباز شریف نے اسلاموفوبیا میں اضافے کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی مساجد پر حملوں اور قرآن پاک کی بے حرمتی کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی منافرت کی دنیا میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معاشی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اصلاحات کے ذریعے معیشت کو مضبوط بنایا جا رہا ہے جبکہ زراعت اور صنعت میں جدت لانے ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے اور نوجوانوں کو اے آئی اور آئی ٹی کی مہارتیں دینے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے پاک چین اقتصادی راہداری اور خلیجی ممالک کے ساتھ نئے معاشی راستے کھولنے کا بھی ذکر کیا۔
وزیراعظم نے موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے شدید خطرات لاحق ہیں حالانکہ ان خطرات میں پاکستان کا کردار محدود ہے۔ انہوں نے ترقی یافتہ ممالک سے موسمیاتی ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ کیا۔











