پی ٹی آئی حکومت کے دہشت گردوں سے روابط کے شواہد موجود ہیں: خواجہ آصف

اسلام آباد:وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے دہشت گردوں سے روابط اور سہولت کاری کے متعدد شواہد موجود ہیں جبکہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے معاملے پر مجرمانہ بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ 6 اکتوبر کو ڈی آئی خان میں دہشت گردی کے واقعے میں 5 بے گناہ افراد جاں بحق ہوئے جن میں 2 کسٹمز اہلکار شامل تھے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور واقعے کی مذمت تک نہیں کی۔

وزیر دفاع نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی کی زد میں ہے لیکن صوبائی حکومت سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت اور طالبان کے درمیان روابط کے شواہد موجود ہیں اور مزید اہم فیصلوں کا وقت آگیا ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت گورنر راج سمیت تمام آئینی اور قانونی آپشنز پر غور کر رہی ہے تاہم گورنر راج آخری آپشن ہوگا۔ ان کے مطابق اگر دارالحکومت پر حملے کا راستہ اختیار کیا گیا تو حکومت اسلام آباد کے تحفظ کے لیے اقدامات کا حق رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دی ہے اور حکومت بغیر شرط مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق مشکل مذاکرات اگر شرائط کے ساتھ شروع ہوں تو پہلے ہی مرحلے میں ناکامی کا شکار ہوسکتے ہیں۔

خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کا بھی دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی میں موجود بعض رہنما سیاسی حل چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو سیاسی جماعت کا کردار ادا کرنا چاہیے اور ملک کو سیاسی کشیدگی کے ذریعے مزید نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں