کوہاٹ:وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ انہوں نے لانگ مارچ کے مطالبات کا ڈرافٹ سوشل میڈیا پر جاری کردیا ہے اور اگر ایک بھی نکتہ غیر قانونی یا غیر آئینی ثابت ہوا تو لانگ مارچ منسوخ کردیں گے۔
کوہاٹ میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ حکومت نے مسائل کے حل کے لیے تمام جمہوری اور آئینی راستے اختیار کیے تاہم انہیں کامیابی نہیں ملی۔ ان کے مطابق عمران خان سے ملاقات اور ان کے علاج سمیت دیگر معاملات پر بھی متعلقہ حکام سے رابطہ کیا گیا لیکن شنوائی نہیں ہوئی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جہاں انصاف کی توقع ہو لیکن انصاف نہ ملے وہاں آئین پُرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا احتجاج پُرامن ہے اور عمران خان سے ملاقات اور ان کے علاج کا مطالبہ غیر آئینی نہیں۔
سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو خیبرپختونخوا میں امن کے حوالے سے پالیسی دینے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی تجاویز پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں صوبے میں امن قائم کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت پختونوں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور عمران خان کی رہائی کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عمران خان کی صحت کو کوئی نقصان پہنچا تو جیل انتظامیہ اور متعلقہ حکام ذمہ دار ہوں گے۔











