کابل:افغانستان کے سابق وزیراعظم اور حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے طالبان حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی تبدیلی ناگزیر ہے اور اس کے آثار جلد سامنے آسکتے ہیں۔
آن لائن خطاب میں گلبدین حکمت یار نے کہا کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغان عوام کو اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے کرنا چاہیے۔ اقتدار عوام کو منتقل کرکے ایک نمائندہ کونسل کے ذریعے ملک کے سیاسی نظام اور آئندہ حکومت کا تعین کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ خارجہ و داخلہ پالیسی سمیت بجٹ اور جنگ و امن جیسے اہم فیصلے منتخب اداروں کے ذریعے ہونے چاہئیں۔ عوام کی رائے کسی بھی سیاسی نظام کی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
گلبدین حکمت یار نے طالبان کو جنگ یا امن میں سے ایک راستہ منتخب کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بیرونی حمایت سے قائم حکومتیں زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہ سکیں اور طالبان حکومت بھی مستقل طور پر قائم نہیں رہ سکے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ طالبان سیاسی تنہائی کا شکار ہیں جبکہ افغان عوام کو بے روزگاری اور غربت سمیت متعدد سنگین مسائل کا سامنا ہے۔











