پشاور: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد بیوروکریسی اور پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلے کیے گئے ہیں جبکہ 3 ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلز مستعفی ہوگئے اور پشاور میں سرکاری و نجی اسکول ایک روز کے لیے بند کردیے گئے ہیں۔
مستعفی ہونے والوں میں ایوب خان، عالم خان اور شاہ فیصل الیاس شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے استعفوں میں مؤقف اختیار کیا کہ ایسے اقدامات جمہوری اداروں اور عوام کے آئینی مینڈیٹ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین ملک کا سب سے بڑا قانون ہے اور تمام ریاستی ادارے اس کے پابند ہیں۔
دوسری جانب انتظامی سطح پر 6 ڈویژنوں کے کمشنرز تبدیل کردیے گئے جبکہ 4 کمشنرز کو او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے۔ کوہاٹ، پشاور، مردان، بنوں، ہزارہ اور ملاکنڈ ڈویژنوں میں نئی تعیناتیاں کی گئی ہیں۔
پولیس میں بھی بڑے پیمانے پر ردوبدل کیا گیا ہے۔ متعدد آر پی اوز، ڈی آئی جیز اور ضلعی پولیس افسران کے تبادلے کیے گئے جبکہ بعض افسران کو اسلام آباد میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ادھر ڈپٹی کمشنر پشاور نے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے ایک روز کے لیے بند رکھنے کا اعلامیہ جاری کردیا ہے۔











