میڈیکل کالجوں میں غلط داخلہ پالیسی، محکمہ صحت کو ڈاکٹروں کی کمی کا سامنا

لاہور ( رپورٹ۔ شاہد محمود) پنجاب کے ٹیچنگ ہسپتالوں میں جہاں میڈیکل افسران کی ہزاروں آسامیاں خالی پڑی ہیں وہیں پر پروفیسرز اور ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی بھی کمی شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔ سالہا سال سے ڈاکٹروں کی بھرتی نہ ہونے کی وجہ سے ان ہسپتالوں میں سنیئر کنسلٹنٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد بہت سے شعبے پروفیسرز کے بغیر ہی کام کررہے ہیں۔ آج سے پندرہ بیس سال پہلے ان ہی سرکاری ہسپتالوں میں پروفیسرز سمیت ایک ایک شعبہ میں کئی ایسوسی ایٹ پروفیسر اور اسسٹنٹ پروفیسر موجود ہوتے تھے لیکن محکمہ ہیلتھ کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پہلے جونیئر ڈاکٹروں کی حوصلہ شکنی کی گئی جس کی وجہ سے میڈیکل افسران و پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹس کی کمی محسوس کی جانے لگی اور یہی وہ جونیئر ڈاکٹرز تھے جو سپیشلائزیشن ٹریننگ کے بعد اسسٹنٹ پروفیسر اور بعد میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پروفیسر بنتے تھے۔ لیکن پچھلے کچھ عرصہ میں حکومتی پالیسیوں نے ہر سطح پر مایوسی پیدا کی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سنیئر ڈاکٹروں کی کھیپ اگلے ایک دو سال میں ریٹائرڈ ہو رہی ہے جس کے بعد ان کی جگہ لینے کے لئے ڈاکٹر ہی موجود نہیں ہیں۔ ان حالات میں بھی کوئی ٹھوس پالیسی بنانے کی بجائے سپیشلایزڈ ہیلتھ دوبارہ ایڈہاک پالیسی اپنا رہی ہے اور ریٹائرڈ ڈاکٹروں کو پروفیسر اور ایسوسی ایٹ پروفیسر بھرتی کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ ذرائع کے مطابق کل تیرہ شعبوں میں یہ بھرتی کی جائے گی جس کے لئے عمر کی حد پینسٹھ سال مقرر کی جارہی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر شعبے جراحی ( سرجری ) اور دل کے امراض کے ہیں جبکہ ماہر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پینسٹھ سال کی عمر میں آپریشن کرنے کا حوصلہ اور ہمت ویسے ہی جواب دے جاتی ہے جبکہ حکومت خانہ پری کے لئے یہ بھرتی کرنا چاہتی ہے۔ شعبہ صحت کے بعض ماہرین کہنا ہے کہ اس حوالے سے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ میڈیکل کالجوں کی حالیہ داخلہ پالیسی میں بڑی خامیاں ہیں جو سالہا سال گزرنے کے بعد اب بحرانی کیفیت پیدا کر چکی ہیں۔ سرکاری میڈیکل کالجوں میں 3250 نشستیں ہیں جو اس سال بڑھ کر تقریب چار ہزار کے قریب ہو گئی ہیں مگر داخلہ پالیسی کی وجہ سے ان میں سے صیادہ تر لڑکیاں آتی ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ستر فیصد خواتین ڈاکٹر بنتی ہیں۔ ان میں سے اکثریت میڈیکل کی پریکٹس نہیں کرتی ہیں جبکہ ہزار بارہ سو خواتین جو عملی زندگی میں آتی ہیں وہ بھی سپییشلائزیشن نہیں کرتی ہیں اور جو ماہر ڈاکٹر بنتی بھی ہیں تو وہ چند شعبوں یعنی گائنی، سکن اور میڈیسن کے شعبہ جات میں آتی ہیں اور ان میں سے بھی آدھے سے زیادہ ملک چھوڑ دیتی ہیں اور ان میں سے بھی پانچ چھ سو ہی شادی کے بعد عملی پریکٹس کرتی ہیں۔ اس پالیسی کی وجہ سے بڑا قومی سرمایہ اور وقت ضائع ہو جاتا ہے۔ شروع میں جب میڈیکل کالجوں میں داخلہ اوپن میرٹ پر ہوتا تھا تو لڑکیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس لئے میڈیکل شعبہ میں خواتین کی حوصلہ افزائی کیلئے 50 فیصد کوٹہ کر دیا گیا۔ بعد ازاں پھر اوپن میرٹ پالیسی لاگو کر دی گئی جس کا فائدہ لڑکیوں کو ہوا اور اس طرح میڈیکل شعبہ میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں کی نسبت کئی گنا بڑھ گئی جس کے اثرات اب سامنے آنے لگے ہیں۔ لہذا حالات کا تقاضا ہے کہ میڈیکل کالجز میں داخلہ پالیسی پر نظر ثانی کرتے ہوئے دوبارہ 50 فیصد کوٹہ مقرر کیا جائے۔ دوسری طرف پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں صرف وہی لوگ پڑھ سکتے ہیں جن کے پاس اچھا خاصا سرمایہ ہوتا ہے۔اور ان میں بھی لڑکیوں کا رحجان زیادہ نظر آتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں