کراچی:اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں 0.5 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 11.5 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کردیا۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں مہنگائی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ کمیٹی کے 10 میں سے 9 ارکان نے شرح سود بڑھانے کے حق میں ووٹ دیا۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق ایران امریکا کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے سے مہنگائی پر دباؤ بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں کمی کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں سے بیرونی کھاتے پر بھی دباؤ پڑے گا۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ رواں مالی سال ترسیلات زر 45 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے جبکہ برآمدات 32.5 سے 33 ارب ڈالر اور درآمدات 71 ارب ڈالر سے تجاوز کرسکتی ہیں۔
ان کے مطابق رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح 3.5 سے 4.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔











