اسلام آباد:پاکستان 7 ارب ڈالر کے 37 ماہ کے آئی ایم ایف پروگرام کے آخری سال میں داخل ہوگیا ہے اور موجودہ معاشی صورتحال کے باعث ملک کے پاس مسلسل آئی ایم ایف پروگراموں سے نکلنے کا اہم موقع موجود ہے۔
پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر 21.4 ارب ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں سمیت مجموعی مائع ذخائر 26.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جو تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔
پاکستان نے عالمی سرمایہ مارکیٹوں تک بھی دوبارہ رسائی حاصل کرلی ہے اور ستمبر میں 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ جاری کیے گئے جبکہ ترسیلات زر مالی سال 2026 میں ریکارڈ 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
آئی ٹی اور ڈیجیٹل خدمات کی برآمدات بھی تقریباً 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ تقریباً متوازن یا سرپلس رہا ہے۔ تاہم اشیا کی برآمدات میں خاطرخواہ اضافہ نہ ہونا اور تجارتی خسارہ اب بھی بڑے چیلنجز ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر برآمدات بڑھانے اور بنیادی معاشی کمزوریوں کو دور کرنے میں پیش رفت ہوئی تو پاکستان آئی ایم ایف پروگراموں پر بار بار انحصار سے نکل سکتا ہے۔











