اسلام آباد:پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ حکومت سے مذاکرات دو اہم نکات پر ناکام ہوئے۔ ایک بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور دوسرا خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر اتفاق تھا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ مذاکرات کے دو دور ہوئے جو بغیر نتیجے کے ختم ہوئے۔ پی ٹی آئی کا مؤقف تھا کہ عمران خان سے ملاقات کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا جبکہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے معاملے پر سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائدین کے امن جرگے کی تجاویز کو شامل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ امن جرگے میں مختلف سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائدین نے شرکت کی تھی اور اس کی دستاویز پر مسلم لیگ ن اور اے این پی سمیت دیگر جماعتوں کے دستخط موجود ہیں۔ ان کے مطابق قبائلی علاقوں کے مسائل کے حل کے لیے مقامی لوگوں اور سیاسی جماعتوں سے مشاورت ضروری ہے۔
سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ مذاکرات میں رات 8 بجے تک کئی نکات پر اتفاق ہوگیا تھا تاہم رات گئے عمران خان کے معالجین تک رسائی اور خیبرپختونخوا کے معاملے پر اتفاق نہ ہوسکا۔ ان کے مطابق 72 گھنٹے میں بعض علاقوں میں ایمرجنسی کے معاملے پر بھی بات ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ معاہدہ ہونے کی صورت میں عمران خان سے وکلا اور اہل خانہ کی ملاقاتیں بحال کرنے اور تمام اسیران سمیت خواتین اور معمر افراد کی رہائی پر بھی مثبت پیش رفت ہوئی تھی۔ تاہم عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان تک رسائی اور خیبرپختونخوا میں متفقہ لائحہ عمل پر اتفاق نہ ہونے سے مذاکرات ٹوٹ گئے۔
پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل نے کہا کہ لانگ مارچ کے سالار وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ہیں اور پارٹی ان کا ساتھ دے گی۔ خیبرپختونخوا سے متعلق ہر فیصلہ تمام فریقوں کی مشاورت سے ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اب بھی مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کے حق میں ہے اور قربتوں کو دوریوں میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے متعدد فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں اسلام آباد ہائیکورٹ تک پہنچنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔











