مولانا کو 2024 کے انتخاب میں شکست کے بعد 1971 یاد آیا، طلال چوہدری

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ دہشت گردی کے خلاف اقدام ہے اور وفاقی حکومت کا صوبے میں سیاسی انتظام قائم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

جڑانوالہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے مولانا فضل الرحمٰن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ وہ پی ٹی آئی حکومت نہ ہونے کی صورت میں صوبے میں اپنا حصہ مانگیں گے۔

انہوں نے کہا کہ گورنر راج کا فیصلہ تمام متبادل راستوں پر غور کے بعد کیا گیا اور اس کا مقصد اتحاد سازی یا سیاسی مفادات کا حصول نہیں بلکہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے۔

طلال چوہدری نے مولانا فضل الرحمٰن کے 1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے متعلق بیانات پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے تمام سیاسی فریقین پر زور دیا کہ وہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے متحد ہوں اور دہشت گردی کے خاتمے میں کردار ادا کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں