اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر نے کہا ہے کہ نئی آٹو پالیسی کے تحت لگژری گاڑیوں کے علاوہ دیگر تمام گاڑیاں سستی ہوں گی جبکہ مقامی سطح پر گاڑیوں اور پرزہ جات کی تیاری کو فروغ دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہارون اختر نے کہا کہ نئی پالیسی میں گاڑیوں کی برآمدات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ پہلے سال برآمدات پر مالیت کا 5 فیصد ریوارڈ دیا جائے گا جبکہ مینوفیکچرنگ کے لیے مقررہ برآمدی ہدف پورا نہ کرنے پر جرمانہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ 5 سال میں 6 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ نئی پالیسی میں 45 اضافی حفاظتی معیارات شامل کیے گئے ہیں۔
ہارون اختر کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس ایک فیصد، رینج ایکسٹینڈڈ گاڑیوں پر 6 فیصد اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں پر 9 فیصد ہوگا۔ چارجنگ اسٹیشنز کی مشینری پر سیلز ٹیکس ایک فیصد اور کسٹمز ڈیوٹی صفر ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ نئی آٹو پالیسی کی منظوری ابھی آئی ایم ایف سے ہونا باقی ہے جبکہ مقامی آٹو پارٹس مینوفیکچررز کو بھی برآمدات کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔











