نیویارک:ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں چاہتا تاہم پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا اور اپنے دفاع کیلئے کسی کی اجازت کا منتظر نہیں رہے گا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزیشکیان نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام خود دہشت گردی کا شکار رہے ہیں۔
ایرانی صدر نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کی جامعات، طبی مراکز، اسکولوں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تاہم ایران نے اپنے دفاع میں کی گئی کارروائی کے دوران شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا۔
مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ایران اپنی طاقت کو جارحیت یا علاقائی بالادستی کیلئے استعمال نہیں کرنا چاہتا اور دوسروں کی عدم سلامتی میں اپنی سلامتی تلاش نہیں کرتا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران نہ جوہری ہتھیار چاہتا ہے اور نہ ہی پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے اپنے حق سے دستبردار ہوگا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اسرائیل کی جوہری تنصیبات کا معائنہ کیوں نہیں کیا جاتا جبکہ اسرائیل جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا رکن نہیں ہے۔
غزہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فلسطین عالمی برادری کے ضمیر پر ایک کھلا زخم ہے اور جب تک قبضہ، جارحیت اور ناانصافی جاری رہے گی مزاحمت بھی جاری رہے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ایران مذاکرات اور بات چیت کیلئے تیار ہے تاہم طاقت کی زبان قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے دفاع کیلئے کسی کی اجازت یا منظوری کا منتظر نہیں ہوگا۔











