واشنگٹن:امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے 7 روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کردی ہے جبکہ بعض بیرونی مشیر انہیں آئندہ مڈٹرم انتخابات کے دوران مارشل لا نافذ کرنے اور وفاقی انتخابات پر کنٹرول حاصل کرنے کے اقدامات کا مشورہ دے رہے ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ نومبر کے مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بمباری شروع ہوسکتی ہے۔ امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کو یقین نہیں کہ تہران ان کے مطالبات تسلیم کرے گا۔
دوسری جانب سی این این اور دی اٹلانٹک کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کے بعض بیرونی مشیر آئندہ مڈٹرم انتخابات کے لیے مارشل لا نافذ کرنے اور وفاقی انتخابات پر کنٹرول حاصل کرنے کے امکان پر زور دے رہے ہیں۔
سی این این کے مطابق ان مشیروں کو انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے امکان پر تشویش ہے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ کے بعض دیگر مشیر گزشتہ کئی ماہ سے انہیں انتخابات میں دھاندلی سے متعلق بے بنیاد نظریات سے دور رکھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جبکہ ایک دوسرے گروپ کی جانب سے انتخابات پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اقدامات کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
دی اٹلانٹک کے مطابق ٹرمپ کے دیرینہ ساتھی اور وکیل پیٹر ٹکٹن نے مڈٹرم انتخابات کے دوران مارشل لا نافذ کیے جانے کے امکان کا ذکر کیا ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مارشل لا کے نفاذ سے متعلق یہ تجاویز ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کوئی باقاعدہ اعلان یا منظور شدہ پالیسی نہیں بلکہ بیرونی مشیروں کی جانب سے دی جانے والی تجاویز اور میڈیا رپورٹس میں سامنے آنے والے دعوے ہیں۔











